پاکستان میں مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں کو دیا گیا جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ریلیف 30 جون، 2026 کو ختم ہو گیا، جس کے بعد آٹو کمپنیوں نے قیمتوں میں اضافہ شروع کر دیا ہے۔
سب سے پہلے انڈس موٹر کمپنی (ٹویوٹا پاکستان) نے کرولا کراس ہائبرڈ کی قیمت میں تقریباً 14 لاکھ روپے اضافہ کیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت تقریباً 85 لاکھ روپے سے بڑھ کر ایک کروڑ روپے سے زائد ہو گئی۔
تاہم کمپنی نے کرولا کراس کے پیٹرول ویریئنٹس کی قیمتیں برقرار رکھی ہیں۔
بیس ویریئنٹ کی قیمت تقریباً 73 لاکھ روپے جبکہ ہائی گریڈ ویریئنٹ کی قیمت تقریباً 80 لاکھ روپے برقرار ہے۔
ٹویوٹا پاکستان کے ایک عہدے دار نے واضح کیا کہ جی ایس ٹی ریلیف ختم ہونے کے باعث صرف ہائبرڈ ویریئنٹس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پیٹرول ماڈلز کی قیمتیں تبدیل نہیں کی گئیں۔
ٹیکس ریلیف کیا تھا؟
وفاقی حکومت نے 2021 میں سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں ترمیم کے ذریعے پاکستان میں تیار ہونے والی ہائبرڈ اور دیگر نیو انرجی گاڑیوں کے لیے ٹیکس ریلیف متعارف کرایا تھا۔
اس کے تحت 1800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد جی ایس ٹی نافذ تھا اور 1800 سے 2500 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد جی ایس ٹی لاگو تھا۔
اس رعایت کی مدت 30 جون کو ختم ہو گئی۔ حکومت نے تاحال اس حوالے سے کوئی نیا نوٹیفیکیشن تو جاری نہیں کیا تاہم آٹو سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ رعایت کی مدت ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب 1800 سی سی تک گاڑیوں پر 18 فیصد اور 1800 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 25 فیصد جی ایس ٹی بحال ہونے کا امکان ہے۔
فنانشل کمپنی ٹاپ لائن سکیورٹیز نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ ٹیکس ریلیف ختم ہونے کے بعد مقامی ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
مارکیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟
آن لائن آٹو مارکیٹ پاک ویلز کے اندازے کے مطابق مقامی طور پر اسمبل ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں 10 سے 20 لاکھ روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
آٹو سیکٹر کے ماہر محمد فیصل شاہ خٹک نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر صارفین اور مجموعی مارکیٹ پر پڑے گا۔
ان کے مطابق ’پاکستان میں گذشتہ چند برسوں کے دوران خصوصاً پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ہائبرڈ گاڑیوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، لیکن اگر قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو اس مارکیٹ کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں خریداروں کا رجحان درآمد شدہ ہائبرڈ گاڑیوں کی طرف بھی منتقل ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں کے درمیان قیمت کا فرق پہلے کے مقابلے میں کم رہ جائے گا۔
ان کے بقول ’ااگر کرولا کراس کی مثال لی جائے تو درآمد شدہ ماڈل تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ روپے میں دستیاب ہے جبکہ مقامی ہائبرڈ کی قیمت اب تقریباً ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے، اس لیے بعض خریدار درآمد شدہ گاڑی کو ترجیح دے سکتے ہیں، جس کا اثر مقامی صنعت پر پڑ سکتا ہے۔‘
آٹو انڈسٹری کے ماہر مشود خان کے مطابق ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کو 2021 سے 2026 تک پاکستان کی آٹو پالیسی کے تحت ٹیکس رعایت حاصل رہی، جو اب ختم ہو چکی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ حکومت جلد نئی آٹو پالیسی متعارف کرانے والی ہے، جس سے واضح ہو سکے گا کہ ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مزید کوئی رعایت برقرار رکھی جاتی ہے یا نہیں۔
ان کے مطابق نئی پالیسی میں آٹو پارٹس پر بھی 15 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
انہوں نے کہا ’اگر مقامی سطح پر استعمال ہونے والے پارٹس پر بھی 15 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کر دیا جاتا ہے تو مقامی اسمبلرز کے لیے گاڑیاں تیار کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا کیونکہ سابقہ پالیسی میں ان پارٹس پر بھی ٹیکس ریلیف موجود تھا۔‘
کن گاڑیوں کی قیمت کتنی بڑھ سکتی ہے؟
پاک ویلز کے تخمینے کے مطابق جی ایس ٹی میں ممکنہ اضافے کے بعد مختلف ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں درج ذیل اضافہ متوقع ہے۔
ٹویوٹا کرولا کراس ہائبرڈ - تقریباً 14 لاکھ روپے (اعلان ہو چکا)
ہیول H6 ہائبرڈ - تقریباً 17 لاکھ روپے
ہونڈا HR-V ہائبر - ڈتقریباً 14 لاکھ روپے
جائیکو J5 - تقریباً 10 سے 13 لاکھ روپے
ہنڈائی ایلانٹرا ہائبرڈ - تقریباً 15 لاکھ روپے
ہنڈائی ٹوسان ہائبرڈ - تقریباً 18 لاکھ روپے