شہباز شریف کی ایرانی صدر سے گفتگو: امن کوششیں، پائیدار معاہدے پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے عید کے موقع پر ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کی موجودہ صورت حال، جاری سفارتی کوششوں اور ممکنہ معاہدے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم نے ایکس پر جاری بیان میں اس امید کا اظہار کیا کہ جاری امن کوششیں جلد ایک پائیدار معاہدے کی صورت اختیار کریں گی، جس سے خطے میں استحکام، خوشحالی اور تعاون کو فروغ ملے گا۔
Exchanged warm Eid ul-Adha greetings with my dear brother, President Dr. Masoud Pezeshkian of Iran, during a most cordial telephone conversation this evening.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) May 27, 2026
President Pezeshkian graciously appreciated Pakistan’s sincere efforts for peace in the region and acknowledged the…
گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کے ساتھ سعودی عرب، قطر اور ترکی کی حمایت کا بھی اعتراف کیا۔
شہباز شریف نے حالیہ بحران میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان ایک مخلص دوست اور ہمسایہ ہونے کے ناطے ہمیشہ ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا۔‘
دونوں رہنماؤں نے خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
ایران کے ساتھ معاہدے پر امریکہ ابھی تک مطمئن نہیں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے تاہم امریکہ اب تک اس سے مطمئن نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران بہت زیادہ سنجیدہ ہے، وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی تک وہ اس مقام تک نہیں پہنچے۔ ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں، لیکن ہو جائیں گے۔ یا تو معاہدہ ہوگا، یا پھر ہمیں (ادھورا) کام مکمل کرنا پڑے گا۔‘
تہران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کا ابتدائی فریم ورک کا مسودہ تیار: ایرانی ٹی وی
ایران کے سرکاری ٹی وی نے بدھ کو کہا ہے کہ اسے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے سے متعلق ایک ابتدائی اور غیر سرکاری فریم ورک کا مسودہ حاصل ہوا ہے، جو دونوں ملکوں کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
روئٹرز نے ایرانی ٹی وی کے حوالے سے بتایا کہ اس فریم ورک کے تحت ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح تک بحال کرے گا، جبکہ امریکہ ایران کے قریب موجود اپنی افواج کو واپس بلائے گا اور بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق اس مجوزہ فریم ورک فوجی جہازوں شامل نہیں ہیں اور اس میں یہ تصور کیا گیا ہے کہ ایران عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کا انتظام کرے گا۔
تاہم یہ معاہدہ ابھی حتمی شکل میں نہیں ہے اور تہران کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قدم سے پہلے ’واضح اور قابل تصدیق یقین دہانی‘ چاہتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر 60 دن کے اندر حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے طور پر منظور کیا جا سکتا ہے۔
ابھرتا ہوا یہ امریکہ-ایران مفاہمتی معاہدہ ان بالواسطہ مذاکرات کا نتیجہ ہے جو فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد شروع ہوئے تھے جس میں پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم ثالث کا کردار ادا کیا۔
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے بدھ کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ’اچھی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں‘ اور یہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ’ریڈ لائنز‘ واضح طور پر مقرر کر دی ہیں۔
ترجمان کے مطابق امریکہ اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں امریکی مفادات اور سکیورٹی ترجیحات کو نظر انداز نہ کیا جائے اور صدر ٹرمپ اس حوالے سے بالکل واضح موقف رکھتے ہیں۔
ادھر صدر ٹرمپ نے بدھ ہی کو پی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے بدلے کسی قسم کی پابندیوں میں نرمی نہیں دی جائے گی۔
ایران جنگ: ٹرمپ کی کابینہ اجلاس صدارت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اپنی کابینہ کا اہم اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا تھا جب ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے، لیکن کئی اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں۔
ٹرمپ کو امید ہے کہ اس معاہدے سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے گا اور وہ یہ اعلان کر سکیں گے کہ ایران کی جوہری صلاحیت کو مؤثر حد تک کم کر دیا گیا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ادھورا ہے اور اس سے ایران مزید مضبوط ہو کر سامنے آ سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کو صرف اپوزیشن ہی نہیں بلکہ اپنے ہی کچھ رپبلکن ساتھیوں کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔
ان ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدے کی شرائط ایران کے حق میں زیادہ نرم ہیں اور یہ سابق صدر باراک اوباما کے جوہری معاہدے سے ملتی جلتی ہیں، جسے ٹرمپ خود ختم کر چکے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ادھر پیر کو امریکی حملوں کے بعد صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ ’دفاعی کارروائی‘ تھی، جبکہ ایران نے اسے بداعتمادی کی علامت قرار دیا ہے۔
ممکنہ معاہدے کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو سکتا ہے، جس کے بدلے اسے پابندیوں میں نرمی ملے گی، تاہم ایران نے ابھی تک اس پر واضح رضامندی ظاہر نہیں کی۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ جنگ بندی لبنان پر بھی لاگو ہو گی جہاں اسرائیل مسلسل جنوبی علاقوں میں کارروائیاں کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ان کی فوج لبنان میں اپنی کارروائیاں مزید تیز کر رہی ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مزید ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والے ابراہم معاہدوں میں شامل ہوں، مگر ماہرین کے مطابق یہ ہدف فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
خطے کے اتحادی ممالک کو اگرچہ ایران کے ممکنہ برتری پر تشویش ہے لیکن اس کے باوجود وہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس تنازع کا کوئی آسان حل موجود نہیں۔ (اے پی)