مکہ دفاعی معاہدہ اجلاس: پاکستانی فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم ترکی میں

دفتر خارجہ کے مطابق پیر کو استنبول میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور عاصم منیر کریں گے۔

چھ نومبر، 2024 کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کے دوران لی گئی تصویر (سعودی پریس ایجنسی)

پاکستان فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اتوار کو مکہ دفاعی معاہدے کے پہلے اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ گئے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ مکہ معاہدے کے تحت قائم کی جانے والی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست، 2026 (پیر) کو استنبول میں ہو گا۔

بیان کے مطابق اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور عاصم منیر کریں گے۔

’اجلاس میں ترکی اور سعودی عرب کے متعلقہ وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیف آف جنرل سٹاف بھی شرکت کریں گے۔‘

بیان کے مطابق ’اجلاس میں پاکستان کی شرکت ترکی اور سعودی عرب جیسے برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تاریخی دوستانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔‘

سات اگست کو طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ نے ایران جنگ اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تشویش کے شکار تین ممالک کو یکجا کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معاہدے کا مقصد جارحیت کی کسی بھی کارروائی کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

اس کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو نیٹو کے اجتماعی دفاع کی شق آرٹیکل فائیو سے مماثلت رکھتا ہے۔

ترک وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا ’عالمی سلامتی سے متعلق امور اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہوں گے۔‘ 

توقع ہے اجلاس میں دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان زیادہ بہتر باہمی تعاون اور دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے، جس میں مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی تیاری بھی شامل ہے، پر بات چیت ہوگی۔

ترکی، جس کے پاس نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج ہے، کہہ چکا ہے کہ پاکستان اور دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا یہ معاہدہ مزید ممالک کے لیے بھی کھلا ہے۔

مصر اس میں ممکنہ طور پر شامل ہونے والا ملک ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد موجودہ اتحادوں کی جگہ لینا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا