افغان طالبان نے اقوام متحدہ کے سیاسی مشن کے دو اہلکاروں کو حراست میں لے لیا

نائب ترجمان اقوام متحدہ فرحان حق نے صحافیوں کو بتایا کہ طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس نے اتوار کو مغربی شہر ہرات میں دونوں اہلکاروں کو حراست میں لیا۔

کابل میں 12 جون 2018 کو لی گئی اس تصویر میں اقوام متحدہ ہیبٹیٹ ٹیم کے افغان اہلکار کو غیر رجسٹر شدہ گھروں کی رجسٹریشن کے دوران دستاویزات چیک کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

اقوام متحدہ نے بدھ کو بتایا کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک میں اقوام متحدہ کے سیاسی مشن سے وابستہ دو افغان اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔

نائب ترجمان اقوام متحدہ فرحان حق نے صحافیوں کو بتایا کہ طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس نے اتوار کو مغربی شہر ہرات میں دونوں اہلکاروں کو حراست میں لیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مشن کو ابھی تک دونوں افراد پر عائد الزامات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔

فرحان حق نے کہا کہ مشن نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’اقوام متحدہ اور اس کے اہلکاروں کو حاصل مراعات اور استثنیٰ کی پابندی کو یقینی بنائیں۔‘

طالبان نے 15 اگست 2021 کو دوبارہ اس وقت اقتدار سنبھالا تھا، جب امریکی اور نیٹو افواج دو دہائیوں کی جنگ کے بعد ملک سے انخلا کر رہی تھیں۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد طالبان نے لڑکیوں کو سکولوں میں جانے سے روک دیا اور بعد میں ان پابندیوں کو اعلیٰ تعلیم، روزگار اور دیگر شعبوں تک بھی وسعت دے دی، جس کے نتیجے میں خواتین اور لڑکیاں عملی طور پر عوامی زندگی سے باہر ہو گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اقوام متحدہ کے سیاسی مشن کو سلامتی کونسل کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ میں افغان عوام کے لیے انسانی امداد کے فروغ اور معاونت، انسانی حقوق کے فروغ، خواتین اور لڑکیوں کے لیے مساوات، جامع طرزِ حکمرانی اور معاشی استحکام کی حمایت شامل ہے۔

دونوں افراد کو ایسے وقت میں حراست میں لیا گیا جب غربت اور مشکلات سے دوچار اس ایشیائی ملک میں انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے اور طالبان فورسز پاکستانی فورسز کے ساتھ سرحد پار لڑائی میں مصروف ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ سے وابستہ افغانستان کی محقق فریشتہ عباسی نے کہا کہ ان کی حراست ’پورے افغانستان میں اقوام متحدہ کے کام اور زندگی بچانے والی امداد فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’طالبان حکام کو زیرِ حراست افراد کو فوری طور پر رہا کرنا چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام امدادی ادارے دھمکی یا مداخلت کے بغیر اپنا کام کر سکیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا