پاکستان نے اتوار کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان حالیہ واقعات کا انتہائی تشویش کے ساتھ جائزہ لے رہا ہے، جن کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ’پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی کے لیے فوری اقدامات کریں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔
’پاکستان اپنی جانب سے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔‘
سرحدی چوکیوں اور آئل پلیٹ فارم پر حملہ: کویت
کویت کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے حملوں کے نئے تبادلے کے دوران اس کی سرحدی چوکیوں اور سمندر میں قائم آئل پلیٹ فارم کو نشانہ بنایا گیا۔
کویت کی وزارت دفاع نے اتوار کو کہا تین سرحدی چوکیوں اور سمندر میں قائم ایک آئل پلیٹ فارم کو نشانہ بنایا گیا۔
وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا ’ملک کے شمالی علاقے میں واقع تین زمینی سرحدی چوکیوں پر بزدلانہ حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا۔‘
بیان میں حملے کے ذمہ دار یا اس کے مقام آغاز کی وضاحت نہیں کی گئی۔
وزارت نے مزید بتایا ’کویت آئل کمپنی کے زیرِ انتظام سمندر میں واقع ایک ڈرلنگ پلیٹ فارم کو ایک دشمن ڈرون نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مالی نقصان ہوا جبکہ ایک کارکن زخمی ہو گیا۔‘
آبنائے ہرمز درجنوں ایٹمی بموں سے زیادہ اہم: ایران
ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے اتوار کو کہا کہ آبنائے ہرمز ’درجنوں ایٹمی بموں سے زیادہ اہم‘ ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اثنا کے مطابق محسن رضائی نے عزم ظاہر کیا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔
’یہ سٹریٹجک آبی گزرگاہ درجنوں ایٹمی بموں سے بھی زیادہ اہم ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس کا تحفظ کرے گا۔‘
مغربی ممالک ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہیں۔
تاہم تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پُرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔ اے ایف پی
ایران میں 140 جگہوں پر حملے
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک کمرشل بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے بعد اس نے ایران میں 140 مقامات پر حملے کیے ہیں۔
یہ امریکی فورسز کا ایران پر ایک ہفتے میں تیسرا حملہ تھا۔
سینٹ کام نے اتوار کو ایکس پوسٹ میں کہا جہاز کے عملے کا ایک سول رکن لاپتہ ہے جب کہ آگ لگنے اور انجن روم کو شدید نقصان پہنچنے کی وجہ سے جہاز اپنا سفر جاری نہیں رکھ سکتا۔
امریکی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے ایران میں جن مقامات کو نشانہ بنایا ان میں میزائل اور ڈرون سائٹس، نیوی تنصیبات، باردوی مواد کے ڈپو، کمیونیکیشن شامل ہیں۔
At 7:15 p.m. ET today, U.S. Central Command forces began launching the third round of strikes this week against Iran after Islamic Revolutionary Guard Corps forces blatantly attacked M/V GFS Galaxy, a Cyprus-flagged container ship transiting the Strait of Hormuz. A civilian crew…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 11, 2026
امریکی سینٹ کام کے مطابق تجارتی جہازوں پر پہلے کیے گئے حملوں پر ایران کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے کے بعد اسے مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنے کا ایک اور موقع دیا گیا لیکن وہ ایک بار پھر اس میں ناکام رہا۔
سینٹ کام نے مزید کہا ’اس کے جواب میں امریکہ ایران کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے شہری جہاز رانوں اور تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی اس کی صلاحیت مسلسل کم کر رہا ہے۔
’یہ حملے مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز پھر بند
ایران نے امریکہ سے معاہدے کو ختم کرتے ہوئے تاحکم ثانی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ’یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا: یا اپنی بات پر قائم رہیں یا پھر اس کی قیمت چکانے کے لیے تیار رہیں۔ حقیقت دستک دے رہی ہے۔‘
The era of one-sided deals is OVER. We told you: keep your word or pay the price. Reality is knocking. pic.twitter.com/B97ogCYGaj
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) July 12, 2026
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اس تنازع میں تازہ ترین شدت کی علامت ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک بن چکا ہے۔
تہران کا اصرار ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت منظم کرے گا جب کہ واشنگٹن اس راستے سے بلا روک ٹوک آمدورفت کا مطالبہ کررہا ہے۔
دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کا تقریبا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
پاکستان کی تحمل کی اپیل
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا اتوار کو ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی حالیہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے فریقین پر حالیہ کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا ہے۔
ایران کے جوابی حملے
ایرانی اہداف پر امریکی حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ہمسایہ ممالک پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔
اے ایف پی کے صحافیوں اور مقامی حکام کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں خطرے کے سائرن بجنے اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے اتوار جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نے ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنا کر روکا جو منظور شدہ بحری راستہ استعمال کرنے کی بار بار ہدایات کو نظر انداز کر رہا تھا۔
پاسداران انقلاب نے کہا ’اس واقعے کے بعد آبنائے ہرمز اگلے حکم تک اور اس خطے میں امریکی مداخلت ختم ہونے تک بند رہے گی اور کسی جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے سرکاری ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ آبنائے ہرمز کے ساحل پر واقع دو شہروں، بندر عباس اور سیریک میں دھماکے ہوئے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر لکھا ’ایران نے غلط فیصلہ کیا۔ اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘