پاکستان میں پاور ڈویژن نے ہفتے کو کہا ہے کہ گیس کی رسد متاثر ہونے اور دوبارہ گیس میں تبدیل کی گئی مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی آمد میں تاخیر کی وجہ سے عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن کے 29 اگست کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق: ’ملک میں کل (ہفتے) رات آر ایل این جی کی عدم دستیابی اور کارگو کے وقت پر نہ پہنچنے کی وجہ سے 3600 میگاواٹ کے شارٹ فال اور منگلا سے پیداوار میں 195 میگاواٹ کمی کے باعث رات کے زیادہ استعمال کے اوقات میں ڈیڑھ سے تین گھنٹے تک کی عارضی لوڈ مینیجمنٹ کی گئی۔
’جب کہ پیک آورز میں فرنس آئل کے پلانٹس کو بھی بروئے کار لایا گیا تاکہ ملک میں رات کے اوقات میں بجلی کی طلب کو پورا کیا جاسکے۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’جیسے ہی آر ایل این جی کے کارگو پہنچتے ہیں اس عارضی لوڈ مینیجمنٹ میں کمی لائی جائے گی۔ صارفین کی جانب سے رات کے اوقات میں بجلی کے استعمال میں اعتدال لانے کی ضرورت ہے تاکہ لوڈ مینیجمنٹ کو کم سے کم رکھا جائے۔
’دن کے اوقات میں کوئی بھی لوڈ مینیجمنٹ نہیں ہوتی تاہم جن علاقوں میں نقصانات کی وجہ سے لوڈ مینیجمنٹ کی جاتی ہے وہاں شیڈول کے مطابق بجلی مہیا کی جا رہی ہے۔ آر ایل این جی کی عدم دستیابی کی بنا پر رات کے اوقات میں عارضی لوڈ مینیجمنٹ پر معذرت خواہ ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 24 فیصد پن بجلی پیدا ہوتی ہے جب کہ 31 فیصد کوئلے سے، ایک فیصد فرنس آئل سے، 22 فیصد جوہری بجلی گھروں سے اور 17 فیصد گیس سے پیدا ہوتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس توانائی کی رسد میں خلل پڑا ہے، جس سے پاکستان کو تیل اور گیس کی کئی کھیپوں کی فراہمی میں تاخیر ہوئی اور وقفے وقفے سے بجلی بند کی گئی۔