ایران امریکہ مذاکرات یا ’تاروف‘

مذاکرات میں ایران کی سفارت کاری کی چال ڈھال کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے تہران اور اصفہان کے بازاروں میں قیمتی قالینوں کی سودے بازی جیسا طریقۂ کار اپنایا ہوا ہے۔

23 اگست 2022 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں شہری 29 ویں ہینڈ میڈ کارپٹ (ہاتھ سے بنے قالینوں کی) نمائش کا دورہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)

ان دنوں اسلام آباد میں نہ تو سینکڑوں غیر ملکی صحافیوں کا جھرمٹ ہے۔ گوری خواتین صحافی شلوار قمیص پہنے سڑکوں پر انٹرویو دیتی یا پان کھاتی بھی نظر نہیں آ رہی ہیں، اور نہ ہی سیرینا لگژری ہوٹل، جہاں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کی تاریخی ملاقات ہوئی تھی، اب اس کے گرد و نواح میں سکیورٹی کے کوئی گھیرے نظر آتے ہیں۔

ہوٹل کے کیفے میں جانے کا اتفاق ہوا، معمول کا سا سماں تھا۔ ویٹر نے ہماری پیشانی پر نمایاں تجسس کو غالباً بھانپ لیا اور اس دن کی ملاقات کا آنکھوں دیکھا حال اور گیان بانٹنا شروع ہو گیا۔

امریکہ اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ بندی کے تین دن بعد ہی امن مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ پاکستان کا کلیدی ثالثی کردار۔

اپریل کے اوائل، ان دنوں موسمِ بہار سرسبز شہر کو تازہ ہواؤں کی آغوش میں لیے ہوئے تھا۔ آج کل شہر مارگلہ پہاڑیوں پر سورج سے اگلتی گرمی کی لپیٹ میں ہے۔

جنگ موسمِ سرما میں، امن مذاکرات موسمِ بہار میں اور اب گرمی کا راج ہے۔ ان بدلتے موسموں میں ایران امریکہ کے درمیان امن مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔

ٹرمپ کی دھمکیوں کے سفر میں ایران کے ساتھ بلا کسی ابہام ڈیل کے عندیے ہیں۔ ایران کے طویل مطالبات کی فہرست ہے۔ بذریعہ اسلام آباد مطالبات کبھی واشنگٹن تو کبھی تہران پہنچتے ہیں۔

مطالبات کی نوک پلک سنوارنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ٹرمپ جلد از جلد ڈیل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کبھی گھڑی کی مثال دیتے ہوئے ایران کو دھمکی دیتے ہیں کہ وقت کی سوئیاں حرکت میں ہیں، فیصلہ کرنے میں تاخیر نہ کریں۔

ادھر ایران بھی معاہدے کا خواہشمند ہے۔ عارضی معاہدے کے بجائے طویل المدتی سٹریٹجک فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا، محسوس کرانا کہ جنگ میں جیت ان کی ہوئی ہے اور وقت بھی ان کے ساتھ ہے۔

سفارت کاری کے داؤ پیچ میں ٹرمپ کی بےصبری کو بھانپتے ہوئے اپنے لیے بہتر سے بہتر ڈیل کا متلاشی ہے۔

مذاکرات میں ایران کی سفارت کاری کی چال ڈھال کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے تہران اور اصفہان کے بازاروں میں قیمتی قالینوں کی سودے بازی جیسا طریقۂ کار اپنایا ہوا ہے۔

کاروبار کے لین دین میں صدیوں پرانی شائستگی سے بھری سماجی رسم رائج ہے جسے ’تاروف‘ کہا جاتا ہے۔

آپ دکان میں داخل ہوں، قالین پسند کریں۔ قیمت دریافت کریں تو دکاندار کہتا ہے آپ کے لیے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ یہ آپ کی موجودگی سے زیادہ قیمتی نہیں۔

آپ منع کرتے ہیں، دکاندار اصرار کرتا ہے۔ آپ کو بھی اندازہ ہے کہ دکاندار کو قیمت ادا کرنی ہے اور دکاندار کو بھی۔ بالآخر قیمت ادا ہو جاتی ہے لیکن اس رسم کو نبھانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

’تاروف‘ کا مفہوم یوں سمجھ لیجیے کہ جو کچھ واضح طور پر کہا جاتا ہے وہ شاذ و نادر ہی حقیقت ہوتا ہے۔ یعنی ایران کے مذاکراتی مطالبات گویا ایک متوازی حقیقت میں ہیں جہاں سطحی اور اندرونی گفتگو مختلف ہے۔

کاروبار کی سودے بازی میں ’تاروف‘ رسم دھوکہ نہیں سمجھی جاتی بلکہ ایک مختلف آپریٹنگ نظام کی شناخت رکھتی ہے۔

یوں تو ایران کی خواہشیں ہزار، لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان چار پانچ مطالبات سٹریٹجک نوعیت کے ہیں۔

ایران امریکہ سے خطے میں، بشمول لبنان، غیر جارحیت کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کی ضمانت چاہتا ہے کہ آئندہ امریکہ یا اسرائیل ماضی کی طرح ایران پر حملہ آور نہ ہوں۔

آبنائے ہرمز، جو دنیا بھر کے لیے بیس20 فیصد تیل کی ترسیل کی رسدگاہ ہے، ایران اس پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو جس طرح جنگ کے دوران استعمال کیا گیا، وہ کسی ’نیوکلیر ہتھیار‘ سے کم نہ تھا۔

جنگ کی قیمت کو بڑھا دیا۔ خلیجی ریاستوں اور دنیا بھر کو قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ جنگ سے قبل والی پوزیشن تو قابل قبول ہو سکتی ہے لیکن ٹول ٹیکس ہرگز نہیں۔

یہاں تک کہ ایران کے بڑے اتحادی چین کو بھی یہ شرط قبول نہیں ہو سکتی، جو ایران کے 90 فی صد تیل کا خریدار ہے۔

تیسرا بڑا اور اہم مطالبہ ایران پر عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ہے جو امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے مختلف ادوار میں عائد کی گئی ہیں۔

یہ ایک پیچیدہ عمل ہے اور ایران ان اثاثوں کو بحال دیکھنا چاہتا ہے جو ’اسلامی انقلاب‘ کے بعد منجمد ہوئے تھے۔ اندازہ 100 ارب ڈالرز کے لگ بھگ کا ہے، وہ بھی اس زمانے کی ویلیو کے مطابق۔ غالباً اس کی مشروط بحالی حل طلب لگتی ہے۔

ادھر ٹرمپ اور امریکہ کے لیے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ایران نہ تو نیوکلیر طاقت بن سکتا ہے اور نہ ہی نیوکلیر ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ اگر ایران اپنے نیوکلیر پروگرام کو 20 سال تک ’حقیقی‘ معنوں میں معطل کر دے تو ڈیل ممکن ہے۔ ماضی میں ٹرمپ کا مطالبہ ایران کے نیوکلیر پروگرام کا مکمل خاتمہ رہا تھا، تو ایک لچک تو ضرور ہے۔

ٹرمپ چاہتے ہیں کہ انھیں اوبامہ حکومت کے دور میں ایران کے ساتھ ہوئے نیوکلیر معاہدے سے بہتر ڈیل مل جائے۔ لگ بھگ ایک دہائی قبل خود ٹرمپ نے اس معاہدے کو ختم کیا تھا۔

اوبامہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اب وہ بہتر ڈیل کے ذریعے اپنے چاہنے والوں کو سینہ ٹھونک کر بتانا چاہتے ہیں کہ انھوں نے کس طرح اپنی جماعت رپبلیکن کی حریف ڈیموکریٹک پارٹی کو زیر کیا ہے۔

سامنے مڈ ٹرم الیکشن ہیں، ٹرمپ کی مقبولیت ایران جنگ کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے تو ٹرمپ کی سیاسی ساکھ بھی داؤ پر ہے۔

شائد ایران نیوکلیر پروگرام پر دس10 سے 15 سال کی معطلی پر رضامند ہو سکتا ہے اگر اسے مجموعی طور پر بہتر ڈیل حاصل ہو رہی ہو۔

ایران نے تو ماضی میں بھی نیوکلیر معاملے پر لچک دکھائی ہے۔ اوبامہ کی حکومت کے دوران امریکہ سے نیوکلیر معاہدہ ہو یا ابھی ٹرمپ کی حالیہ حکومت کے دوران نیوکلیر مذاکرات ہوں، جنھیں اسرائیل اور امریکہ کے حملوں نے سبوتاژ کیا۔

ایران کی قیادت کے پاس اپنے عوام کے لیے ایک جواز بھی موجود ہے۔ (ماضی میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے نیوکلیر ہتھیاروں کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا۔)

نیوکلیر معاملے میں پیچیدہ مرحلہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ٹھکانے لگانا ہے۔ ایران کے حلقوں میں اطلاعات گردش میں ہیں کہ یہ ذخائر جنگ کے دوران ٹنوں مٹی کے ملبے کے نیچے دفن ہیں اور اس کو نکالنا خود ایک گھمبیر مسئلہ ہے۔

ایران ان ذخائر کو کسی غیر ملک نہیں بھیجنا چاہتا۔ وہ خود اس عمل کو اپنے ہی ملک میں انجام دینا چاہتا ہے۔ غالباً انٹرنیشنل اٹامک انرجی اتھارٹی کے زیر نگرانی یہ عمل ممکن ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت ایران کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف، جو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے دستِ راست سمجھے جاتے ہیں، اور جنرل احمد واحدی، جو پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ ہیں، ان کے ہاتھ میں ہے اور سیاسی چہرے صدر مسعود پزشکیان اور تجربہ کار سفارت کار وزیر خارجہ عباس عراقچی ہیں۔

پاسداران آئندہ دنوں میں کتنی لچک دکھائیں گے، وہ امریکہ اور ایران کے مابین کسی بھی معاہدے کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔ جہاں ان کو جیت کے تصور نے گھیرا ہوا ہے، وہاں تلخ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے دوران ایران کا شدید نقصان بھی ہوا ہے۔

ایران کی قیادت کے پاس اپنی 47 برس کی گلوبل تنہائی سے نکلنے کا بہترین موقع ہے۔

ہمسایہ خلیجی ممالک، متحدہ عرب امارات کو چھوڑ کر، بہتر تعلقات ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے حملوں کے باوجود انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایران کو سعودی عرب کے ساتھ مستقبل میں تعلقات استوار کرنے کا نادر موقع ہے۔

ماننا ہے کہ ایران کو ان تعلقات کی بہتری کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی صورت میں ایک بہترین لیڈر کی چوائس ملی ہے۔

مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کا مشکل ترین وقت میں ساتھ کھڑا ہونا، اور ایک بااعتماد ثالث کے طور پر کردار ادا کرنا۔ (امریکہ ایران ثالثی میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایک آرکیٹیکٹ کے طور پر اہم کردار۔ مذاکرات کے نازک مرحلے کے دوران فیلڈ مارشل کا ایران کا سرکاری دورہ، اہم اعلی ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں۔)

مانا جا رہا ہے کہ ایران اور امریکہ آہستہ آہستہ ایک مفاہمتی فریم ورک کے قریب ہیں۔ ایران میں قالینوں کی سودے بازی میں ایک طویل گفتگو ہوتی ہے۔

دکاندار گاہک کو کئی مرتبہ قہوے پیش کرتا ہے، سودے بازی کو طول دیتا ہے۔ ماننا یہ ہے کہ اگر اس سودے بازی میں آپ اپنی گھڑی پر نظر ڈال لیں تو گویا اب مزید بھاؤ تاؤ کی گنجائش نہیں رہتی۔

دکاندار بھانپ جاتا ہے کہ آپ اس کی طے کردہ قیمت ادا کریں گے۔ اس وقت محسوس یوں ہوتا ہے کہ ایران کو شاید یہ ادراک ہو چلا ہے کہ ٹرمپ نے گھڑی کی جانب دیکھ لیا ہے۔

تاہم ایران کو بھی سمجھنا چاہیے کہ گھڑی کی سوئیاں مسلسل حرکت میں ہیں، کہیں بہتر ڈیل کا وقت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


اویس توحید معروف صحافی اور لکھاری ہیں جو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ پر مہارت رکھتے ہیں۔

اویس نے گزشتہ تین دہائیوں پر محیط ایشیا میں جنگ اور تنازعات کی رپورٹنگ کی ہے اور افغانستان میں طالبان کے عروج و زوال کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی تنازع کی رپورٹنگ بھی کی ہے۔ بی بی سی ورلڈ سروس، وی او اے، اے ایف پی اور سی ایس مانیٹر کے لیے کام کیا ہے- اور پاکستان کے کئی ٹی وی چینلز کےسربراہ بھی رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر