امریکہ کے صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور اس معاہدے کا متن جمعہ کو باضابطہ دستخط کے بعد جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بات پیر کو کہی اور بتایا کہ آبنائے ہرمز بھی مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ اس ہفتے ہونے والے جی 7 اجلاس سے قبل بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ وہ جمعہ کو جنیوا میں متوقع تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں، تاہم نائب صدر وینس اس میں موجود ہوں گے۔
ٹرمپ نے فرانس کے شہر ایویان پہنچنے کے فوراً بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’معاہدہ مکمل طور پر سائن ہو چکا ہے۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں، آبنائے پہلے ہی جزوی طور پر کھول دی گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’جمعے تک یہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’معاہدہ مکمل طور پر طے پا چکا ہے۔ اور آبنائے جزوی طور پر پہلے ہی کھول دی گئی ہے۔‘
انہوں نے آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے کو سراہا، جہاں خلیجی تیل کی ترسیل کی تین ماہ کی ناکہ بندی نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا تھا۔
امریکہ اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے: امریکی عہدیدار
امریکہ اور ایران نے تقریباً چار ماہ جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں، یہ بات پیر کو امریکی اعلیٰ حکام نے بتائی۔ ان کے مطابق باقاعدہ دستخطی تقریب جمعے کو منعقد ہوگی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بتدریج بحال ہونا شروع ہو جائے گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک اعلی امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے دستخط کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’آپ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھیں گے، جو درحقیقت ابھی سے شروع ہو رہا ہے، اور وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ مزید بڑھے گا۔‘
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے عہدیدار نے مزید کہا کہ ’ہمیں توقع نہیں کہ دو ہفتوں میں صورتحال مکمل طور پر معمول پر آ جائے گی، لیکن آبنائے میں بحری ٹریفک میں واضح اضافہ ضرور دیکھنے کو ملے گا۔‘
جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کے بعد لبنان پر پھر اسرائیلی حملہ، ایک شہری کی موت
لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کو جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی حملے میں ایک شخص جان سے گیا، جو مشرقِ وسطیٰ میں تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد پہلا رپورٹ ہونے والا مہلک حملہ ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق ’دشمن کے ڈرون طیارے نے کفر تبنیت کے چوک پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کا ڈرائیور جان سے گیا۔‘
کفر تبنیت جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع ایک گاؤں ہے۔
قبل ازیں ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے ’کہ معاہدہ تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔‘
لبنان کی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بنیادی ستونوں میں لبنان کی قومی خودمختاری شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی علاقائی سالمیت کا احترام بین الاقوامی وعدوں کے فریم ورک میں واضح طور پر درج ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کو کہا کہ اسرائیلی افواج لبنان، شام اور غزہ میں غیر معینہ مدت تک موجود رہیں گی۔
یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ کی جنگ، بشمول لبنان میں جاری تنازعے، کے خاتمے پر اتفاق کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔
کاٹز نے ایک بیان میں، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کا کوئی ذکر نہیں تھا، کہا ’وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اور میں ایک واضح پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جس کے تحت اسرائیلی دفاعی افواج لبنان، شام اور غزہ کے سکیورٹی زونز میں غیر محدود مدت تک موجود رہیں گی تاکہ سرحد اور اسرائیلی آبادیوں کو وہاں سے جہادی عناصر کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس علاقے کو مقامی رہائشیوں سے خالی کرایا جائے گا۔
’علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنا اور سکیورٹی زونز کو قائم رکھنا اسرائیلی دفاعی افواج کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ہے، اسی لیے ہم لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی مخالفت کرتے ہیں، خواہ موجودہ دباؤ ہو یا آئندہ آنے والا دباؤ۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے اس مؤقف سے امریکی صدر کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔
امریکہ ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرے گا
امریکہ کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد ایرانی میڈیا مہر نیوز ایجنسی نے پیر کو رپورٹ کیا کہ امریکہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کر دے گا۔
مہر کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی دستاویز میں ’60 روزہ مذاکراتی دور کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی‘ کی شرط رکھی گئی ہے۔
اس دستاویز کے متن میں، جس کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی، صراحت کی گئی ہے کہ ’اس رقم کا نصف حصہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کو فراہم کیا جانا چاہیے۔‘
’پاکستان مزید استحکام کے لیے کوششوں پر تیار‘
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کا خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ’یہ اہم پیش رفت مسلسل سفارتی روابط کی طاقت اور دوستانہ ممالک کے اس اجتماعی عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ تصادم کی بجائے مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘
اسحاق ڈار کے مطابق امن مذاکرات کے دوران پاکستان تمام فریقوں کے ساتھ سرگرم رابطے میں رہا اور مسلسل تحمل کی وکالت کرتا رہا۔
Pakistan warmly welcomes the understanding reached between the United States and the Islamic Republic of Iran.This significant breakthrough reflects the power of sustained diplomatic engagement and the collective resolve of friendly nations to choose dialogue over…— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 15, 2026
انہوں نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی شراکت داروں کی کوششوں اور حمایت کے بھی شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر اس کوشش کی حمایت کے لیے تیار ہے جو اس پیش رفت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کی جائے۔
’ہم 19 جون کو جنیوا میں ہونے والی رسمی دستخطی تقریب کے منتظر ہیں اور پرامید ہیں کہ یہ مثبت پیش رفت خطے اور اس سے باہر پائیدار امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی راہ ہموار کرے گی۔‘
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی ایران پر پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار
اتوار کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے کہا ہے کہ وہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
ان ملکوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم بھی کیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’ہم ایران کی جانب سے اپنے ایٹمی پروگرام پر واضح اور قابل تصدیق اقدامات کے جواب میں متعلقہ پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
’ہم اس موقعے سے فائدہ اٹھانے، اس تسلسل کو برقرار رکھنے اور ایک طویل مدتی سفارتی تصفیہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ، ایران اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھرپور کام کریں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہیے۔
’ہم اس مقصد کے لیے امریکہ، ایران اور آئی اے ای اے (بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
ممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ 19 جون کو جنیوا میں ہوں
ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو بتایا کہ ان کا چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ میں ایران امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کا ارادہ ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جائیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس تقریب میں شریک ہوں گے، جس کے بارے میں ثالث پاکستان نے کہا ہے کہ 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی، تو وینس نے فاکس نیوز کو بتایا ’میرا یقینی طور پر وہاں جانے کا ارادہ ہے، لیکن یہ ممکن ہے کہ صدر خود وہاں موجود ہوں۔‘