’پیارے بچو، جو کچھ کرنا تھا کر لو، ابو آ رہے ہیں۔‘
مرحوم عامر لیاقت حسین کا یہ مکالمہ ایک زمانے میں اس جانب اشارہ کرتا تھا کہ چاہے کتنے ہی فنکار اور گلوکار ایڑی چوٹی کا زور لگا کر رمضان نشریات میں اپنے جلوے لٹا دیں لیکن عامر لیاقت حسین اس شعبے کے بےتاج بادشاہ ہیں، ان کی سلطنت کوئی ہلا نہیں سکتا۔ دیکھا جائے تو کچھ ایسا ہی تھا۔
پاکستان میں جب بھانت بھانت کے ٹی وی چینلز کی آمد ہوئی تو رمضان کے موقعے پر خصوصی نشریات کا بھی آغاز ہوا اور یہی وہ دور تھا جب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنی برجستہ گفتگو، خوبصورت اندازِ بیان اور منفرد میزبانی سے پاکستانیوں کے دل جیت لیے۔
وسیع و عریض سیٹس اور شہرت یافتہ مہمان ان کے پروگرام کا حصہ ہوتے۔ عامر لیاقت حسین کی خاص بات یہ ہوتی کہ جب وہ افطار اور سحری کے دوران علمائے کرام سے گفتگو کرتے تھے تو ان کا الگ مدبرانہ انداز ہوتا اور جیسے ہی وہ ان نشریات کے دوران کسی گیم سیگمنٹ کا حصہ بنتے تو ان کی شخصیت کا ایک نیا کھلنڈرا پن، شوخ و شنگ اور شرارتی روپ عیاں ہوتا۔
ایک طویل عرصے تک وہ جیو کے پلیٹ فارم سے رمضان نشریات کرتے رہے، جس کی وجہ سے سپانسرز کی ایک بڑی تعداد ان کے پروگرام سے جڑی رہتی۔ اسی مقبولیت، شہرت اور سب سے بڑھ کر آمدن کو دیکھتے ہوئے دیگر چینلز نے بھی رمضان نشریات کی شروعات کی۔ اب یہ عالم ہے کہ ہر چینل کے لیے رمضان نشریات ایک منافع بخش کاروبار کا روپ دھار چکی ہے۔
رمضان ٹرانسمشن کو صنعت کا درجہ دینے کا سہرا بلاشبہ مرحوم عامر لیاقت حسین کے سر ہی جاتا ہے، جنہوں نے سحری اور افطار نشریات میں وہ جدت اور انفرادیت پیش کی کہ رمضان کے آتے ہی ہر چینل والا انہیں ’کماؤ پوت‘ سمجھ کر بھاری معاوضے کے عوض ان کی خدمات حاصل کرتا۔
ہمیں یاد ہے کہ مرحوم عامر لیاقت حسین کے لیے رمضان کے ایام میں ایک ٹی وی چینل نے اپنے دفتر کے ایک حصے میں رہنے کا انتظام تک کر دیا تھا، یعنی انہیں گھر سے دفتر تک آنے کی زحمت سے بچایا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بھاری معاوضے کے عوض ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کئی ٹی وی چینلز کا سفر کرتے رہے۔ اسی دوران دیگر میزبانوں نے بھی اپنی جگہ بنائی۔ ان میں وسیم بادامی اور فہد مصطفیٰ کا نام نمایاں ہے، لیکن عامر لیاقت حسین کے چاہنے والوں کا ایک وسیع حلقہ موجود رہا۔
خیر کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ عامر لیاقت حسین جب پروگرام کے دوران تواتر کے ساتھ پٹری سے اترنے لگے تو اس نے ان کی ساکھ کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچایا۔ رہی سہی کسر ان کی نجی زندگی کے معاملات نے پوری کر دی۔ ایسے میں دوسرے اینکرز کو اپنی جگہ بنانے کا موقع ملا۔ یہ بھی فطری عمل ہے کہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ ناظرین کچھ نیا دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ نیا پن انہیں دوسرے اینکرز کی صورت میں رمضان نشریات کے دوران ملا۔
ناقدین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ رمضان عبادت، تلاوت، ذکر، صبر اور تقویٰ کا مہینہ ہے لیکن یہ نشریات تفریح، کمرشلائزیشن اور ریٹنگز کے لیے استعمال ہوتی ہیں، جہاں کچھ ایسے عجیب و غریب کھیل تماشے ہوتے ہیں جو وجہ تنقید بنتے ہیں۔ کچھ کو یہ بھی شکوہ ہے کہ جو اداکارائیں سارا سال اپنے ہوشربا انداز اور نظاروں سے دل گرماتی ہیں، انہیں کم از کم رمضان نشریات کا حصہ نہ بنایا جائے۔ اس معاملے میں کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے کہ وینا ملک کو 2013 میں رمضان نشریات کے پروگرام ’استغفار‘ کو ملک گیر سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن وینا ملک اکیلی نہیں ہیں، ان کے علاوہ بھی کئی اداکاراؤں کو رمضان ٹرانسمشن کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اس سال کون سا فنکار کس کا میزبان؟
اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ٹی وی چینلز کے نزدیک جتنا بزنس وہ رمضان میں حاصل کرتے ہیں وہ پورے سال ممکن نہیں ہوتا۔ جبھی ان نشریات کا ہر چھوٹے سے بڑا سیگمنٹ سپانسر ہو چکا ہوتا ہے۔ وقفے میں اشتہارات کی اس قدر بھرمار ہوتی ہے جو عام ایام میں نہیں ہوتی۔ رواں سال بھی شہرت یافتہ نامی گرامی چہرے رمضان نشریات میں اپنی صلاحیتوں کا امتحان لینے کے لیے آ رہے ہیں۔
فیصل قریشی جو مزاحیہ اور سنجیدہ اداکاری میں اپنی مثال آپ ہیں، وہ ٹی وی چینل ’آن‘ کے پلیٹ فارم سے ’بہارِ رمضان‘ کے میزبان ہیں۔ ایک اور اداکار دانش تیمور مقابلے پر ہیں جو گرین انٹرٹینمنٹ کے ’محفلِ رمضان‘ کی میزبانی رابعہ انعم کے ساتھ کر رہے ہیں۔
احسن خان اور جگن کاظم سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی سے ’رمضان پاکستان‘ کی میزبانی کی ذمے داری نبھا رہے ہیں۔ سمیع خان بھی اپنی غیر معمولی اداکاری کی وجہ سے ہر دلعزیز تصور کیے جاتے ہیں، جو بول ٹی وی سے حبا علی کے ساتھ ’رمضان میں بول‘ کے میزبان کے روپ میں ہیں۔
نادیہ خان بھی چینل 365 سے ’جشنِ رمضان‘ کرنے میں مگن ہیں۔ اسی طرح ساحر لودھی کو پسند کرنے والے انہیں چینل ’اور‘ کے ’رحمتِ رمضان‘ میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے علاوہ نعت خواں فرحان علی وارث بھی رمضان نشریات میں نظر آ رہے ہیں۔
فنکاروں کے ساتھ ساتھ اس رمضان میں علمائے کرام اور نعت خواہوں کی بھی بڑی ڈیمانڈ رہتی ہے بلکہ یہی وہ مقدس ماہ ہوتا ہے جب علما اور نعت خواہوں کو چینلز والے ہاتھوں ہاتھ لیے رکھتے ہیں۔ ان کے علاوہ جو مارننگ شوز کی میزبانی کرتے ہیں وہ الگ سحری اور افطاری نشریات میں اپنے جلوے لٹا رہے ہیں۔
ان ڈراموں کے ساتھ ساتھ فہد مصطفیٰ کے انعامی شو ’جیتو پاکستان‘ میں ہر سال کی طرح کرکٹ لیگ رمضان سپیشل کا میلہ سج چکا ہے جس میں شہرت یافتہ کھلاڑیوں اور اداکاروں کی ٹیمیں شامل ہوتی ہیں اور ہر ٹیم کی قیادت کوئی مقبول فنکار ہی کرتا ہے۔ رواں سال تابش ہاشمی بھی ’رمضان میں ہنسنا منع ہے‘ کا رمضان سپیشل پیش کرنے میں مصروف ہیں۔
ہر سال جب بھی رمضان کی آمد ہوتی ہے اور ٹی وی پر ان نشریات کو دیکھا جاتا ہے تو ذہن میں خود بخود جنید جمشید، عامر لیاقت حسین اور امجد صابری کی یاد آ جاتی ہے۔ اس سال تو ننھے منے احمد شاہ کے چھوٹے بھائی عمر شاہ کو بھی یاد کیا جائے گا جو گذشتہ برس چل بسے تھے۔
حالیہ برسوں میں رمضان ٹرانسمیشن زیادہ پروفیشنل اور پروڈکشن کے لحاظ سے جدید ہو چکی ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر لمحہ وائرل ہونے کی دوڑ جاری ہے۔ لائیو سٹریمنگ، یوٹیوب کلپس اور مختصر ویڈیوز نے ان پروگراموں کی رسائی کئی گنا بڑھا دی ہے۔ کبھی کوئی انوکھا سوال، کبھی کوئی غیر متوقع فون کال اور کبھی کوئی متنازع جملہ ادا کیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس امید پر ہوتا ہے کہ کلپ وائرل ہو اور چرچا ہر سو ہو۔
الزام تو یہ بھی لگتا ہے کہ اس مقصد کو پانے کے لیے ان پروگراموں میں طے شدہ فون کال بھی کروائی جاتی ہیں۔ پروگرام میں شامل علمائے کرام سے کچھ ایسے متنازع سوال دریافت کیے جاتے ہیں، جن کے کلپس وائرل ہو سکیں۔
گذشتہ سال بھی چند ایسے ہی ویڈیو کلپس مشہور ہوئے جن کا موضوع عجیب ہی تصور کیا گیا، جیسے کہ کوئی عالمِ دین سے چوتھی بار سر پر سہرا سجانے کے لیے وظیفہ دریافت کرتا ہوا پایا گیا تو کہیں کوئی اس جستجو میں رہا کہ ٹریفک چالان سے بچنے کا وظیفہ معلوم ہو جائے۔
پھر ایک اداکار جوڑے کی ازدواجی زندگی پر بھی اظہارِ خیال کیا گیا اور جان بوجھ کر ایسے متنازع سوال ان کی جانب اچھالے گئے تاکہ انہیں سوشل میڈیا کی زینت بنایا جائے۔
یہاں یہ بھی بتا دیں کہ مرحوم عامر لیاقت حسین کے رمضان پروگرامز کے دوران رمضان چھیپا ایک کونے میں خاموشی کا پیکر بن کر بیٹھے رہتے جو ’ہوں، ہاں اور جی‘ کے علاوہ کچھ نہیں بولتے تھے لیکن ان دنوں ان کی سوشل میڈیا پر اصلاحی ویڈیوز دیکھ کر سب ہی حیران ہیں کہ وہ اس قدر باتونی تھے تو کیوں چپ چاپ بیٹھے رہتے تھے۔
اب سوال یہ نہیں کہ کون سا پروگرام نشر ہو گا، بلکہ یہ ہے کہ کون سا پروگرام دلوں کو چھوئے گا اور کون صرف ریٹنگ کی دوڑ میں آگے نکلے گا۔ رمضان رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے، دیکھنا یہ ہے کہ چھوٹی سکرینیں اس پیغام کو کتنا سمیٹ پاتی ہیں اور کتنا صرف شور و ہنگامہ رہ جاتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔