ہر رات مریم (فرضی نام) اپنا فون اس طرح رکھتی ہیں کہ کال آئے تو فوراً سنائی دے، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ افغانستان کے کسی دور دراز گاؤں میں زچگی کے دوران کسی خاتون کو اچانک ان کی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور وہ مریم سے رابطہ نہ کر سکے۔
مریم افغانستان میں بچیوں اور خواتین کو محفوظ زچگی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کرنے والی آخری چند مڈوائف ٹرینرز میں سے ایک ہیں۔ وہ ایسے وقت میں خدمات انجام دے رہی ہیں جب دائیوں اور نرسوں کی تربیت کرنے والی خواتین کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ دسمبر 2024 میں طالبان کے ایک حکم کے بعد خواتین کے لیے دائی اور نرس بننے کی تربیت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
طالبان کی جانب سے کارروائی کے خدشے کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک دور دراز کلینک سے گفتگو کرتے ہوئے 40 سالہ مریم نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ وہ برطانیہ کی معاونت سے چلنے والے ایک محدود پروگرام کا حصہ ہیں، جہاں پابندی کے باوجود دیگر خواتین کو تربیت دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کام انہیں ذاتی خطرے سے دوچار کرتا ہے اور اسے اس پیمانے پر جاری رکھنا ممکن نہیں، جس کی افغانستان میں خواتین کی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے ضرورت ہے۔
طالبان کے کابل پر قبضے اور سابق نیٹو حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کو پانچ سال گزرنے کے بعد افغانستان میں خواتین کی آزادی اور حقوق مسلسل محدود کیے گئے ہیں۔
صحت کی سہولیات تک رسائی بھی اس کی ایک مثال ہے۔ خواتین کو اکثر مرد ڈاکٹروں سے علاج کرانے کی اجازت نہیں ہوتی، جبکہ دوسری جانب مزید خواتین ڈاکٹروں کی تربیت بھی نہیں ہو رہی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس صورت حال کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ افغان خواتین طبی امداد سے محروم رہیں یا انہیں خفیہ طور پر علاج کرانا پڑے۔
مریم بتاتی ہیں: ’اگر کسی مریضہ کی حالت زچگی کے دوران اچانک خطرناک ہو جائے تو میری طالبات کسی بھی وقت مجھے فون کر سکتی ہیں۔‘ وہ افغانستان میں دائیوں کے کام کی موجودہ غیر یقینی اور مشکل صورت حال بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ زیادہ تر خواتین اور لڑکیوں کو آخری امید کے طور پر ان کے پاس لایا جاتا ہے، جب وہ شدید درد میں ہوں یا بہت زیادہ خون بہہ رہا ہو۔
وہ کہتی ہیں، ’یہ کسی دور دراز گاؤں کا معاملہ بھی ہو سکتا ہے جہاں راتوں رات کسی کی جان بچانے کے لیے ہماری ضرورت پڑ جائے اور مجھے فوراً روانہ ہونا پڑے۔
’یہ ایسی خاتون بھی ہو سکتی ہیں، جنہوں نے خفیہ طور پر میرا نمبر حاصل کیا ہو اور اسے مدد کی ضرورت ہو۔ زیادہ تر کیسز انتہائی سنگین اور زندگی یا موت کا معاملہ ہوتے ہیں کیونکہ افغان خواتین اب آزادانہ طور پر اپنی دیکھ بھال یا بنیادی طبی مشورہ حاصل نہیں کر سکتیں۔‘
مریم برطانیہ کی مالی معاونت سے چلنے والے ’ڈرائیونگ ایکشن فار ویل بینگ ٹو ایورٹ مورٹیلٹی‘ (DAWAM) منصوبے کا حصہ ہیں، جو امدادی ادارے ورلڈ وژن انٹرنیشنل کے اشتراک سے کام کرتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد حمل، زچگی اور غذائیت کے حوالے سے ماؤں اور بچوں کی صحت کے نتائج بہتر بنانا ہے۔
لیکن مریم کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اور مسئلے کی سنگینی بھی واضح ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں حمل اور زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث ہر دو گھنٹے میں ایک خاتون جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان میں ہر ایک لاکھ زندہ پیدائشوں میں 620 خواتین کی زچگی کے دوران موت واقع ہوتی ہے، جبکہ برطانیہ میں یہ شرح صرف 12.8 فی ایک لاکھ ہے۔
مریم کے مطابق ہنگامی صورت حال میں بہت سے دیہاتی طبی ماہرین کے بجائے مقامی مذہبی رہنماؤں سے مدد لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روایتی مذہبی پیشوا گھر آکر خاتون کے لیے دعا کرتے ہیں، جس کے بعد اس کی زندگی دعا اور امید کے سہارے رہ جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق 2030 تک افغانستان میں مزید 25 ہزار خواتین اساتذہ اور طبی کارکنوں کی کمی ہو جائے گی، کیونکہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر پابندی کے باعث ان کی جگہ نئی خواتین تیار نہیں ہو رہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
طبی تربیت افغان لڑکیوں اور خواتین کے لیے تعلیم جاری رکھنے کے آخری باقی ماندہ راستوں میں سے ایک تھی، تاہم طالبان کی جانب سے خواتین کے لیے نرسنگ اور دائی کی تربیت دینے والے اداروں پر پابندی کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم کے یہ مواقع بھی مزید محدود ہوتے جا رہے ہیں۔
پانچ بچوں کی ماں مریم، جو عالمی برادری کی مدد سے کم ہوتے امدادی بجٹ میں اس وقت تقریباً 80 طالبات کو تربیت دے رہی ہیں، کہتی ہیں ’مستقبل بہت تاریک ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ افغانستان اب ایک بار پھر اس تاریک دور کی طرف لوٹ رہا ہے جب ملک میں تربیت یافتہ دائیاں موجود نہیں تھیں۔ ان کا اشارہ 1990 کی دہائی میں طالبان کے سابقہ دور حکومت کی جانب تھا۔
مریم کے مطابق اس وقت بہت زیادہ اموات ہوتی تھیں اور معاشرے میں غیر معیاری اور غلط طبی طریقہ کار عام تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ اب خواتین ہمارے کلینکس تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ رہی ہیں اور بہت سے خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔
ان کی ساتھی ڈاکٹر فرہاد (فرضی نام) نے 2004 کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دور دراز گاؤں سے ایک ماں اور اس کے نومولود بچے کو گدھے پر سوار کرکے ان کے پاس لایا گیا تھا، کیونکہ پیدائش کے چند گھنٹوں بعد بچے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ 2004 میں ایک کلینک میں ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کے دوران ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ دو تین دن کا بچہ سانس لینے میں دشواری کا شکار تھا اور اس کے اہل خانہ اسے فوری طور پر کلینک لائے۔ جب انہوں نے بچے کو دیکھا تو اس کا رنگ نیلا اور زرد پڑ چکا تھا۔
ڈاکٹر فرہاد کے مطابق، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بچہ بمشکل 72 گھنٹے کا تھا۔ ماں نے بتایا کہ وہ شدید بیمار ہے اور سانس بھی نہیں لے پا رہا۔ بچہ دم توڑ چکا تھا۔
میں نے بچے کی ناف کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ اسے درست طریقے سے کاٹ کر باندھا نہیں گیا تھا، جس کی وجہ سے بچے کو انفیکشن ہوگیا۔ مجھے ماں کو یہ بتانا پڑا اور دکھانا پڑا کہ بچے کی ناف درست طریقے سے نہیں باندھی گئی تھی۔
دی لینسیٹ نے 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں خبردار کیا کہ طالبان کی جانب سے خواتین کی نرسنگ اور دائیوں کی تربیت پر پابندی کے نتیجے میں ایسی اموات ہوسکتی ہیں جنہیں روکا جا سکتا تھا، جبکہ خواتین کے پاس طبی امداد سے محروم رہنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
تحقیق کے مطابق خواتین کو نرسنگ اور دائیوں کی تعلیم سے روکنے سے اہم طبی عملے کی نئی کھیپ تیار ہونے کا سلسلہ رک گیا ہے۔
خواتین طبی کارکنوں کی عدم موجودگی میں افغان خواتین کے لیے علاج تک رسائی مزید مشکل ہوگئی ہے، کیونکہ مرد قانونی طور پر دائی کا کام نہیں کرسکتے اور معاشرتی روایات بھی خواتین کو مرد ڈاکٹروں سے علاج کروانے سے روکتی ہیں۔
مریم کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ برس کے دوران انہیں مسلسل دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا رہا ہے اور طالبان کی اخلاقی پولیس کی وزارت، جسے سرکاری طور پر وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کہا جاتا ہے، نے انہیں دو مرتبہ حراست میں بھی لیا۔
وہ کہتی ہیں: ’اس صورت حال نے مجھے بہت غصہ، دکھ، مایوسی اور تھکن دی ہے۔ پابندیوں نے ہمارے کام کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے کیونکہ جب بھی میں گھر سے باہر نکلتی ہوں، مجھے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر وقت کوئی ہمارا پیچھا کر رہا ہو۔‘
تاہم مریم کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ دائیوں کا یہ شعبہ ان کی نسل کے ڈاکٹرز اور نرسوں کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا۔
وہ کہتی ہیں: ’میں عمر رسیدہ ہو رہی ہوں۔ ہماری جگہ لینے کے لیے نئی نسل تیار نہیں ہو رہی اور ایسا کوئی مؤثر نظام بھی موجود نہیں جو اس بات کو یقینی بنا سکے کہ افغانستان کے دور دراز علاقوں میں خواتین کو مستقبل میں بھی صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل رہے۔ مجھے اس بات کی شدید فکر ہے۔‘
ورلڈ وژن انٹرنیشنل کے شعبہ وکالت کے ڈائریکٹر مارک کالڈر کا کہنا ہے کہ ادارہ طالبان کے ساتھ خواتین طبی کارکنوں کی تربیت کے سلسلے میں پیدا ہونے والے خلا پر ’مسلسل‘ اپنے تحفظات کا اظہار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق طالبان کی پابندی پہلے ہی خواتین کی صحت کی ’انتہائی سنگین صورت حال‘ کو مزید خراب کرے گی۔
انہوں نے کہا: ’ہمیں اس بات کا کوئی وہم نہیں کہ ہم اکیلے یا امدادی اداروں کا شعبہ مل کر ان پالیسیوں سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر کر سکتے ہیں، لیکن ہم اس خلا کو کم ضرور کر سکتے ہیں۔‘
انٹرویو دینے والوں کی درخواست پر ان کی شناخت محفوظ رکھنے کے لیے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔