کیا برطانیہ کا قومی قرضہ ملک کو ڈبو دے گا؟

ایک رپورٹ کے مطابق بنیادی اندازہ یہ ہے کہ 2070 کی دہائی کے وسط تک برطانیہ کا قومی قرض بڑھ کر قومی آمدنی کے 300 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

ایک سائیکل سوار 18 جون 2026 کو لندن شہر میں بینک آف انگلینڈ اور رائل ایکسچینج کے سامنے سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)

برطانیہ میں آفس فار بجٹ ریسپانسبلٹی (او بی آر) کی جانب سے منگل کو شائع کی گئی فسکل رسکس اینڈ سسٹین ایبلٹی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کا قومی قرضہ ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جو ’غیر پائیدار اور مسلسل بڑھ‘ رہا ہے۔

سالانہ قومی آمدنی (جی ڈی پی) کے تناسب سے دیکھا جائے تو 2005 کے بعد قومی قرض تقریباً تین گنا بڑھ چکا ہے۔ اس وقت قرض قومی آمدنی کے تقریباً ایک تہائی کے برابر تھا، جبکہ اب یہ 100 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے۔

یہ شرح امیر ممالک کی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، جو تقریباً 50 فیصد بنتی ہے۔ اگرچہ جاپان میں قرض کا حجم قومی آمدنی کے 200 فیصد سے زیادہ ہے، امریکہ میں 120 فیصد اور فرانس اور اٹلی دونوں میں 100 فیصد سے زائد ہے۔

او بی آر کے مطابق قرض میں اضافے کی ایک بڑی وجہ تین بیرونی جھٹکے ہیں: عالمی مالیاتی بحران، کوویڈ-19 کی وبا اور یوکرین جنگ۔

تاہم اس ہفتے شائع ہونے والی رپورٹ کا مقصد ماضی کا تجزیہ نہیں بلکہ آئندہ 50 برسوں، یعنی 2070 کی دہائی تک، کی صورت حال کا جائزہ لینا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ قومی قرضہ کس سمت جا سکتا ہے اور اسے کیسے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

 پیش گوئی کیا ہے؟

رپورٹ کے مطابق بنیادی اندازہ یہ ہے کہ 2070 کی دہائی کے وسط تک قومی قرض بڑھ کر قومی آمدنی کے 300 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ طویل مدت میں حکومتی اخراجات قومی آمدنی کے تناسب سے بڑھنے کی توقع ہے، جبکہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی صرف قومی آمدنی کی رفتار کے ساتھ بڑھے گی۔

 

صحت پر اخراجات جی ڈی پی کے آٹھ سے بڑھ کر 13 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ آبادی کی بڑھتی ہوئی عمر ہے، تاہم نئے اور مہنگے علاج معالجے، اور این ایچ ایس کی مجموعی معیشت کے مقابلے میں کم پیداواری صلاحیت بھی اس میں کردار ادا کریں گی۔

اخراجات میں ایک اور بڑا اضافہ ریاستی پنشن کی مد میں متوقع ہے، جو پانچ سے بڑھ کر نو فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

اس کی ایک وجہ پنشن یافتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہے، حالانکہ ریاستی پنشن کی عمر پہلے 68 اور پھر 69 سال کرنے کی منصوبہ بندی موجود ہے۔

دوسری اہم وجہ ’ٹرپل لاک‘ پالیسی ہے، جس کے تحت ریاستی پنشن کی شرح قومی آمدنی کی شرح نمو سے زیادہ رفتار سے بڑھتی رہتی ہے۔

 ٹرپل لاک کیا ہے؟

ٹرپل لاک وہ پالیسی ہے جس کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں حمایت کرتی ہیں۔

اس کے تحت ریاستی پنشن میں ہر سال مہنگائی، اجرتوں میں اضافے یا 2.5 فیصد میں سے جو شرح سب سے زیادہ ہو، اس کے مطابق اضافہ کیا جاتا ہے۔

یعنی پنشن یافتگان کو ہر سال کم از کم 2.5 فیصد اضافہ ضرور ملتا ہے اور اگر مہنگائی یا اجرتوں میں اضافہ اس سے زیادہ ہو تو اسی بلند شرح کے مطابق پنشن بڑھائی جاتی ہے۔

 کیا مالیاتی قواعد قرض کو بڑھنے سے نہیں روکتے ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

او بی آر حکومت کے مالیاتی قواعد کی نگرانی کرنے والا ادارہ ہے، لیکن یہ قواعد صرف اگلے تین برسوں تک محدود ہوتے ہیں۔

ان قواعد کے مطابق جی ڈی پی کے تناسب سے قرض کو پیش گوئی کے تیسرے سال تک کم ہوتا ہوا دکھایا جانا چاہیے۔

مگر یہ ایک ’رولنگ فورکاسٹ‘ ہوتی ہے، یعنی شرط صرف یہ ہے کہ تیسرے سال کا متوقع قرض دوسرے سال کے تخمینے سے کم ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حقیقی معنوں میں قرض کو لازماً کم ہونا ہی چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ طویل المدتی تخمینے کے ابتدائی دو عشروں میں قرض اور جی ڈی پی کا تناسب تقریباً مستحکم رہتا ہے۔

اصل تشویش ناک منظرنامے 2045 کے بعد ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں۔

بدترین صورت حال میں قومی قرض قومی آمدنی سے دس گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔

قرض کیوں اہمیت رکھتا ہے؟

اگرچہ یہ سنگین مسائل ابھی دور نظر آتے ہیں، لیکن قومی قرض کی طویل المدتی پائیداری آج بھی اہمیت رکھتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر قرض دینے والوں کو حکومت کی مالی حیثیت پر شبہ ہو تو وہ زیادہ شرح سود کا مطالبہ کرتے ہیں۔

او بی آر کی رپورٹ میں اس بات کو نسبتاً خشک سرکاری انداز میں یوں بیان کیا گیا ہے:

’یہ سب اس یقین کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ غیر پائیدار مالی نتائج، جو شاید کئی برس بعد سامنے آئیں، دراصل آج کا مسئلہ ہیں، کل کا نہیں۔‘

امریکہ جیسے بڑے ملک کے لیے شاید یہ اتنا بڑا مسئلہ نہ ہو، لیکن برطانیہ میں شرح سود پہلے ہی اوسط سے زیادہ ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت کو قرضوں پر زیادہ سود ادا کرنا پڑتا ہے، جس سے مزید اخراجات اور مزید قرض لینے کا ایک چکر شروع ہو سکتا ہے۔

اس کا اثر عام شہریوں پر بھی پڑتا ہے کیونکہ انہیں گھروں کے رہن (مارگیج) پر زیادہ ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔

ہزاروں افراد اس وقت اس صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ وہ ایسے مقررہ شرح والے مارگیج معاہدوں سے نکل رہے ہیں جو انتہائی کم شرح سود کے دور میں کیے گئے تھے۔

مصنف کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اینڈی برنم کی جانب سے چانسلر کے انتخاب کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اگر وہ ایسا شخص منتخب کرتے ہیں جس پر قرض دہندگان کو اعتماد نہ ہو تو شرح سود مزید بڑھ سکتی ہے۔

 کیا کیا جا سکتا ہے؟

اگر قومی قرض کو طویل مدت میں قومی آمدنی کے تناسب سے مستحکم رکھنا ہے تو دو ہی راستے ہیں:

 یا تو حکومتی اخراجات کو موجودہ اندازوں سے کم کیا جائے؛

 یا ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے۔

زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ آئندہ حکومتوں کو دونوں اقدامات کا امتزاج اختیار کرنا پڑے گا۔

اخراجات کے حوالے سے سب سے واضح ہدف ٹرپل لاک ہے، جس نے ریاستی پنشن کو مناسب سطح تک پہنچانے میں اپنا مقصد پورا کیا ہے، لیکن مستقبل میں اسے فی کس جی ڈی پی جیسے بہتر پیمانے سے منسلک کیا جانا چاہیے، جو وقت کے ساتھ جی ڈی پی میں اضافے سے آگے نہیں ہوگا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر