امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس وقت ’اچھی بات چیت‘ جاری ہے اور کسی ممکنہ معاہدے کا امکان موجود ہے۔
روئٹرز کے مطابق ایئر فورس ون کے ذریعے مشی گن جاتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس ایران کے معاملے سے نمٹنے کے لیے ’کافی وقت‘ ہے اور ’اس بات کا اچھا امکان ہے کہ کچھ (معاہدہ) ہو سکتا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ روس سے ایران کی ممکنہ مدد کے حوالے سے بات کریں گے، خاص طور پر سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے کے معاملے پر۔
ان کا کہنا تھا، "میں پوتن سے اس بارے میں پوچھوں گا، ہم معلوم کر ہی لیں گے۔‘
پیر ہی کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایکیسوز سے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی حملے عارضی طور پر روکنے کا مقصد مذاکرات کو ایک اور موقع دینا ہے تاہم سفارتکاری ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ وسیع فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا: ’ہم ایران کے ساتھ انتہائی سنجیدہ بات چیت کر رہے ہیں۔ اگر یہ کامیاب نہ ہوئی تو ہم بہت سخت فوجی کارروائی کی طرف واپس جائیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے زیادہ وقت دینے کے خواہاں نہیں، یا تو یہ ’تیزی سے کامیاب ہوں گے یا بالکل نہیں۔‘
ایکیسوز کے مطابق یہ مذاکرات بنیادی طور پر ایران اور عمان کے درمیان ہو رہے ہیں جبکہ قطر، پاکستان اور مصر کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے نمائندے سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر بھی اس عمل میں شریک ہیں۔ بات چیت کا مرکزی مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایک جامع جوہری معاہدے کی بحالی ہے۔
اس پس منظر میں، ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے جمعے کو حملے روکنے کا فیصلہ خطے کے ممالک اور ثالثوں کے اصرار پر کیا، جنہوں نے مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کی درخواست کی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے بقول: ’ایران کے ساتھ معاملات کرنے والے سب لوگوں نے مجھ سے کہا کہ حملہ نہ کریں۔‘
امریکی صدر نے اس فیصلے کے معاشی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملے روکنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی اور سٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی گئی۔
ادھر ٹرمپ منگل کو وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ نیتن یاہو کو باور کرائیں گے کہ اگر وہ صدر نہ ہوتے تو ایران اب تک جوہری ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا اور اسرائیل کو شدید خطرات لاحق ہوتے۔
امریکی بحریہ کی ایرانی ناکہ بندی پر جاری
امریکی سنٹرل کمانڈ نے پیر کو کہا ہے کہ امریکی افواج ایرانی ناکہ بندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہیں اور اس دوران 17 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا، دو کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ دو جہازوں پر سوار ہو کر تلاشی لی گئی۔
A U.S. sailor stands watch aboard USS Frank E. Petersen Jr. (DDG 121) as the ship patrols the Arabian Sea supporting the U.S. blockade against Iran. CENTCOM has redirected 17 commercial vessels, disabled 2, and boarded 2 to ensure compliance. pic.twitter.com/O20NSE3dTP
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 27, 2026
سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان کے بحری جنگی جہاز ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی کے لیے کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز پر عمان سے مذاکرات امریکہ سے متعلق نہیں: ایران
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام سے متعلق عمان کے ساتھ جاری دوطرفہ مذاکرات تعمیری اور مفید ہیں اور ان کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں۔
Iran denies reports of proposing direct talks with UShttps://t.co/7qWzAqte8u pic.twitter.com/v2uSfBEsca
— IRNA News Agency (@IrnaEnglish) July 27, 2026
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق تہران میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ہونے والی بات چیت صرف دونوں ہمسایہ ممالک تک محدود ہے۔ ان کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے طریقہ کار وضع کرنا ہے، جبکہ ایران کی خودمختاری اور قومی مفادات کا مکمل احترام بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز تاحال بند ہے اور اس کی وجہ امریکہ کی ’جارحانہ کارروائیاں‘ ہیں، جنہوں نے خطے میں عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ایرانی ترجمان نے خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کو اپنی سرزمین کے غلط استعمال سے روکیں اور سیاسی بیان بازی سے گریز کریں۔