امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ انہوں نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ ایران پر بڑے حملے کیے جائیں یا نہیں، کیوں کہ تہران اب واشنگٹن کے ساتھ بات چیت میں ’سنجیدہ‘ ہو رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی فوج کے ایران پر حملے اور تہران کے جواباً خلیجی ممالک میں امریکی مفادات پر حملے جاری ہیں۔ اس نئے تنازعے کے پورے خطے میں پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے امریکی صدر کے حوالے سے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ وہ ایران پر ایک ’بڑے حملے‘ پر غور کر رہے ہیں۔
تاہم فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ بڑے آپریشن کو فی الحال روک دیں گے کیوں کہ تہران اب واشنگٹن کے ساتھ بات چیت میں ’سنجیدہ‘ ہو رہا ہے۔
اوول آفس میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ایران پر سخت حملے کا فیصلہ کر لیا ہے تو انہوں نے صحافیوں کو بتایا: ’نہیں، میں نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔‘
ان کا کہنا تھا: ’دیکھیں، ہم اس وقت ان سے بات کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں وہ مزید سنجیدہ ہو رہے ہیں، شاید اس کی واضح وجہ موجود ہے۔‘
تاہم انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ تہران ابھی کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حملوں کے تقریباً دو ہفتے کے بعد، جنہوں نے جنگ بندی کو تباہ کر دیا، ایران کے پاس یہ انتخاب ہے کہ یا تو وہ معاہدہ کر لے یا پھر ’بہت بڑے پیمانے‘ پر حملوں کا سامنا کرے۔
وہ جنگ جس کے بارے میں ٹرمپ نے کبھی پیش گوئی کی تھی کہ یہ چار یا پانچ ہفتے چلے گی، اب اپنے پانچویں مہینے کے قریب پہنچ رہی ہے اور نومبر میں ہونے والے اہم امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل رپبلکن صدر کی مقبولیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ کسی فیصلے کے لیے ’فیصلہ کن حد‘ کیا ہو گی، لیکن انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر ایران کوئی ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے قریب پہنچا تو یہ ان کی ریڈ لائن ہو گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو اہم آبنائے ہرمز بند کرنے سے روکنے کے لیے حملے کر رہا ہے۔
ایران نے اس کے جواب میں امریکی اڈوں پر حملے کیے ہیں، جن میں چار فوجی اہلکار جان سے جا چکے ہیں۔
ایرانی فوج نے جمعے کو کہا کہ اس نے واشنگٹن کے تازہ ترین حملوں کے جواب میں بحرین، اردن اور کویت میں امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے کیے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق، اس دوران ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا کہ انہوں نے بحرین میں ایمازون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے، تاہم نہ تو امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اور نہ ہی بحرین نے اس دعوے پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے بھی اس کی تنصیبات یا اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔
بحرینی وزارت داخلہ نے کہا کہ بحرین میں ہفتے کی صبح دوبارہ سائرن بجائے گئے۔
وزارت نے ایکس پر کہا کہ ’شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام کا رخ کریں۔‘
’مجھے ان پر بھروسہ ہے‘
اپنی گفتگو میں ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روس اور چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہے، حالاں کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ دونوں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے تہران کو انٹیلی جنس فراہم کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’صدر شی (جن پنگ) نے کہا کہ وہ اس میں حصہ نہیں لیں گے، اور صدر (ولادی میر) پوتن نے بھی یہی بات کہی۔ مجھے ان پر بھروسہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ مجھے مایوس کرنا چاہیں گے۔‘
ادھر امریکی فوج نے جمعے کو کہا کہ اس نے ایک ٹینکر جہاز پر فائرنگ کر کے اسے ناکارہ بنا دیا ہے، جو ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ترجمان اور نیوی کیپٹن ٹم ہاکنز نے بتایا کہ ’ہم نے ٹینکر کو اس وقت ناکارہ بنایا جب عملے نے اس سے قبل کم از کم چار بار ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی۔‘
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’عملے کو بار بار خبردار کیا گیا لیکن انہوں نے تعمیل نہیں کی اور موقعے پر موجود امریکی افواج نے اس کے انجن روم میں فائرنگ کر کے جہاز کو ناکارہ بنا دیا۔ یہ جہاز اب ایران کی طرف سفر نہیں کر رہا۔‘