امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قبرص کے پرچم بردار کنٹینر جہاز ایم وی جی ایف ایس گلیکسی پر کھلے عام حملہ کیا، جس کے بعد امریکی فورسز نے اس ہفتے ایران پر تیسری مرتبہ حملے کیے ہیں۔
سینٹ کام نے اتوار کو ایکس پوسٹ میں کہا کہ جہاز کے عملے کا سول رکن لاپتہ ہے جب کہ آگ لگنے اور انجن روم کو شدید نقصان پہنچنے کی وجہ سے جہاز اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکتا۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق تجارتی جہازوں پر پہلے کیے گئے حملوں پر ایران کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے بعد اسے مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنے کا ایک اور موقع دیا گیا، لیکن وہ ایک بار پھر اس میں ناکام رہا۔
سینٹ کام نے مزید کہا کہ ’اس کے جواب میں امریکہ ایران کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے شہری جہاز رانوں اور تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی اس کی صلاحیت مسلسل کم کر رہا ہے۔ یہ حملے مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔
At 7:15 p.m. ET today, U.S. Central Command forces began launching the third round of strikes this week against Iran after Islamic Revolutionary Guard Corps forces blatantly attacked M/V GFS Galaxy, a Cyprus-flagged container ship transiting the Strait of Hormuz. A civilian crew…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 11, 2026
دوسری جانب ایران نے ایک جہاز پر یہ کہہ کر فائرنگ کرنے کے بعد کہ وہ طے شدہ راستے سے ہٹ کر بلا اجازت سفر کر رہا تھا، اتوار کو آبنائے ہرمز کو ’اگلے حکم تک‘ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے جواب میں امریکہ نے حملے کیے، جن سے پہلے ہی کمزور جنگ بندی مزید خطرے میں پڑ گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش اس تنازع میں تازہ ترین شدت کی علامت ہے، جو امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک بن چکا ہے۔
تہران کا اصرار ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت منظم کرے گا، جب کہ واشنگٹن اس راستے سے بلا روک ٹوک آمدورفت کا مطالبہ کررہا ہے۔ دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریبا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے اتوار جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنا کر روکا جو منظور شدہ بحری راستہ استعمال کرنے کی بار بار ہدایات کو نظر انداز کر رہا تھا۔
پاسداران انقلاب نے کہا، ’اس واقعے کے بعد آبنائے ہرمز اگلے حکم تک اور اس خطے میں امریکی مداخلت ختم ہونے تک بند رہے گی اور کسی جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے سرکاری ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے ک آبنائے ہرمز کے ساحل پر واقع دو شہروں، بندر عباس اور سیریک میں دھماکے ہوئے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’ایران نے غلط فیصلہ کیا۔ اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔'