پاکستان کے نئی دہلی میں ہائی کمیشن نے ہفتے کو بتایا کہ انڈیا کی جیلوں سے رہائی پانے والے 25 پاکستانی شہری واہگہ اٹاری سرحد کے راستے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
پاکستانی ہائی کمیشن کے مطابق سرحد پار قید دیگر پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے بھی کوششیں جاری رہیں گی۔
ان پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی ایسے وقت ہوئی ہے جب تقریباً دو ماہ قبل انڈیا نے قیدیوں کی فہرستوں کے معمول کے تبادلے کے دوران بتایا تھا کہ اس کی تحویل میں 439 پاکستانی یا ممکنہ طور پر پاکستانی قیدی ہیں، جن میں 53 ماہی گیر بھی شامل ہیں۔
انڈیا میں پاکستانی ہائی کمیشن نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’آج 25 پاکستانی شہریوں کو واہگہ اٹاری سرحد کے راستے وطن واپس بھیجا گیا۔ اس عمل میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان ہائی کمیشن کے حکام سرحد پر موجود تھے۔‘
ہائی کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت پاکستان انڈیا کی جیلوں میں قید تمام پاکستانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔‘
مقامی ذرائع ابلاغ نے فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ واپس آنے والے یہ 25 افراد ماہی گیر ہیں اور ان کا تعلق پاکستان کے جنوبی شہر کراچی اور ضلع ٹھٹہ سے ہے۔
پاکستانی اور انڈین ماہی گیر اکثر بحیرہ عرب میں دونوں ملکوں کے درمیان سمندری سرحد عبور کرنے پر گرفتار کر لیے جاتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سمندری حدود واضح نہ ہونے اور کشتیوں میں جدید نظام نہ ہونے کی وجہ سے عملے کے افراد بھٹک کر دوسرے ملک کی حدود میں داخل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اور انڈیا قونصلر رسائی سے متعلق 2008 کے دوطرفہ معاہدے کے تحت سال میں دو بار ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔
انڈیا نے رواں سال جولائی میں بتایا تھا کہ اس کی تحویل میں 439 پاکستانی یا ممکنہ طور پر پاکستانی شہری ہیں، جن میں 53 ماہی گیر اور 386 دیگر قیدی شامل ہیں۔
اسی طرح پاکستان نے اپنی تحویل میں موجود 250 انڈین یا انڈین سمجھے جانے والے قیدیوں کی فہرست دی تھی، جن میں 198 ماہی گیر اور 52 دیگر قیدی شامل تھے۔
اسلام آباد نے نئی دہلی سے ان 97 پاکستانی قیدیوں کو رہا کر کے وطن واپس بھیجنے کا مطالبہ بھی کیا تھا جن کی سزائیں مکمل ہو چکی تھیں اور جن کی پاکستانی شہریت کی تصدیق ہو گئی تھی۔
دونوں پڑوسی ممالک قیدیوں کی شہریت کی تصدیق کے بعد عام طور پر ماہی گیروں اور دیگر قیدیوں کو رہا کر دیتے ہیں، تاہم کشیدہ سفارتی تعلقات کے باعث اس عمل میں کئی ماہ یا کئی سال لگ سکتے ہیں۔