پاکستان نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے مالی بحران کی وجہ سے امن مشن کی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
امن مشن کی خصوصی کمیٹی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کا مالی بحران گشت، نقل و حرکت اور فیلڈ میں موجودگی کو کم کر کے امن مشن کی کارروائیوں کو براہ راست نقصان پہنچا رہا ہے، جس کے مشن کی تکمیل، شہریوں کے تحفظ، تشدد کی روک تھام اور امن دستوں کی حفاظت اور سکیورٹی پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی امن اور سکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشنز ایک ناگزیر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسے بڑھتے ہوئے سیاسی، آپریشنل اور مالی دباؤ کا سامنا ہے جس کے لیے مشترکہ غور و فکر اور اقدام کی ضرورت ہے۔
امن مشن میں پاکستان کے طویل مدتی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ پاکستان قدیم ترین امن مشنوں میں سے ایک، انڈیا اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کی میزبانی کرتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان گذشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے فوج فراہم کرنے والے سب سے بڑے اور طویل ترین خدمات انجام دینے والے ممالک میں شامل رہا ہے، ڈھائی لاکھ سے زائد پاکستانی امن دستوں نے چار براعظموں کے 48 مشنوں میں خدمات انجام دی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے پاکستان کے ان 182 اہلکاروں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
پاکستان کےمستقل مندوب نے خبردار کیا کہ اگر مالی وعدے کمزور پڑ گئے اور مشن کسی واضح حکمت عملی کے بغیر سکڑتے رہے، تو اقوام متحدہ میں تعیناتی کے لیے مختص افواج کو برقرار رکھنے کے لیے فوج فراہم کرنے والے ممالک کی آمادگی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس میں ہنگامی انتظامات، فوری تعیناتی کی صلاحیتیں اور خصوصی یونٹ شامل ہیں۔
اصلاحات کو ضروری قرار دیتے ہوئے پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ امن مشن کو ٹیکنالوجی اور مضبوط شراکت داری کے ذریعے ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ چست، با مقصد اور بہتر طور پر لیس ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کا تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام اور جنگ بندی کی نگرانی اور تصدیق بنیادی کام ہیں، کیوں کہ سیاسی پیش رفت کی کمی کو مشن ختم کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔