کراچی کارساز حادثہ: نتاشہ دانش منشیات کیس میں بری

ملزمہ کے وکیل فواد علی کھچی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ اور بلڈ ٹیسٹ میں نتاشہ کے خون میں ’آئس‘ یعنی میتھ ایمفیٹامین کے شواہد نہیں ملے۔

19 اگست، 2024 کی اس تصویر میں کراچی کے علاقے کارساز میں لینڈکروزر گاڑی موٹر سائیکل کو ٹکر مارنے کے بعد الٹی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے (ویڈیو سکرین گریب، کراچی الرٹس)

کراچی کے کارساز روڈ پر 19 اگست 2024 کو تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے باپ بیٹی کی موت کے مقدمے میں نامزد نتاشہ دانش کو منشیات استعمال کرنے کے مقدمے میں بری کردیا گیا ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے 4 ستمبر 2026 کو مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے الزام ثابت نہ کر سکنے پر نتاشہ دانش کو بری کردیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی 4 ستمبر کی کورٹ ڈائری کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر اور ملزمہ کے وکیل فواد علی کھچی عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے ملزمہ کو بری کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 245(1) کے تحت نمٹا دیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

کورٹ ڈائری میں یہ بھی درج ہے کہ تفصیلی حکم علیحدہ شیٹ پر جاری کیا جائے گا، تاہم تفصیلی تحریری فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا۔ اس لیے بریت کی وجوہات اور شواہد سے متعلق عدالت کے تفصیلی مشاہدات تحریری فیصلے کے اجرا کے بعد ہی واضح ہوں گے۔

’خون کے ٹیسٹ میں آئس نہیں پائی گئی‘

ملزمہ کے وکیل فواد علی کھچی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ اور بلڈ ٹیسٹ میں نتاشہ کے خون میں ’آئس‘ یعنی میتھ ایمفیٹامین کے شواہد نہیں ملے۔

فواد علی کھچی نے بتایا: ' تمام پرائیوٹ گواہان کے بیانات موجود ہیں جہنوں نے بتایا کہ نتاشہ حادثے کے وقت نشی میں نہیں تھی۔' 

ملزمہ کے وکیل نے مزید بتایا کہ پولیس کے پاس اختیارات نہیں کہ منشیات کا مقدمہ درج کرے، تمام میڈیکل رپورٹ میں بھی منشیات کے استعمال کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

فواد کھچی نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ملزمہ سے لیے گئے نمونوں میں مبینہ طور پر ٹیمپرنگ کی، جبکہ ان کے بقول مقدمے کے تفتیشی افسر نے بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ بھی چھپائی تھی۔

فواد علی کھچی کا کہنا تھا کہ پراسیکیوشن ملزمہ کے خلاف منشیات استعمال کرنے کا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی۔

مقدمہ کیسے شروع ہوا؟

19 اگست 2024 کو کراچی کے کارساز روڈ پر نتاشہ دانش کی جانب سے چلائی جانے والی تیز رفتار ٹویوٹا لینڈ کروزر نے تین موٹر سائیکلوں اور ایک گاڑی کو ٹکر ماری تھی، جس کے نتیجے میں 60 سالہ عمران عارف اور ان کی 22 سالہ بیٹی آمنہ جان سے گئے جبکہ تین افراد زخمی ہوئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حادثے کے بعد نتاشہ دانش کے خلاف اموات کے مقدمے کے علاوہ منشیات سے متعلق الگ مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ طبی رپورٹ میں گاڑی چلاتے وقت ان کے میتھ ایمفیٹامین (آئس) کے زیرِ اثر ہونے کی نشاندہی ہوئی تھی، جس کے بعد امتناعِ منشیات آرڈر 1979 کی دفعہ 11 کے تحت الگ ایف آئی آر درج کی گئی۔

مرکزی مقدمے میں 2024 میں بریت

نتاشہ دانش کو 31 اکتوبر 2024 کو کارساز حادثے کے مرکزی مقدمے میں بھی بری کردیا گیا تھا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے فریقین کے درمیان سمجھوتے کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں مقدمے سے بری کیا تھا۔ 

عدالتی کارروائی کی تفصیلات کے مطابق مقتولین کے قانونی ورثا نے سمجھوتے کی درخواست دائر کی تھی اور عدالت نے قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد فریقین کے درمیان سمجھوتہ قبول کیا تھا۔

یوں کارساز حادثے سے متعلق نتاشہ دانش کے خلاف اموات کے مرکزی مقدمے میں سمجھوتے کی بنیاد پر بریت کے بعد اب منشیات کے مقدمے میں بھی بریت کا حکم جاری ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان