تہران کسی بھی جارحیت کا ضرور جواب دے گا: ایرانی وزارت خارجہ
ایران نے منگل کو ایک دن پہلے کیے گئے امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
امریکی فوج نے پیر کو جنوبی ایران میں کیے گئے حملوں کو دفاعی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ نشانے پر میزائل لانچنگ سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں شامل تھیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے ان حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ واشنگٹن کو ’تمام نتائج کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔‘
وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ یہ حملے امریکہ کی ’بدنیتی اور ناقابلِ اعتماد رویے‘ کی علامت ہیں اور ایران کسی بھی جارحیت کا ضرور جواب دے گا۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر سید مجید موسوی نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ جاری امن مذاکرات کے دوران امریکہ کی جانب سے مبینہ جنگ بندی خلاف ورزیوں کے بعد جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں موسوی نے جاری سفارتی عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’دشمن کے ساتھ مذاکرات سراسر نقصان ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’فضائیہ، جو ایران کے سٹریٹیجک بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگرامز کی نگرانی کرتی ہے، انتہائی چوکس ہے اور تیز و فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار اور سپریم کمانڈر کے آخری احکامات کی منتظر ہے۔‘
ایران کی سرکاری میزان نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اس نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز اور ایک لڑاکا طیارے کو مار گرایا اور پسپا کر دیا تاہم واقعے کا وقت واضح نہیں کیا گیا۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان پیش رفتوں کا مذاکرات پر کیا اثر پڑے گا۔
یہ حملے اس وقت کیے گئے جب ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف مذاکرات کے سلسلے میں قطر گئے ہوئے تھے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ بات چیت ’اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔‘
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار منگل کو دو روزہ دورے پر نیو یارک پہنچ گئے ہیں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار 26 سے 28 مئی تک امریکہ میں رہیں گے۔
بیان کے مطابق اپنے دورے کے دوران اسحاق ڈار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے مباحثے میں شرکت کریں گے، جس کا موضوع ’بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ، اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری، اور اقوام متحدہ کے مرکزی عالمی نظام کو مضبوط بنانا‘ ہے۔
یہ اجلاس سلامتی کونسل کی چینی صدارت میں منعقد ہو رہا ہے۔
دورے کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جبکہ اقوام متحدہ کے سینیئر حکام سے بھی ان کی ملاقاتیں متوقع ہیں۔
ایران سے معاہدے میں چند دن لگ سکتے ہیں: روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو ایران پر تازہ حملے کے بعد کہا ہے کہ کہ ممکنہ معاہدے کے لیے مذاکرات میں ’چند دن‘ لگ سکتے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک روز قبل امریکی افواج نے جنوبی ایران میں وہ کارروائیاں کیں جنہیں واشنگٹن نے ’دفاعی حملے‘ قرار دیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکی حملے ان اہداف کے خلاف کیے گئے جن میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیاں اور میزائل لانچنگ سائٹس شامل تھیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہنی چاہیے۔
انڈین شہر جے پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا: ’آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا ہے، اور وہ ایک نہ ایک طریقے سے کھلی رہے گی۔‘
افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کیا جائے گا یا ایران کے ساتھ مل کر تباہ کیا جائے گا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افزودہ یورینیم فوراً امریکہ کے حوالے کیا جائے گا یا ایران کے ساتھ مل کر تباہ کر دیا جائے گا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’افزودہ یورینیم (جوہری گرد!) یا تو فوراً امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ اسے امریکہ لے جا کر تباہ کیا جا سکے، یا ترجیحاً ایران کے ساتھ مل کر اور باہمی رابطے کے تحت، اسی جگہ تباہ کیا جائے گا۔
’یا کسی اور قابلِ قبول مقام پر، جبکہ اٹامک انرجی کمیشن، یا اس کے مساوی ادارہ، اس عمل اور اس موقع کا گواہ ہوگا۔‘
امریکہ کے ایران پر تازہ حملے، معاہدے کے لیے مذاکرات بھی جاری
امریکی افواج نے پیر کو بتایا کہ اس نے جنوبی ایران میں تازہ حملے کیے ہیں جن میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی کشتیوں اور میزائل لانچ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج نے ان کارروائیوں کو دفاعی اقدامات قرار دیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور وزیر خارجہ دوحہ میں قطر کے وزیراعظم کے ساتھ امریکہ سے ممکنہ معاہدے پر بات چیت کر رہے تھے۔
تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں نے فوری پیش رفت کے امکانات کو کم کر کے دکھایا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ سفارت کاری کو ہر موقع دے گا اس سے پہلے کہ ایران سے ’کسی اور طریقے‘ سے نمٹا جائے۔
انہوں نے کہا ’ہمارے سامنے ایک کافی ٹھوس تجویز ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جائے، ایک حقیقی، اہم اور وقت محدود مذاکراتی عمل شروع کیا جائے جو جوہری معاملے پر ہو اور امید ہے ہم اسے کامیاب بنا سکیں گے۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ’اچھی جا رہی ہے‘، لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ ناکام ہوئیں تو نئے حملے کیے جائیں گے۔
انہوں نے لکھا ’یہ یا تو سب کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا بالکل کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔‘
چند گھنٹے بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے تازہ حملے کیے ہیں تاکہ ’ایرانی افواج کے خطرات سے اپنے فوجیوں کو بچایا جا سکے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان نیوی کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا ’سینٹرل کمانڈ جنگ بندی کے دوران ضبط و تحمل کے ساتھ اپنے فوجیوں کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
اسی روز ایران نے اعلان کیا کہ اس نے ایک ’دشمن‘ سٹیلتھ ڈرون کو نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں نے بتایا کہ یہ واضح نہیں کہ ڈرون کہاں سے آیا تھا۔
فارس نیوز نے حکام کے حوالے سے کہا ’یہ ہماری جانب سے پیغام ہے کہ اب مزید سٹیلتھ ڈرون خلیج فارس کی فضاؤں میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔‘
خطے کی کشیدگی کے ایک اور اشارے میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے پیر کو کہا کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے تیز کرے گا۔
اسرائیلی فوج نے بعد میں اعلان کیا کہ وہ لبنان کی مشرقی بقاع وادی اور دیگر علاقوں میں حزب اللہ کے ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔
اسرائیل اور لبنان نے اپریل کے وسط میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا لیکن اسرائیل نے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جنہیں وہ حزب اللہ کے خلاف دفاعی اقدامات قرار دیتا ہے اور جو اس جنگ بندی کا حصہ نہیں تھا۔
دوحہ میں ایرانی وفد کی ملاقات کے بارے میں ایک عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا کہ بات چیت کا محور آبنائے ہرمز اور ایران کے ذخیرے میں موجود انتہائی افزودہ یورینیم تھا جبکہ ایران کے مرکزی بینک کے گورنر بھی شریک تھے تاکہ منجمد ایرانی فنڈز کی ممکنہ بحالی پر بات کی جا سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقا ئی نے پہلے کہا تھا کہ جوہری معاملات پر بات چیت صرف فریم ورک معاہدے کے بعد ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ میں ان کا بنیادی مقصد ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کے ذریعے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔
تہران مسلسل اس کی تردید کرتا رہا ہے کہ اس کے ایسے کوئی منصوبے ہیں۔