پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے پیر کو واشنگٹن ڈی سی میں امریکی صنعتی ٹیکنالوجی کمپنی ہنی ویل ٹیکنالوجیز کے وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں قیادت کمپنی کے نائب صدر اور جنرل منیجر بیری گلک میں کر رہے ہیں۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب خلیجی خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھنے سے توانائی کی سلامتی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے حوالے سے عالمی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ہنی ویل ٹیکنالوجیز دنیا بھر میں آئل ریفائنریوں کے لیے جدید ریفائننگ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ حل اور آلات فراہم کرنے والی معروف امریکی کمپنی ہے، جو صاف، اعلیٰ معیار کے ایندھن کی پیداوار اور ریفائنریوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ملاقات کے دوران وزیرِ خزانہ نے پاکستان کے ریفائنری شعبے کی جدید کاری اور توسیع کے لیے ہنی ویل کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ملک کی مقامی ریفائننگ صلاحیت میں اضافہ ہوگا، درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم ہوگا، اور پاکستان کی توانائی کی خود کفالت مضبوط ہوگی۔
اجلاس میں ہنی ویل کی جدید ٹیکنالوجی اور آلات کے علاوہ منصوبے کی مالی معاونت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس سلسلے میں امریکی ایکسِم بینک ، امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن، مختلف ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسیوں اور معروف بین الاقوامی بینکوں کے ذریعے فنانسنگ کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ہنی ویل ٹیکنالوجیز میں گذشتہ سال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے 12 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ اگرچہ اس سرمایہ کاری سے وہ کمپنی کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے تاہم ان کے اس میں شیئرز ضرور ہیں۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ منصوبہ پاکستان کی توانائی کے تحفظ کو مضبوط کرے گا، صنعتی ترقی کو فروغ دے گا اور پائیدار معاشی نمو (میں مددگار ثابت ہوگا۔
پاکستان کی بیشتر آئل ریفائنریز کئی دہائیاں پرانی ہیں اور نسبتاً سادہ نوعیت کی ہیں، جو کم قیمت فرنس آئل تو زیادہ مقدار میں تیار کرتی ہیں، لیکن اعلیٰ معیار کے ایندھن جیسے پٹرول اور ڈیزل کی پیداوار محدود ہے۔ اسی وجہ سے حکومت ملک کے ریفائننگ شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کو قومی توانائی کی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے ایک اہم حکمتِ عملی سمجھتی ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے اپنے ریفائنری سیکٹر کی اپ گریڈیشن پر کام کر رہا ہے تاکہ درآمد شدہ ریفائنڈ ایندھن پر انحصار کم ہو، ملکی ایندھن کی دستیابی اور سلامتی بہتر ہو اور درآمدی بل میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔