امریکہ کے ایران پر تازہ حملے، معاہدے کے لیے مذاکرات بھی جاری

امریکی فوج کے مطابق اس نے دفاعی اقدام کے طور پر ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں اور میزائل لانچ سائٹس پر حملے کیے ہیں۔

12 مئی، 2026 کو امریکی بحریہ کی جانب سے فراہم کردہ اس تصویر میں یو ایس ایس ابراہم لنکن سے نو مئی، 2026 کو جنگی طیارے پرواز بھر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی افواج نے پیر کو بتایا کہ اس نے جنوبی ایران میں تازہ حملے کیے ہیں جن میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں اور میزائل لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج نے ان کارروائیوں کو دفاعی اقدامات قرار دیا۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور وزیر خارجہ دوحہ میں قطر کے وزیراعظم کے ساتھ امریکہ  سے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہے تھے۔

تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں نے فوری پیش رفت کے امکانات کو کم کر کے دکھایا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ سفارت کاری کو ہر موقع دے گا اس سے پہلے کہ ایران سے ’کسی اور طریقے‘ سے نمٹا جائے۔

انہوں نے کہا ’ہمارے سامنے ایک کافی ٹھوس تجویز ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جائے، ایک حقیقی، اہم اور وقت محدود مذاکراتی عمل شروع کیا جائے جو جوہری معاملے پر ہو اور امید ہے ہم اسے کامیاب بنا سکیں گے۔‘

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ’اچھی جا رہی ہے‘، لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ ناکام ہوئیں تو نئے حملے کیے جائیں گے۔

انہوں نے لکھا ’یہ یا تو سب کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا بالکل کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔‘

چند گھنٹے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے تازہ حملے کیے ہیں تاکہ ’ایرانی افواج کے خطرات سے اپنے فوجیوں کو بچایا جا سکے۔‘

ترجمان نیوی کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا ’سینٹرل کمانڈ جنگ بندی کے دوران ضبط و تحمل کے ساتھ اپنے فوجیوں کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

اسی روز ایران نے اعلان کیا کہ اس نے ایک ’دشمن‘ سٹیلتھ ڈرون کو نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں نے بتایا کہ یہ واضح نہیں کہ ڈرون کہاں سے آیا تھا۔

فارس نیوز نے حکام کے حوالے سے کہا ’یہ ہماری جانب سے پیغام ہے کہ اب مزید سٹیلتھ ڈرون خلیج فارس کی فضاؤں میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔‘

خطے کی کشیدگی کے ایک اور اشارے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے پیر کو کہا کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے تیز کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیلی فوج نے بعد میں اعلان کیا کہ وہ لبنان کی مشرقی بقاع وادی اور دیگر علاقوں میں حزب اللہ کے ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔

اسرائیل اور لبنان نے اپریل کے وسط میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا لیکن اسرائیل نے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جنہیں وہ حزب اللہ کے خلاف دفاعی اقدامات قرار دیتا ہے اور جو اس جنگ بندی کا حصہ نہیں تھا۔

دوحہ میں ایرانی وفد کی ملاقات کے بارے میں ایک عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا کہ بات چیت کا محور آبنائے ہرمز اور ایران کے ذخیرے میں موجود انتہائی افزودہ یورینیم تھا جبکہ ایران کے مرکزی بینک کے گورنر بھی شریک تھے تاکہ منجمد ایرانی فنڈز کی ممکنہ بحالی پر بات کی جا سکے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقا ئی نے پہلے کہا تھا کہ جوہری معاملات پر بات چیت صرف فریم ورک معاہدے کے بعد ہوگی۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ میں ان کا بنیادی مقصد ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے ذریعے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔

تہران مسلسل اس کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کے ایسے کوئی منصوبے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا