ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ 15ویں روز بھی جاری ہے۔
امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس
16ویں دن کے احوال کے لیے یہاں کلک کریں
رات 9 بج کر 30 منٹ: نیٹو کا مشرق وسطیٰ کی جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں، جرمن حکومت
جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ترجمان نے پیر کو کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کا ’نیٹو سے کوئی تعلق نہیں ہے‘ اور یہ ’نیٹو کی جنگ نہیں ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو جنوبی کوریا، فرانس، چین اور برطانیہ سمیت ممالک سے آبنائے ہرمز میں محفوظ گزر گاہ کو یقینی بنانے میں مدد کرنے کا مطالبہ کیا، جسے ایران نے امریکہ اور امریکہ کے اتحادیوں کی آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے بعد میں نیٹو اتحادیوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے فنانشل ٹائمز اخبار کو بتایا کہ اگر اس کے اراکین نے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی کوششیں نہ کیں تو اتحاد کو ’بہت خراب‘ مستقبل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مرز کے ترجمان اسٹیفن کورنیلیس نے باقاعدہ پریس بریفنگ میں بتایا کہ ’نیٹو علاقے کے دفاع کے لیے ایک اتحاد ہے‘ اور موجودہ صورتحال میں ’نیٹو کو تعینات کرنے کے مینڈیٹ کا فقدان ہے۔‘
اسی بریفنگ میں وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ جرمنی کو اسرائیل اور امریکہ سے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ’ایران میں عسکری مقاصد کس مقام پر حاصل ہوں گے۔‘
مرز نے جمعہ کو کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کو ’جلد سے جلد‘ ختم ہونا چاہیے کیونکہ تنازعہ ’کسی کو فائدہ نہیں پہنچاتا اور ہم سمیت بہت سے لوگوں کو معاشی طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔‘
پیر کو ایک الگ بریفنگ میں وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے کہا کہ جرمنی چاہتا ہے کہ اس میں شامل تمام افراد ’مزید فوجی کشیدگی’ کو روکیں۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی کی طرف سے ’کوئی فوجی شرکت نہیں کی جائے گی‘ لیکن برلن ’آبنائے ہرمز کے محفوظ راستے کو یقینی بنانے کے لیے‘ سفارتی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔
شام چار بج کر 40 منٹ: اردن اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ میں رابطہ، ایرانی حملوں کی مذمت
اردن کے وزیر خارجہ نے اپنے سعودی ہم منصب سے بات چیت میں خطے کی صورتحال اور سفارت کاری کے ذریعے امن کی بحالی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
اردن کی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
أجرى نائب رئيس الوزراء ووزير الخارجية وشؤون المغتربين أيمن الصفدي @AymanHsafadi مساء أمس اتصالًا هاتفيًّا مع وزير خارجية المملكة العربية السعودية سمو الأمير فيصل بن فرحان آل سعود @FaisalbinFarhan، جرى خلاله بحث التصعيد الخطير في المنطقة وتداعياته على الأمن والاستقرار الإقليميين… pic.twitter.com/sTpiZvTUSY
— وزارة الخارجية وشؤون المغتربين الأردنية (@ForeignMinistry) March 16, 2026
بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے ’خطے میں خطرناک بگاڑ، اس کے علاقائی اور عالمی سلامتی و استحکام پر اثرات اور سفارت کاری کو فعال کرتے ہوئے امن کی بحالی کے امکانات پر گفتگو کی، تاکہ خطے کی سلامتی، استحکام اور ریاستی خودمختاری کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔‘
دوپہر تین بج کر 45 منٹ: ’ایران جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے‘
وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران میں وسیع تر جنگ میں نہیں الجھے گا لیکن وہ اپنے اتحادیوں، جن میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں، کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر کام کرے گا۔
اگرچہ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ آسان نہیں ہو گا۔ سٹارمر نے کہا کہ تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ کا دوبارہ کھلنا توانائی منڈیوں کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے اس تنازع کے نتیجے میں مالی امداد کے پہلے اقدامات کا بھی اعلان کیا۔
ٹرمپ نے اختتام ہفتہ پر کہا تھا کہ وہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر اتحادیوں سے چاہتے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے وہاں بحری جہاز بھیجیں۔
سٹارمر نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بالآخر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ضروری ہے تاکہ ’(تیل) کی منڈی میں استحکام یقینی بنایا جا سکے۔‘
’ہم اپنے تمام اتحادیوں، جن میں ہمارے یورپی شراکت دار بھی شامل ہیں، کے ساتھ مل کر ایک قابل عمل اجتماعی منصوبہ بنانے پر کام کر رہے ہیں جو خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو جلد از جلد بحال کر سکے اور معاشی اثرات میں کمی لا سکے۔‘
دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور مائع قدرتی گیس عام طور پر اس آبنائے سے گزرتی ہے۔
اس گزرگاہ میں جہاز رانی روکنے کی تہران کی صلاحیت اسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر زبردست دباؤ ڈالنے کا موقع دیتی ہے۔ روئٹرز
دوپہر دو بج کر 45 منٹ: چین کا عالمی اقتصادی اثرات روکنے کے لیے خلیج میں لڑائی بند کرنے پر زور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو اتحادیوں اور چین پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کرنے پر زور دینے کے بعد بیجنگ نے ’عالمی اقتصادی ترقی پر بڑے اثرات‘ کو روکنے کے لیے فوجی کارروائیاں بند کرنے پر زور دیا ہے۔
آبنائے ہرمز خام تیل کی ترسیل کا وہ اہم راستہ ہے جسے ایران نے عملی طور پر بند کر دیا ہے جب کہ بڑی اقتصادی قوتوں نے رسد میں تعطل سے بچنے کے لیے تیل کے ذخائر جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔
’آبنائے ہرمز اور اس کے قریبی سمندر میں کشیدہ صورت حال نے سامان اور توانائی کے بین الاقوامی تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے، جس سے خطے اور دنیا میں امن اور استحکام کو نقصان پہنچا ہے۔‘
چینی ترجمان نے کہا ’چین نے ایک بار پھر تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کریں، کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکیں، اور علاقائی بدامنی کو عالمی اقتصادی ترقی پر مزید اثرات مرتب کرنے سے روکیں۔‘ اے ایف پی
دوپہر 12 بج کر 35 منٹ: دبئی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کے بعد پروازوں کی بتدریج بحالی
دبئی میں حکام نے اتوار کو ڈرون حملے کے بعد عارضی طور پر معطل ہونے والی پروازوں میں سے کچھ کی بتدریج بحالی کا اعلان کیا ہے۔
دبئی میڈیا آفس نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ’مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اپنی پروازوں سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے اپنی ایئرلائنز سے رابطہ کریں۔‘
اس سے قبل کچھ پروازوں کو المخطوم ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا تھا اور مسافروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپ ڈیٹس کے لیے اپنی متعلقہ ایئرلائنز سے رابطہ کریں۔
حکام کے مطابق ڈرون کے ٹکراؤ کے نتیجے میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک فیول ٹینک میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا اور کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں ایئرپورٹ کے قریب سے گھنے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔
حملہ اس وقت ہوا جب ایران نے پہلی بار کسی ہمسایہ ملک کے غیر امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی تین بڑی بندرگاہوں کو خالی کرنے کی وارننگ دی تھی۔
تہران نے الزام لگایا کہ امریکا نے یو اے ای کے ’بندرگاہوں، گوداموں اور ٹھکانوں‘ کو استعمال کرتے ہوئے خارگ جزیرے پر حملے کیے، جو ایران کی تیل برآمد کرنے کی مرکزی جگہ ہے۔ البتہ اس الزام کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔
دوپہر 12 بجے: غزہ پر اسرائیلی حملہ، 12 فلسطینی جان سے گئے
غزہ میں ہسپتال حکام نے بتایا کہ اتوار کو اسرائیل کے فضائی حملوں میں کم از کم 12 فلسطینی جان سے چلے گئے۔
مرنے والوں میں دو لڑکے، ایک حاملہ خاتون اور آٹھ پولیس اہلکار شامل ہیں۔
اتوار کی صبح ایک حملہ غزہ کے وسطی علاقے میں واقع پناہ گزین کیمپ نصیرات میں ایک گھر پر ہوا، جس میں دو بچوں سے حاملہ خاتون، ان کے شوہر اور 10 سالہ بیٹے سمیت چار افراد مارے گئے۔
حملے کی زد میں آنے والے گھر کے پڑوسی محمود المہتسب نے بتایا ’ہم سو رہے تھے اور ایک میزائل کے دھماکے سے جاگے۔ دھماکہ بہت زور دار تھا۔ کوئی پیشگی وارننگ نہیں تھی۔‘
غزہ کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ اتوار کی دوپہر ایک اور حملے میں وسطی قصبے زوایدہ کے داخلی راستے پر ایک پولیس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے میں آٹھ پولیس اہلکار مارے گئے، جن میں وسطی غزہ کے سینیئر پولیس افسر کرنل ایاد اب یوسف بھی شامل تھے۔ اے پی
صبح 10 بج کر 10 منٹ: نصف شب سے اب تک 60 سے زائد ڈرون مار گرائے: سعودی وزارت دفاع
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے اب تک 60 سے زیادہ ڈرون روک لیے گئے ہیں۔ سعودی وزارت دفاع سے پیر کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پیر کی علی الصبح ملک کے مشرقی حصے میں مجموعی طور پر 61 ڈرون کو تباہ یا روک دیا گیا۔
نئے حملوں کی اس لہر کے بعد مملکت میں مار گرائے گئے ڈرونز کی مجموعی تعداد 230 سے تجاوز کر گئی ہے۔ وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری پوسٹس کے مطابق 30 سے زائد میزائل بھی تباہ کیے جا چکے ہیں۔
پڑوسی خلیجی ممالک نے اس سے بھی زیادہ تعداد کی اطلاع دی ہے۔ صرف بحرین نے بتایا کہ اس نے 125 میزائل اور 203 ڈرونز کو روکا یا مار گرایا، جبکہ ان حملوں کے نتیجے میں وہاں دو افراد کی جان گئی اور پورے خطے میں مزید 24 اموات ہوئیں۔
متحدہ عرب امارات نے بھی رپورٹ کیا کہ اس نے 294 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور 1,600 ڈرونز کا مقابلہ کیا، جس کے دوران چھ افراد جان سے گئے۔
ایران کے حملے ایک مخصوص انداز کے مطابق ہو رہے ہیں، جن میں رات کے وقت حملے کیے جاتے ہیں جبکہ دن کے اوقات میں نسبتاً وقفہ دیکھا جاتا ہے۔
صبح 9 بج کر 48 منٹ: بات چیت کر رہے ہیں لیکن بظاہر ایران جنگ ختم کرنے کو تیار نہیں: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، لیکن تہران جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر آمادہ نہیں۔
جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کے حوالے سے سوال پر امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میرا نہیں خیال کہ وہ تیار ہیں، لیکن وہ کافی قریب آ رہے ہیں۔‘
ایئر فورس ون میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے کوئی سفارت کاری جاری ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہاں، ہم ان سے بات کر رہے ہیں۔‘ تاہم انہوں نے ایسی بات چیت کی نوعیت کی تفصیل نہیں بتائی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’لیکن میرا نہیں خیال کہ وہ تیار ہیں۔ لیکن وہ کافی قریب آ رہے ہیں۔‘
ایران کے وزیر خارجہ اس سے پہلے تردید کر چکے تھے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ وہ جنگ ختم کرنے کے لیے کوئی معاہدہ کرنا بھی چاہتے ہیں ’کیوں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ آپ کس سے معاملہ کر رہے ہیں، کیوں کہ ان کی زیادہ تر قیادت ماری جا چکی ہے۔‘
صبح 9 بج کر 40 منٹ: دبئی ایئر پورٹ پر لگی آگ پر قابو پا لیا گیا
خبر رساں اداے روئٹرز کے مطابق دبئی حکام نے پیر کو کہا کہ شہر کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے سے لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، جس کے باعث پروازیں عارضی طور پر معطل کرنا پڑیں، تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔
پیر کا یہ واقعہ دبئی ایئرپورٹ پر تیسرا حملہ ہے۔ یہ دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی سفری مراکز میں سے ایک ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد 28 فروری سے ایران کی خلیجی ملکوں پر حملے شروع ہونے کے بعد سے دبئی ایئرپورٹ پر یہ تیسرا واقعہ پیش آیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں امریکی موجودگی کو نشانہ بنانا ہے۔
صبح 8 سات بج کر 30 منٹ: اتحادیوں نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل ’بہت برا‘ ہو گا: ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے اتحادی ملکوں نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل ’بہت برا‘ ہو گا۔
آبنائے ہرمز تیل برداری کے نہایت اہم راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے عملاً بند ہو چکا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اخبار دا فنانشل ٹائمز کو اتوار کو ایک مختصر انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جس طرح امریکہ نے روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی مدد کی ہے، وہ توقع کرتے ہیں کہ یورپ آبنائے ہرمز کے معاملے میں مدد کرے گا، جس کی بندش نے دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بہت بڑھا دی ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر اس پر کوئی جواب نہ آیا، یا منفی جواب آیا، تو میرے خیال میں یہ نیٹو کے مستقبل کے لیے بہت برا ہو گا۔‘
ٹرمپ برسوں سے اس اتحاد پر تنقید کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ وہ امریکہ کی فیاضی پر مفت فائدہ اٹھاتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ سربراہ ملاقات مؤخر ہو سکتی ہے، کیوں کہ وہ آبنائے کھلوانے کے لیے چین کی مدد پر زور دے رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ اس سے پہلے جاننا چاہیں گے۔ اور یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ ساتھ کئی یورپی ممالک بھی امریکہ کے مقابلے میں خلیج سے آنے والے تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
ٹرمپ کے بقول: ’یہ بالکل مناسب ہے کہ جو لوگ آبنائے سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ یہ یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ برا نہ ہو۔‘
ٹرمپ نے الگ سے ایئر فورس ون میں اپنے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں سے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے مدد لینے کے سلسلے میں ’تقریبا سات‘ ممالک سے بات چیت کر رہا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس خاص قسم کی مدد چاہتے ہیں؟ تو ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ انہیں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہازوں کے ساتھ ساتھ ’ایسے لوگ بھی چاہییں جو ایرانی ساحل کے ساتھ موجود کچھ شرپسند عناصر کو ختم کر سکیں۔‘