ایران کے خلاف جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں: پینٹاگون

پیٹ ہیگستھ نے قانون سازوں کو بتایا کہ 37.5 ارب ڈالر میں جنگ پر ہونے والے اخراجات کے ساتھ ساتھ 30 ستمبر تک کے متوقع اخراجات بھی شامل ہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ 15 جون 2026 کو ایکواڈور کے صدر کا خیرمقدم کرنے کے لیے پینٹاگون میں موجود تھے (فائل فوٹو/ روئٹرز)

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے منگل کو بتایا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب وہ شدید بمباری دوبارہ شروع ہونے کے بعد پہلی بار کانگریس کے سامنے پیش ہوئے تاکہ اس غیر مقبول جنگ کے لیے ہنگامی فنڈز کی منظوری حاصل کی جا سکے۔

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) میں صرف چھ ماہ باقی ہیں، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ایسے میں ڈیموکریٹس عوامی رائے عامہ میں اپنی بہتر پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران جنگ کو مہنگائی اور عوامی معاشی مشکلات سے جوڑ رہے ہیں۔

واشنگٹن میں ہونے والی سماعت کے دوران ہیگستھ نے قانون سازوں کو بتایا کہ 37.5 ارب ڈالر میں جنگ پر ہونے والے اخراجات کے ساتھ ساتھ 30 ستمبر تک کے متوقع اخراجات بھی شامل ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پینٹاگون نے یہ تخمینہ کس بنیاد پر لگایا۔

مارچ میں روئٹرز کو ایک ذرائع نے بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندازے کے مطابق جنگ کے ابتدائی چھ دنوں میں ہی کم از کم 11.3 ارب ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے کانگریس سے تقریباً 90 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی درخواست کی تھی، جن میں زیادہ تر رقم ایران جنگ سے متعلق تھی، جس سے کانگریس میں ایک نئی سیاسی کشمکش کا آغاز ہو گیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ارکانِ کانگریس جنگ سے نالاں ہیں اور نومبر کے انتخابات قریب آ رہے ہیں۔

ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے شکایت کی کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں جنگ کی صورت حال اور آئندہ حکمتِ عملی سے مناسب طور پر آگاہ نہیں رکھا۔

سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی میں سرکردہ ڈیموکریٹ سینیٹر پیٹی مرے نے سماعت کے دوران کہا کہ ’صدر جنگ میں مزید شدت اور ایسے اقدامات کی دھمکیاں دے رہے ہیں جو جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، اور یہ تاثر دے رہے ہیں کہ یہ ایک اور نہ ختم ہونے والی جنگ بن سکتی ہے۔‘

انہوں نے اشارہ کیا کہ ٹرمپ بارہا ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، جنہیں ناقدین جنگی جرم قرار دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلی برینڈ نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’عوام آپ اور اس انتظامیہ سے اس لیے ناراض ہیں کیونکہ آپ کے بیانات میں تضاد ہے۔ کبھی کہتے ہیں جنگ ختم ہو گئی، کبھی کہتے ہیں نہیں۔ کبھی دو ہفتوں کی بات کرتے ہیں، پھر اس سے انکار کر دیتے ہیں۔ کبھی میزائلوں کی بات ہوتی ہے، کبھی نہیں۔‘

جنگ کے اثرات

ہیگستھ نے خبردار کیا کہ اگر فوری اضافی فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو فوجی تربیتی سرگرمیوں میں کمی کرنا پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نے پینٹاگون کے تقریباً ایک کھرب (1 ٹریلین) ڈالر کے بجٹ پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جس سے فوجی اہلکاروں اور دیگر دفاعی ضروریات کے لیے فنڈز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بھی تسلیم کیا کہ اگرچہ فوجیوں کی تنخواہوں کا بندوبست کر لیا جائے گا، لیکن پینٹاگون کو سازوسامان کی دیکھ بھال اور مستقبل کی دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کے لیے مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

ہیگستھ نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ نہ صرف اضافی فنڈز کی منظوری دیں بلکہ 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی بھی حمایت کریں۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اگر اس محکمے کو 1.5 ٹریلین ڈالر کی فنڈنگ نہ ملی تو یہی ہمارے ملک کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہوگا۔‘

اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی بھی اس ماہ کے آغاز میں ختم گئی، جس کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے پر روزانہ حملے کر رہے ہیں۔

پینٹاگون کے مطابق ایران جنگ میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 18 ہو گئی ہے، جبکہ تقریباً 430 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

پیر کو جاری بیان کے مطابق 7 جولائی سے اب تک 100 فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے 96 فیصد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ