امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے جمعرات کو اردن میں قائم فوجی اڈوں پر حملوں کے جواب میں ایران پر ’شدید‘ فضائی حملے کیے ہیں۔ جس کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی اور ایران کے حمایت یافتہ گروہ بھی دوبارہ اس تنازع میں شامل ہو گئے ہیں۔
تقریباً ایک ہفتے تک جاری نسبتاً خاموشی کے بعد ہونے والے یہ پہلے حملے تھے، جنہوں نے مذاکرات کی بحالی کی امیدوں کو دھندلا دیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعرات کو ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ حملے گذشتہ روز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر ایران کے حملوں کی کوشش کا طاقتور جواب ہیں۔‘
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں گذشتہ دنوں حملے روک دیے گئے تھے تاہم اب ایک بار پھر سے دونوں ہی ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ان تازہ حملوں سے قبل بدھ کو سعودی عرب اور امریکہ نے عراق میں ’شدت پسندوں‘ کے ٹھکانوں پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ادھر دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک سعودی عرب نے مسلسل دوسرے روز بھی خام تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کی اطلاع دی، جن کا الزام اس نے تہران کے حمایت یافتہ عراقی مسلح گروہوں پر عائد کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دریں اثنا، ایران نے امریکہ کے اتحادی ملک اردن پر میزائل داغے، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے بعد ازاں اطلاع دی کہ امریکہ نے عراق سے متصل ایرانی سرحد کے قریب حملہ کیا ہے۔
تازہ امریکی حملوں سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ان پر بھرپور حملے کریں گے... ہم ان کی خوب درگت بنائیں گے۔‘
اس سے قبل برطانوی بحری سکیورٹی کمپنی ایمبری (Ambrey) نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مصر کی بحیرۂ روم میں واقع دمیاط (Damietta) بندرگاہ پر امریکہ کی ملکیت کے ایک گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینکر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مصر کی وزارتِ پیٹرولیم نے جاری بیان میں دمیاط بندرگاہ پر آگ لگنے کی تصدیق کی، تاہم اس میں ڈرون حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس واقعے کا ذمہ دار کون تھا۔
عراق اور مصر میں ہونے والی تازہ کارروائیوں نے اس خدشے کو مزید بڑھا دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے مزید ممالک بھی اس تنازع میں کھنچے جا سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔