امریکہ کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد ایرانی میڈیا مہر نیوز ایجنسی نے پیر کو رپورٹ کیا کہ امریکہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کر دے گا۔
مہر کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی دستاویز میں ’60 روزہ مذاکراتی دور کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی‘ کی شرط رکھی گئی ہے۔
اس دستاویز کے متن میں، جس کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی، صراحت کی گئی ہے کہ ’اس رقم کا نصف حصہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کو فراہم کیا جانا چاہیے۔‘
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی ایران پر پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار
اتوار کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے کہا ہے کہ وہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
ان ملکوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم بھی کیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’ہم ایران کی جانب سے اپنے ایٹمی پروگرام پر واضح اور قابل تصدیق اقدامات کے جواب میں متعلقہ پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
’ہم اس موقعے سے فائدہ اٹھانے، اس تسلسل کو برقرار رکھنے اور ایک طویل مدتی سفارتی تصفیہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ، ایران اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھرپور کام کریں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہیے۔
’ہم اس مقصد کے لیے امریکہ، ایران اور آئی اے ای اے (بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
ممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ 19 جون کو جنیوا میں ہوں
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو بتایا کہ ان کا چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ میں ایران امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کا ارادہ ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جائیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس تقریب میں شریک ہوں گے، جس کے بارے میں ثالث پاکستان نے کہا ہے کہ 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی، تو وینس نے فاکس نیوز کو بتایا ’میرا یقینی طور پر وہاں جانے کا ارادہ ہے، لیکن یہ ممکن ہے کہ صدر خود وہاں موجود ہوں۔‘