’ہم صرف دعا کر سکتے ہیں‘: افغانستان میں غذائی قلت کے شکار بچوں کی پریشان مائیں

افغانستان میں چار لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار جن کے والدین بچوں کو بھوک سے بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

افغان خاتون جمیلہ کی اپنی آٹھ ماہ کی بیٹی کے ہمراہ یہ تصویر 8 جنوری 2026 کو ہیرات کے ہسپتال میں لی گئی (اے ایف پی)

24  سالہ نجیبہ کو ہر لمحہ اپنے بچی آرتیا پر نظر رکھنی پڑتی ہے جو اس سال افغانستان میں تقریباً چار لاکھ بچوں میں سے ایک ہیں جو شدید غذائی قلت کی وجہ سے زندگی کے خطرے میں ہیں۔

تین ماہ کی عمر میں نمونیا کا شکار ہونے کے بعد آرتیا کی حالت بگڑ گئی اور اس کے والدین ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال بھٹکتے رہے تاکہ کوئی مدد مل سکے۔

نجیبہ نے ہرات ریجنل ہسپتال میں اے ایف پی کو بتایا: ’مجھے مناسب آرام یا صحت مند خوراک نہیں ملی، جس کی وجہ سے اب میری دودھ پلانے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اب میری بچی کے لیے کافی دودھ بھی نہیں ہے۔‘

نجیبہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر خاندان کے کفیل الیکٹرک سپلائی سٹور پر کام کرتے ہیں۔ اپنے محدود وسائل سے آرتیا کا علاج کرانے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ان کے بچے کو پیدائشی طور پر دل کا مرض لاحق ہے۔

نجیبہ کہتی ہیں: ’کوئی ہماری تکلیف محسوس نہیں کر سکتا۔ ہم اس کے لیے دعا ہی کر سکتے ہیں۔‘

ورلڈ فوڈ پروگرام کے افغانستان ڈائریکٹر جان ایلیئف کے مطابق خواتین اپنی صحت اور غذائیت کی قربانی دے کر اپنے بچوں کو زندہ رکھے ہوئی ہیں۔

بڑھتی ہوئی غذائی قلت

ہرات میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز(ایم ایس ایف)  تنظیم کے زیر انتظام سینٹر میں ہر ماہ اوسطاً 315 سے 320 غذائی قلت کے شکار بچے داخل ہوتے ہیں۔

ایم ایس ایف کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر کے مطابق گذشتہ پانچ سالوں میں غذائی قلت کے کیسز کی تعداد مسلسل بڑھتی رہی ہے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد کم آمدنی والے خاندان بین الاقوامی امداد میں کمی، خشک سالی، اور پانچ لاکھ افغانوں کے ایران اور پاکستان سے واپس آنے کے اقتصادی اثرات سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جان ایلیئف نے کہا: ’2025 میں ہم 21ویں صدی کے آغاز کے بعد افغانستان میں بچوں میں غذائی قلت کے سب سے بڑے بحران کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ بحران اس سال اور بھی شدید ہوگا جہاں چار لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہوں گے اور انہیں علاج کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ’یہ بچے علاج نہ ہونے پر مر جائیں گے۔‘

ورلڈ فوڈ پروگرام نے اگلے چھ ماہ میں چھ لاکھ افغانوں کو خوراک فراہم کرنے کے لیے 39 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا ہے لیکن جان ایلیئف کے مطابق فنڈز حاصل کرنے کے امکانات ’انتہائی کم‘ ہیں۔

طالبان کی سخت پالیسی کے بعد دنیا بھر سے کیے گئے امداد کے وعدے افغان خواتین کی مدد میں بہت کم مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

جان ایلیئف کے بقول: ’افغان والدین اب اپنے بچوں کو اپنے بازوؤں میں بھوک سے مرتے دیکھ رہی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا