افغان طالبان کے پانچ سالہ دور حکومت کے بعد افغانستان میں بھوک کا بحران اس قدر سنگین ہو گیا ہے کہ اقوام متحدہ غذائی امداد فراہم کرنے والے اپنے کارکنوں کو یہ تربیت دے رہی ہے کہ وہ فاقہ زدہ لوگوں کی ان پریشان کن فون کالز سے کیسے نمٹیں جن میں وہ اپنی جان لینے کا سوچنے کی بات کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام کا کہنا ہے کہ پانچ سال قبل 15 اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے کے وقت کے مقابلے میں اب مزید تقریباً 10 لاکھ افغان خواتین اور بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
ادارے کے مطابق پریشانی میں کی جانے والی فون کالز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر خواتین کی جانب سے، جو کہتی ہیں کہ اپنے خاندانوں کو کھانا فراہم نہ کر سکنے کی وجہ سے وہ اپنی جان لینے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔
عالمی خوراک پروگرام کے افغانستان میں سربراہ جان ایلیف نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ ’ہمارے پاس عالمی خوراک پروگرام کی ایک ہیلپ لائن ہے، جس پر لوگ فون کرتے ہیں۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران پریشانی میں افغان خواتین کی جانب سے کی جانے والی فون کالز میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے بہت سی خواتین اپنی جان لینے کی دھمکی دیتی ہیں۔‘
جان ایلیف کا کہنا ہے کہ مغربی حکومتوں کی جانب سے مالی امداد میں کٹوتی کے باعث ان کے ادارے کو غذائی امداد کا پروگرام محدود کرنا پڑا ہے اور اب وہ اپنے محدود وسائل عملے کو ایسی فون کالز سے نمٹنے کی دوبارہ تربیت دینے پر خرچ کرنے پر مجبور ہے۔
کابل میں تعینات جان ایلیف نے کہا: ’ہم نے فون کالز سننے والے اپنے عملے کو اپنی جان لینے سے متعلق کالز سے نمٹنے کی دوبارہ تربیت دی ہے، کیوں کہ ایسی کالز میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ لوگ اس قدر بے بس ہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آتی مدد کے لیے کہاں جائیں، کیوں کہ انہیں عالمی خوراک پروگرام کے ان پروگراموں سے نکال دیا گیا ہے جن کے لیے اب مالی امداد دستیاب نہیں۔‘
امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان پر طالبان کے قبضے کے پانچ سال بعد بھی لاکھوں افغان بھوک اور فاقہ کشی کا شکار ہیں اور پورے پورے خاندان آلو کے چھلکے کھا کر زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔ ملک کی تباہ حال معیشت کو بحال کرنے کی کوششوں کو طالبان کی جانب سے خواتین کے تعلیم اور کام کے حقوق پر عائد فرسودہ پابندیوں نے مزید نقصان پہنچایا ہے۔
اقوام متحدہ نے اگست میں خبردار کیا تھا کہ افغانستان کے 34 میں سے ایک تہائی صوبوں میں بچوں میں غذائی قلت تشویش ناک حد تک پہنچ چکی ہے اور مشرق وسطی اور یوکرین کی جنگوں کے باعث دنیا کے وسائل تقسیم ہونے سے صورت حال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے دفتر کی ترجمان اولگا چیریوکو نے دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ ’میں نے جن خاندانوں کے گھروں کا دورہ کیا، ان میں سے بعض اس قدر بدحالی میں زندگی گزار رہے تھے کہ انہوں نے مجھے دکھایا کہ وہ دوپہر کے کھانے میں کیا کھا رہے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر آلو کے چھلکوں کا ایک پیالہ تھا اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ کتنے عرصے سے سڑ رہے تھے۔‘
جان ایلیف کو یاد ہے کہ ہرات میں عالمی خوراک پروگرام کے ایک کلینک کے ڈاکٹروں اور نرسوں نے انہیں بتایا تھا کہ اب صورت حال کس قدر افسوس ناک ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا: ’ایک نرس نے، جس کی آنکھوں میں تقریباً آنسو تھے لیکن اس کے لہجے میں بے پناہ عزم اور حوصلہ تھا، مجھے بتایا کہ اس نے غذائی قلت کی اتنی سنگین صورت حال پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
’وہ شدید غذائی قلت کے تین گنا زیادہ مریضوں کا علاج کر رہی ہے اور یہ غذائی قلت کی بدترین قسم ہے۔‘
عالمی خوراک پروگرام افغانستان میں کام کرنے والے ان چند آخری بین الاقوامی اداروں میں شامل ہے جنہیں امداد تک رسائی حاصل ہے اور طالبان نے کام جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ یہ ادارہ غذائیت سے بھرپور بسکٹوں کے پیکٹوں کے علاوہ گندم، آٹا، چاول اور تیل جیسی بنیادی اشیائے خورونوش بھی تقسیم کرتا ہے۔
بیرونی امداد میں کٹوتی کے باعث ادارے کو صحت کے 142 مراکز بند کرنا پڑے ہیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 13 ہزار بچے غذائی قلت کے علاج سے محروم ہو گئے ہیں۔
جان ایلیف کے بقول: ’ہماری ملاقات سات بچوں کی ماں صدیقہ سے ہوئی۔ وہ کسی بھی طرح کی مدد کے لیے اس قدر بے بس تھی کہ اس نے ہم سے کہا، ‘کاش اللہ مجھے اور میرے بچوں کو موت دے دیتا، کیوں کہ اس طرح ہمیں بھوک کی تکلیف سے نجات مل جاتی۔‘
ہزاروں دیگر افغان ماؤں کی طرح صدیقہ بھی اپنے شیر خوار بچے کو دودھ نہیں پلا سکتی، کیوں کہ اسے کئی کئی دن کھانا نہیں ملتا اور شدید غذائی قلت کے باعث اس کے جسم میں دودھ نہیں بنتا۔
اس کی تین سالہ بیٹی کو شدید غذائی قلت کا خطرہ ہے اور اس کے نتیجے میں اسے سنگین طبی پیچیدگیاں لاحق ہونے کا بھی بہت زیادہ خدشہ ہے۔
عالمی خوراک پروگرام کے عہدے دار نے کہا کہ ’غذائی قلت کا بحران یقیناً پانچ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج افغانستان میں مزید 10 لاکھ خواتین اور بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
’ہم امداد کے لیے آنے والی شدید غذائی قلت کی شکار ہر سات خواتین اور بچوں میں سے چھ کو واپس بھیج رہے ہیں۔ یہ صورت حال انتہائی سنگین ہے، کیوں کہ شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کے بعد انسان کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ایسی حالت میں ہر سات میں سے چھ خواتین اور بچوں کو واپس بھیجنے کا دکھ بہت تکلیف دہ ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ 2021 میں نیٹو افواج کے انخلا کے بعد لوگوں کے بھوک سے جان جانے کا خطرہ اب بلند ترین سطح پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے گذشتہ چند برسوں کے دوران اس ملک میں ایک یا دو بار قحط دیکھا ہے۔ ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے، لیکن ہو سکتا ہے اور اب بھی اس کا خطرہ موجود ہے۔
’2022 میں ہم نے ملک کی نصف آبادی کو خوراک فراہم کی تھی۔ ملک پر قبضے کے بعد معیشت تباہ ہو گئی تھی اور ضروریات بہت زیادہ تھیں۔ اب ہم صرف 10 فیصد یا اس سے بھی کم آبادی کو خوراک دے رہے ہیں۔ اگست کے بعد خدشہ ہے کہ ہم کسی کو بھی خوراک فراہم نہیں کر سکیں گے۔‘
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تنازع کے باعث ملک میں امداد پہنچانے والے راستوں اور نظام میں خلل پڑا ہے، جس سے غذائی قلت کی شکار تقریباً 10 لاکھ خواتین اور بچے متاثر ہوئے ہیں۔
مشرق وسطی کی جنگ کے باعث ایران کے ساتھ یا ایران کے راستے افغانستان کی تجارت میں تقریباً 60 فیصد کمی آئی ہے۔
جان ایلیف کے بقول: ’ایران کے خلاف جنگ شروع ہوتے ہی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ہو گیا۔ اس طرح گندم، چاول اور دیگر بنیادی غذائی اشیا، جن کے سہارے غریب ترین خاندان زندہ رہتے ہیں، راتوں رات مہنگی ہو گئیں اور لاکھوں افغان خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہو گئیں۔‘
خواتین پر طالبان کی پابندیوں نے بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے، کیوں کہ ان پابندیوں نے افرادی قوت کے ایک بہت بڑے حصے کو کام سے باہر کر کے معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اولگا چیریوکو نے حال ہی میں روزگار اور صحت کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے صوبہ دایکندی کے دور دراز ضلع اشترلی کا دورہ کیا۔ وہاں ان کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی، جس نے مبینہ طور پر انہیں بتایا کہ خواتین کی تعلیم پر طالبان کی پابندی اس وقت ان کے لیے ’سب سے بدترین مسئلہ‘ ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’یہ بات بہت کچھ ظاہر کرتی ہے کہ دور دراز علاقوں کے لوگ بغیر پوچھے خود یہ بات کہہ رہے ہیں۔‘
جان ایلیف کو خدشہ ہے کہ اگر طالبان حکومت نے خواتین کے گھروں سے باہر کام کرنے پر پابندی جاری رکھی تو مستقبل میں صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’تحقیقی جائزوں اور اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2030 تک خاتون ڈاکٹر تلاش کرنا کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا اور خاتون ڈاکٹر نہ ہونے کی صورت میں بعض علاقوں میں خواتین طبی امداد لینے ہی نہیں آئیں گی۔
’اپنی افرادی قوت کے 50 فیصد حصے کو کام سے روکنا، کیوں کہ خواتین کے لیے کام کرنا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، معیشت پر انتہائی منفی اثر ڈال رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔‘
© The Independent