نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی رپورٹ کے مطابق 2024 سے 2026 کے دوران غیر قانونی سمز کے اجرا اور ٹیلی کام کمپنیوں کی فرنچائزز کے خلاف سینکڑوں مقدمات اور درجنوں گرفتاریاں ہوئیں، تاہم تین برس کے دوران صرف تین کیسز میں سزائیں سنائی گئیں۔
این سی سی آئی اے نے یہ کارروائیاں غیر قانونی سمز کے اجرا اور ٹیلی کام کمپنیوں کی فرنچائزز کے خلاف کیں۔
پارلیمینٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے مطابق سزاؤں کی کم تعداد کی بنیادی وجہ تفتیشی عمل کی پیچیدگی اور ایجنسی کا محدود دائرہ کار ہے۔
حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 32، 2025 میں 76 اور 2026 میں اب تک 10 گرفتاریاں کی گئیں، تاہم تینوں برس میں ہر سال صرف ایک کیس میں سزا سنائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ’ایجنسی صرف کسی ایک فون نمبر کی تفتیش تک محدود رہنے کے بجائے پورے مجرمانہ نیٹ ورک، بشمول غیر قانونی سمز کے اجرا، بائیومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال اور مالیاتی فراڈ کے سہولت کاروں کا سراغ لگاتی ہے، جو ایک طویل اور پیچیدہ قانونی عمل ہوتا ہے۔‘
این سی سی آئی اے کے مطابق ادارے کا کام بنیادی طور پر تفتیش اور استغاثہ تک محدود ہے، جبکہ ٹیلی کام سیکٹر کی نگرانی اور سمز کے اجرا سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ذمہ داری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس لیے ایجنسی کو پی ٹی اے کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑتا ہے اور تفتیش کا دائرہ فوری طور پر کسی ایک ملزم کو گرفتار کرنے کے بجائے پورے نیٹ ورک اور مالیاتی سہولت کاروں تک پہنچنے پر مرکوز ہوتا ہے۔
سرکاری حکام کا روپ دھار کر دھوکہ
این سی سی آئی اے کے مطابق سرکاری حکام کا روپ دھار کر فراڈ کرنے والے افراد خود کو این سی سی آئی اے، ایف آئی اے، پولیس یا عدالتوں کے افسران ظاہر کرکے شہریوں کو گرفتاری یا قانونی کارروائی کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں ایک لاکھ 61 ہزار 828 شکایات موصول ہوئیں، جن پر 1664 کیسز رجسٹر ہوئے اور دو ہزار 157 گرفتاریاں کی گئیں۔
2025 میں ایک لاکھ 57 ہزار 465 شکایات موصول ہوئیں، جن پر دو ہزار 356 کیسز درج ہوئے اور دو ہزار 916 گرفتاریاں ہوئیں۔
2026 میں اب تک 72 ہزار 400 شکایات پر 996 کیسز درج کیے گئے اور ایک ہزار چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔
جعلی پارسل ڈیلیوری پیغامات سے ڈیٹا چوری
این سی سی آئی اے کی رپورٹ کے مطابق جعلی پارسل ڈیلیوری پیغامات کے ذریعے شہریوں کا ڈیٹا چوری کیا جاتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں واٹس ایپ اور ٹیلی گرام اکاؤنٹس پر قبضہ کرکے متاثرہ شخص کے جاننے والوں سے رقم طلب کی جاتی ہے۔
ان کارروائیوں کے خلاف جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران 768 موبائل نمبرز اور 707 آئی ایم ای آئی بلاک کیے گئے، جبکہ 4.2 ارب روپے کے مجموعی مالی جرمانے عائد کیے گئے۔
قانون کے مطابق پی ای سی اے کی دفعہ 14 کے تحت الیکٹرانک فراڈ کی سزا دو سال قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتی ہے۔
او ٹی پی فراڈ
این سی سی آئی اے کے مطابق بینک اکاؤنٹس اپ ڈیٹ کرنے یا مشکوک ٹرانزیکشنز روکنے کے بہانے صارفین سے رابطہ کیا جاتا ہے اور ان سے ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) یا پن کوڈ حاصل کرکے رقم چوری کی جاتی ہے۔
مالیاتی ریکوری کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق 2024 میں دو ارب 53 کروڑ 90 لاکھ روپے کے فراڈ میں سے 65 کروڑ 26 لاکھ روپے، جبکہ 2025 میں دو ارب 71 کروڑ 60 لاکھ روپے میں سے 55 کروڑ 45 لاکھ روپے بازیافت کیے گئے۔
2026 میں اب تک تین ارب چھ کروڑ 50 لاکھ روپے کے فراڈ میں سے ایک ارب 50 کروڑ 51 لاکھ روپے بازیافت کیے گئے۔
این سی سی آئی اے کیا کہتا ہے؟
سوال یہ ہے کہ اتنے کیسز رجسٹر ہونے کے باوجود گزشتہ تین برس کے دوران صرف تین افراد کو ہی سزائیں کیسے ہوئیں؟
اس معاملے پر این سی سی آئی اے کے ترجمان نجیب الحسن نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سمز کے غلط استعمال سے متعلق کیسز میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی شکایت کنندہ ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’جب ادارہ کارروائی کرتا ہے تو بیشتر کیسز میں سمز تو پکڑی جاتی ہیں، لیکن ہم جہاں سے سمز پکڑ رہے ہوتے ہیں، وہاں پیچھے سے سمز بیل آؤٹ ہو کر آ رہی ہوتی ہیں۔‘
ترجمان کے مطابق ایسے کیسز میں کارروائی کا طریقہ کار طویل ہے کیونکہ ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے جبکہ فرنچائز بھی کیس میں ایک فریق بنتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’یہ ایک لمبا پراسیس ہوتا ہے جس میں ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے جبکہ فرنچائز ایک فریق بنتی ہے، لہٰذا سزا سنائے جانے میں ہمیشہ وقت لگتا ہے۔‘
نجیب الحسن نے بتایا کہ سمز کے غیر قانونی استعمال کے خلاف کارروائی کے لیے قانون میں بنیادی طور پر ایک ہی سیکشن موجود ہے، جبکہ متعلقہ کیسز کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتی بینچ بھی محدود ہیں۔
انہوں نے کہا، ’قانون میں ایک ہی ایسا سیکشن ہے جس کے تحت سمز کے غیر قانونی استعمال پر پرچہ کروایا جا سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ این سی سی آئی اے کی ایک ہی عدالت ہے جہاں متعلقہ کیسز سنے جاتے ہیں، جیسے راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں ایک، ایک خصوصی بینچ موجود ہیں۔ ان کیسز میں تاریخیں لمبی پڑتی ہیں۔‘
ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ عدالتوں میں دیگر نوعیت کے مقدمات کو ترجیح دیے جانے اور سمز سے متعلق کیسز میں بڑی مقدار میں ڈیٹا کی جانچ کے باعث بھی کارروائی میں وقت لگتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’کیونکہ عموماً جنسی ہراسانی جیسے کیسز کو ترجیح دی جاتی ہے تاکہ انہیں فوری طور پر سنا جائے۔ سمز والے کیسز میں ڈیٹا آنے میں بھی وقت لگتا ہے، جو تھوڑا نہیں ہوتا کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں سمز پکڑی جاتی ہیں۔‘
غیر ملکی شہری ملوث؟
دوسری جانب وکیل عثمان وڑائچ، جو اس نوعیت کے کیسز کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ عمومی طور پر ان کیسز میں زیادہ تر غیر ملکی شہری ملوث نظر آئے ہیں۔ ان کے مطابق کال سینٹرز، جعلی شناختیں بنانے، سائبر سپیس کو استعمال کرتے ہوئے فراڈ، موبائل سمز کے جعلی اجرا، جعلی شناختی کارڈز کے ذریعے ڈیٹا چوری کرنے اور آن لائن بیٹنگ (جُوا کھلوانے) کی سائٹس سمیت مختلف جعل سازیوں میں غیر ملکی شہری ملوث ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عثمان وڑائچ کے مطابق بینک فراڈ، کریڈٹ کارڈ فراڈ اور مختلف آن لائن ذرائع سے لوگوں کو دھوکہ دے کر ان سے پیسے لینے یا منگوانے کے معاملات میں بھی غیر ملکی افراد ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا، ’ہم عموماً اپنے مقامی سم یا مقامی نمبر سے رابطہ کرنے والے شخص کی شکایت کر دیتے ہیں، لیکن اس کا سرور یہاں ہوتا ہی نہیں۔ وہ پتہ نہیں کہاں سے چل رہا ہوتا ہے۔ یہ یہاں بیٹھے کال سینٹر سے ہو رہا ہوتا ہے یا یہاں کے ایسے کال سینٹرز سے جو بیرون ملک سے منسلک ہیں۔‘
وکیل عثمان وڑائچ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائی کے بجائے انہیں ملک بدر کیے جانے سے بھی یہ مسئلہ برقرار رہتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’میرے خیال میں ان کے حوالے سے یہ کوئی ریاستی پالیسی ہے کہ انہیں پکڑتے ہیں اور فوراً ملک بدر کر دیتے ہیں۔ ان پر کوئی الزامات عائد نہیں کرتے، کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ دوسرا معاملہ یہ ہے کہ ہم ان کے ایک بھائی یا ایک بہن کو ملک بدر کرتے ہیں تو وہ اپنا کوئی دوسرا رشتہ دار بنا کر یہاں بھیج دیتے ہیں۔ جو یہاں پکڑا جاتا ہے، اسے ناپسندیدہ شخص قرار دے دیا جاتا ہے، وہ چلا جاتا ہے، اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی شہری ایسے بھیجے گئے ہیں۔‘