ایران اور امریکہ نے اتوار کو ایک دوسرے پر حملے روک دیے، جس سے خلیج میں بحری آمدورفت اور تیل کی صنعت کو میزائل حملوں سے کچھ مہلت مل گئی ہے جب کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’مذاکرات کو کچھ موقع دے رہے ہیں۔‘
ایران نے کہا کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کے اتحادیوں پر جوابی حملے روک دیے ہیں، اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے ’فاکس نیوز سنڈے‘ کو بتایا کہ اگرچہ افواج ’پوری طرح تیار‘ ہیں، ٹرمپ مذاکرات کو ’تھوڑا سا موقع‘ دیں گے۔
پیر کی صبح ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی، کیوں کہ لڑائی میں وقفے پر سرمایہ کاروں نے محتاط انداز میں سکھ کا سانس لیا۔
جمعے سے قبل، امریکی فوج نے لگاتار 13 راتوں تک ایران پر حملے کیے، جو اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے تقریباً پانچ ماہ پرانی جنگ کے دوبارہ بھڑکنے کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔ جمعہ اور ہفتہ کی راتیں بمباری کے بغیر گزر گئیں۔
ایران کی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا: ’یہ حملے دو رات قبل تک جاری رہے، لیکن گذشتہ دو راتوں کے دوران امریکیوں نے اپنے حملے روک دیے ہیں۔‘
’چوں کہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی رہی ہے، اس لیے ہم نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔‘
آبنائے ہرمز کی اہم سٹریٹیجک گزرگاہ پر لڑائی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں کو تعطل کا شکار کر دیا، لیکن پھر یہ تنازع توانائی کی اس اہم راہداری سے آگے بڑھ کر امریکی اڈوں، علاقائی بحری آمدورفت اور خلیجی اتحادیوں پر حملوں تک پھیل گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں میں وقفے نے مذاکرات کی طرف واپسی کی امیدیں تازہ کر دی ہیں، اگرچہ امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ یہ وقفہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کے امریکی ذخائر پر دباؤ کی بھی عکاسی کر سکتا ہے۔
مائیک والٹز نے این بی سی نیوز کے 'میٹ دی پریس' کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں اس خیال کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے اصرار کیا: ’میں یہ بات بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں۔ امریکی فوج کے پاس، اور میں نے ہر ممکن طریقے سے اس کی تصدیق کی ہے، وہ سب کچھ موجود ہے جو اس مہم کو مطلوبہ حد تک موثر انداز میں چلانے کے لیے درکار ہے۔‘