افغانستان میں غذائی بحران شدید، اقوام متحدہ کا 10 کروڑ ڈالر منصوبے کا اعلان

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کو شدید غذائی بحران کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجوہات پاکستان سمیت پڑوسی ممالک سے افغان شہریوں کی بے دخلی، غیر ملکی امداد میں کمی اور معاشی بحران ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ایسے وقت میں غذائی تحفظ کے لیے 10 کروڑ ڈالر کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جب ملک کو شدید غذائی بحران کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجوہات پاکستان سمیت پڑوسی ممالک سے افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی، غیر ملکی امداد میں کمی اور معاشی بحران ہیں۔

افغانستان کی انسانی صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے، جہاں ترسیلات زر میں کمی، روزگار کے محدود مواقع اور بین الاقوامی امداد میں نمایاں کمی کے باعث لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہو چکے ہیں۔

جمعرات کو جاری بیان کے مطابق دو سالہ اس منصوبے کو اقوام متحدہ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی حمایت حاصل ہے اور اس کے تحت ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے افغان شہریوں سمیت حالیہ زلزلوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد پر مشتمل ایک لاکھ 51 ہزار سے زائد خاندانوں کی مدد کی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ڈائریکٹر کو ڈونگ یو نے کہا کہ یہ منصوبہ فوری غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں خوراک کی پیداوار کے خلا کو کم کرنے اور نجی شعبے کی بحالی کے لیے بھی مواقع پیدا کرے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف اے او نے اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ 2026 میں ایک کروڑ 74 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ 47 لاکھ افراد شدید غذائی قلت سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران ایران اور پاکستان سے 25 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو بے دخل کیا جا چکا ہے، جس کے باعث افغانستان کی آبادی میں تقریباً دس فیصد اضافہ ہوا ہے اور بہت سے خاندانوں کی ترسیلات زر بند ہو گئی ہیں۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ سخت سرد موسم، روزگار کی کمی اور فنڈز کی قلت نے گھریلو حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ سال افغانستان میں غذائی قلت میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور 2026 میں حالات مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا