امریکہ ایران معاہدہ طے پا گیا، دستخط کی تقریب 19 جون کو: شہباز شریف

وزیر اعظم پاکستان نے کہا ہے کہ 'طویل اور نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو گی۔'

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 26 ستمبر 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ موجود ہیں (وزیرِ اعظم آفس پاکستان)

وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب اپنے بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹروتھ سوشل پر مبارک باد دیتے ہوئے معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ 

وزیراعظم نے مزید کہا ہے کہ 'طویل اور نتیجہ خیز مذاکرات کے بعد امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون بروز جمعہ سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو گی۔'

شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کی جانب سے تنازع کے سفارتی حل کے لیے عزم کا اظہار کرنے پر دونوں ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ثالثی کے عمل میں قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے تک پہنچنے میں قطر کی قیادت نے اہم معاونت فراہم کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم نے سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے امن کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے بعد ثالث ممالک اس ہفتے متعدد اجلاسوں کا انعقاد کریں گے۔ ان ابتدائی مذاکرات کے ذریعے تکنیکی بات چیت اور معاہدے پر دستخط کی تقریب کے لیے بنیاد فراہم کی جائے گی۔

تسنیم خبر ایجنسی کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ طویل مذاکراتی عمل میں پاکستان اور قطر کی ثالثی شامل رہی، اور گزشتہ روز قطری وفد ایران آیا جہاں تقریباً 15 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک آخری نکات اور مطالبات کو متن میں شامل نہیں کیا گیا، اس وقت تک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق نہیں کیا گیا۔ مذاکرات ایک گھنٹے قبل تک جاری رہے۔

ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن تیار ہو چکا ہے اور اس پر باضابطہ دستخط جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں فریقین کے درمیان ہوں گے۔

غریب آبادی نے کہا کہ دو فوری پیش رفتیں متوقع ہیں: پہلی یہ کہ مختلف محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیوں کا خاتمہ ہو گا، جس میں لبنان بھی شامل ہے، اور یہ بات پاکستان کے وزیر اعظم کے متن میں بھی شامل تھی۔ دوسری پیش رفت بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے متعلق ہے جس کا اعتراف امریکی صدر نے بھی کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی ذمہ داریاں اس معاہدے کے باضابطہ دستخط کے بعد جمعہ سے شروع ہوں گی۔

نائب وزیر خارجہ کے مطابق یہ مفاہمت صرف سفارتی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ 'شہداء کے خون، فوجی قوت کے اقدامات اور عوام کی حمایت کا بھی نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد عوام کو اس مفاہمتی معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ دشمن اپنے ناپاک مقاصد میں ناکام ہوا اور اسلامی جمہوریہ ایران نے جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے مسودے میں ایران کے تمام اہم مؤقف شامل کیے گئے ہیں اور دستخط کے بعد متن شائع کیا جائے گا۔

غریب آبادی نے کہا کہ یہ مفاہمت دشمن پر اعتماد کی بنیاد پر نہیں بلکہ عدم اعتماد کے ماحول میں طے پائی ہے، اور امریکہ کی ذمہ داریوں کی نگرانی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں کشیدگی اور مسلح افواج کے بیانات نے مذاکراتی پیش رفت کو آسان بنایا۔ ان کے مطابق ایران کی مسلح افواج کسی بھی وقت فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان 60 روزہ مذاکرات کا آغاز اس وقت ہوگا جب امریکی ذمہ داریوں کی تصدیق ہو جائے گی، جن میں جنگ کا خاتمہ، ناکہ بندی کا خاتمہ اور اثاثوں کی رہائی شامل ہیں۔

غریب آبادی کے مطابق 60 روزہ مذاکرات میں بنیادی موضوعات میں تمام پابندیوں کا خاتمہ، جوہری مسئلہ، اقتصادی بحالی اور عملدرآمد کے نگرانی کے طریقہ کار کی تشکیل شامل ہوگی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان