افغانستان میں چار لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار جن کے والدین بچوں کو بھوک سے بچانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
اس انعام کے امیدواروں کی فہرست کافی طویل تھی، لیکن نارویجین نوبیل کمیٹی نے اس انعام کے حوالے سے مکمل طور پر راز داری سے کام لیا اور یہ سامنے نہ آنے دیا کہ کون کا اس کا فاتح ہو سکتا ہے۔