’جہاں بم تھے، وہاں اب سورج مکھی کے پھول ہیں‘: یوکرین میں بارودی سرنگوں صاف کرنے والی خاتون

کولہاوا نے اس شعبے میں آنے کے لیے ایک غیر معمولی راستہ اختیار کیا۔ وہ پہلے فنانس کے شعبے میں کام کرتی تھیں اور اس کے بعد پیسٹری شیف بن گئیں۔

یوکرین کی 32 سالہ انتونینا کولہاوا انسانی بنیادوں پر بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام کرتی ہیں (مائنز ایڈوائزری گروپ)

ہر صبح، انتونینا کولہاوا روسی ڈرونز کی آوازوں سے بیدار ہوتی ہیں۔

اپنے خاندان اور دوستوں کی خیریت یقینی بنانے کے لیے مقامی الرٹس چیک کرنے کے بعد، وہ ایک انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی بارودی سرنگیں صاف کرنے والی کارکن کے طور پر اپنی ملازمت پر جاتی ہیں۔

ان کی ٹیم یوکرین کے ان متعدد کھیتوں میں کام کرتی ہے جہاں بم بکھرے پڑے ہیں۔

وہ میزائلوں سے بننے والے کیچڑ سے بھرے گڑھوں کو تلاش کرتے ہوئے شدید خطرے کا سامنا کرتی ہیں، ان کھیتوں میں جہاں کبھی کسان فصلیں کاشت کیا کرتے تھے۔

یوکرین دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ بارودی سرنگیں موجود ہیں۔ ملک کی 20 سے 25 فیصد سطح ممکنہ طور پر خطرناک ہتھیاروں سے متاثر ہے۔

یہ رقبہ 139,000 مربع کلومیٹر سے زیادہ بنتا ہے، جو انگلینڈ اور ویلز کے مجموعی رقبے سے بھی بڑا ہے۔

ان بارودی سرنگوں کی موجودگی شہریوں کے لیے تباہ کن ہے اور شہری اموات کی دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک کا سبب بنتی ہے۔

اگر بارودی سرنگوں کو محفوظ طریقے سے صاف نہ کیا جائے تو بچے بھی ان کے خطرے سے دوچار ہیں۔

وہ دی انڈپینڈنٹ کو بتاتی ہیں ’یہ ایک دلچسپ اور چیلنجنگ کام ہے۔‘

’یہ اس سے بالکل مختلف ہے جو میں نے پہلے کبھی کیا ہو۔ اس سے یوکرین کے لوگوں کو مدد ملتی ہے کیونکہ جتنی زیادہ ہم اپنی زمینیں صاف کریں گے، اتنے ہی زیادہ لوگ اپنے گھروں اور اپنی زمینوں پر واپس آ سکیں گے، اور اس سے یوکرین کو مزید محفوظ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔‘

32 سالہ کولہاوا نے اس شعبے میں آنے کے لیے ایک غیر معمولی راستہ اختیار کیا۔ وہ پہلے فنانس کے شعبے میں کام کرتی تھیں اور اس کے بعد پیسٹری شیف بن گئیں۔

چیکیا جانے کے لیے ویزا کا انتظار کرتے ہوئے انہیں مائنز ایڈوائزری گروپ (MAG) میں ایک ملازمت کا علم ہوا، لیکن ابتدا میں انہیں لگا کہ یہ کام بہت خطرناک ہے۔

اس عہدے کے بارے میں مزید معلومات گوگل پر تلاش کرنے کے بعد انہوں نے یہ ملازمت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ابتدا میں انہوں نے یہ کام خفیہ رکھا اور اپنے والدین سے اپنی ملازمت چھپائی، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ وہ اس فیصلے کو پسند نہیں کریں گے۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے اپنے خاندان کو نہیں بتایا کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ میرے بارے میں فکر کریں۔‘

لیکن جب بالآخر انہیں اس بارے میں معلوم ہوا تو وہ حیران رہ گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میرے خیال میں ان کے دل کی گہرائیوں میں کہیں وہ چاہتے ہوں گے کہ میں اس شعبے میں کام نہ کروں، اس میں شامل نہ ہوں، لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں؟‘

وہ مزید کہتی ہیں ’یہ خطرناک ہے، یقیناً۔ سب کچھ خطرے کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے کیونکہ مختلف مقامات پر خطرے کی مختلف سطحیں ہوتی ہیں، لیکن یہ واقعی بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔‘

اس عمل کا پہلا مرحلہ تکنیکی جائزہ ہوتا ہے، جس میں زمین کا معائنہ کرکے خطرے کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

ٹیم لیڈر کی حیثیت سے وہ اپنی ٹیم کی رہنمائی کرتی ہیں اور اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ہر شخص مناسب ذاتی حفاظتی سامان پہنے۔

بارودی سرنگوں کی صفائی کے تین طریقے ہیں: مشینی، دستی اور کتوں کی مدد سے۔

دستی صفائی میں بارودی سرنگوں کو تلاش کرنے کے لیے کارکن کھیتوں کو ایک ایک کرکے چھانتے ہیں اور دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کر کے اسے دھماکے سے تباہ کرنے کے لیے نشان زد کرتے ہیں۔

مشینی صفائی میں مشینری استعمال کی جاتی ہے جبکہ تیسرے طریقے میں کتوں کو دھماکہ خیز مواد سونگھ کر تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

دھماکہ خیز مواد کی سات اقسام کو صاف کیا جاتا ہے، جن میں بارودی سرنگیں، دستی بم، راکٹ، میزائل، طیاروں سے گرائے جانے والے بم، کلسٹر بم، ڈرون اور مارٹر شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی تنظیم UN Women کے مطابق بارودی سرنگیں صاف کرنے والے کارکنوں کی اکثریت مردوں پر مشتمل ہے۔

خواتین انسانی بنیادوں پر بارودی سرنگوں کی کارروائی کرنے والی افرادی قوت کا تقریباً 30 سے 35 فیصد ہیں جبکہ براہِ راست فیلڈ میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد صرف تقریباً 12 فیصد ہے۔

مردوں کی اکثریت والے اس شعبے میں کام کرنے کے بارے میں کولہاوا کہتی ہیں ’میرے لیے یہ مشکل تھا کیونکہ میرے ذہن میں یہ خیال تھا کہ یہ تمام دھماکہ خیز مواد، بارودی سرنگیں اور بم، یہ تو مردوں کا کام ہے۔

’میں سوچتی تھی کہ وہ کمپیوٹر گیمز کھیلتے ہیں اور اس سب کے زیادہ عادی ہیں۔ جب میں پہلی بار ان سب کے بارے میں سیکھ رہی تھی تو وہ پہلے ہی اس سے واقف تھے۔

’مجھے اعتماد محسوس نہیں ہوتا تھا، لیکن تجربے اور مشق کے ساتھ اب میں زیادہ پراعتماد محسوس کرتی ہوں۔‘

کولہاوا کے خاندان کو اس وقت فخر محسوس ہوا جب انہیں امپیریل وار میوزیم نے ان کے جنگی تجربات کے بارے میں زبانی تاریخ کا انٹرویو ریکارڈ کرنے کے لیے برطانیہ مدعو کیا۔

’یہ ایک ایسے آرکائیو کا حصہ ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ان کی کہانی محفوظ کرے گا۔

وہ کہتی ہیں کہ اس کام نے انہیں یہ احساس دلایا ہے کہ وہ ایک فرق پیدا کر رہی ہیں۔ سردیوں میں، روس کے مسلسل حملوں کے باعث یوکرینی عوام کو حرارت اور بجلی کی کمی اور بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’میں نے اپنی زندگی کی زیادہ قدر کرنا شروع کر دی ہے کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں آپ سوچتے ہیں: ’میں یہ بعد میں کر لوں گی، بعد میں کر لوں گی۔‘

لیکن پھر آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی زندگی ابھی جینی چاہیے۔‘

اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا کام پہلے ہی فرق پیدا کر رہا ہے ’جن کھیتوں میں ہم پہلے کام کر چکے ہیں، وہاں اب کسان دوبارہ کاشت کر رہے ہیں اور جہاں بارودی سرنگیں تھیں وہاں اب سورج مکھی کے کھیت ہیں۔‘

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین