سابق ڈاکٹر جو جاپان کی معمر ترین حیات شخصیت نے، جو گذشتہ روز 115 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں اپنی موت سے قبل اپنی طویل عمری کا انتہائی سادہ راز بتایا۔
نارا پریفیکچر کے علاقے یاماتوکوریاما سے تعلق رکھنے والی شیگیکو کاگاوا گذشتہ جمعرات کو 115 سال اور 91 دن کی عمر میں چل بسیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’پیدل چلنے اور اپنے دماغ کا استعمال کرنے‘ نے انہیں متحرک رکھنے میں مدد دی۔
جاپانی خاتون کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ دن میں تین وقت مناسب کھانا کھاتی تھیں اور ایک باقاعدہ معمول برقرار رکھتی تھیں۔
29 جولائی، 2025 کو اوئیتا پریفیکچر کے علاقے ناکاتسو سے تعلق رکھنے والی ایک 114 سالہ خاتون کی موت کے بعد، شیگیکو کاگاوا جاپان کی معمر ترین حیات شخصیت بن گئی تھیں۔
28 مئی 1911 کو پیدا ہونے والی شیگیکو کاگاوا نے 1934 میں اوساکا ویمنز میڈیکل کالج، جو اب کنسائی میڈیکل یونیورسٹی ہے، سے گریجویشن کیا۔
بعد ازاں انہوں نے یاماتوکوریاما میں اپنا کلینک کھولا اور 80 کی دہائی کی عمر تک ماہر امراض زچگی و نسواں کے طور پر کام کرتی رہیں۔
انہوں نے ہیضے کے علاج کے لیے بھی خود کو وقف کر رکھا تھا۔
شیگیکو کاگاوا نے 1947 میں شادی کی اور اگلے سال ان کے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی، جس کے بعد ان کا خاندان بڑھا اور اس میں نواسے نواسیاں اور نواسے کی بیوی بھی شامل ہو گئے۔
طب کے شعبے سے سبکدوش ہونے کے طویل عرصے بعد بھی انہوں نے تاریخ رقم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اپریل 2021 میں 109 سال اور 10 ماہ کی عمر میں شیگیکو کاگاوا ٹوکیو گیمز کی ریلے میں حصہ لے کر اولمپک کی مشعل اٹھانے والی معمر ترین شخصیت بن گئیں۔
انہوں نے اس وقت کہا تھا: ’مجھے یہ توقع نہیں تھی کہ ہر کوئی میرا حوصلہ بڑھائے گا۔ میں بہت خوش ہوں۔‘
2025 کی ایک رپورٹ میں شیگیکو کاگاوا کی غیر معمولی صحت اور روزمرہ کے معمولات کی جھلک پیش کی گئی تھی۔
ضعیف العمری کے باوجود، بتایا گیا ہے کہ انہیں کوئی دائمی بیماری لاحق نہیں تھی اور وہ تقریباً کوئی دوا نہیں کھاتی تھیں۔
ان کی قوت سماعت کچھ کمزور ہو گئی تھی، لیکن وہ پھر بھی واضح طور پر بات چیت کر سکتی تھیں، اور ان کی بینائی اتنی بہتر تھی کہ وہ ٹیلی ویژن دیکھنے اور اخبارات پڑھنے سے لطف اندوز ہو سکتی تھیں۔
ان کی طویل عمری کا راز پوچھنے پر انہوں نے جواب دیا: ’پیدل چلنا اور اپنے دماغ کا استعمال کرنا۔‘
بطور ڈاکٹر کام کرنے کے برسوں میں، وہ اپنے کلینک پر کالز موصول ہونے کے بعد مریضوں کو ان کے گھر پر دیکھنے کے لیے کئی میل پیدل چلتی تھیں۔
انہوں نے کہا: ’میں لکڑی کے جوتے پہنتی تھی اور یاتایاما کے علاقے تک پیدل جاتی تھی، اس لیے میری ٹانگیں مضبوط ہیں۔
’میرا خیال ہے کہ چھوٹی عمر سے اتنا زیادہ پیدل چلنا ہی آج میری توانائی کا ذریعہ ہے۔‘
عمر کے آخری حصے میں بھی شیگیکو کاگاوا نے خطاطی اور فرق تلاش کرنے والی پہیلیوں کے ذریعے اپنے دماغ کو متحرک رکھا۔
ان کے اہل خانہ نے بھی ان کی طویل عمری کا سہرا ان کے سادہ اور مستقل روزمرہ معمولات کے سر باندھا۔
انہوں نے اس وقت وضاحت کی تھی کہ ’ان کے روزمرہ کے معمولات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔
’اگرچہ وہ زیادہ نہیں کھاتیں، لیکن وہ دن میں تین وقت مناسب کھانا کھاتی ہیں، مقررہ وقت پر سوتی اور جاگتی ہیں، اور بس معمول کے مطابق اپنی روزمرہ زندگی گزارتی ہیں۔‘
شیگیکو کاگاوا کی موت کے بعد، اب جاپان کی معمر ترین حیات شخصیت 114 سالہ فویو کشیموتو ہیں، جو کیوٹو میں رہتی ہیں۔
© The Independent