برطانیہ کا افغانستان سمیت چار ملکوں کے لیے تعلیمی ویزے بند کرنے کا اعلان

ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے کہا: ’برطانیہ جنگ اور ظلم و ستم سے فرار ہونے والے لوگوں کو ہمیشہ پناہ فراہم کرے گا، لیکن ہمارے ویزا سسٹم کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘

افغان کمیونٹی کے ارکان 7 ستمبر 2021 کو وسطی لندن میں مظاہرہ کر رہے ہیں (جسٹن ٹیلس/ اے ایف پی)

برطانوی حکومت نے منگل کو افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے شہریوں کو تعلیمی ویزوں کا اجرا بند کرنے اور افغان شہریوں کے لیے ورک ویزے بھی روکنے کا اعلان کیا ہے۔ 

برطانیہ کے ہوم آفس نے کہا کہ یہ سب تارکین وطن کے حوالے سے اپنے وسیع پیمانے پر اقدامات کے حصے کے طور پر کیا جائے گا۔ 

ہوم آفس نے کہا کہ ان ممالک کے طلبہ کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے اور 2021 سے اب تک مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار سیاسی پناہ کے متلاشی افراد قانونی راستے استعمال کرتے ہوئے برطانیہ میں داخل ہوئے ہیں۔

برطانیہ کی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے ایک بیان میں کہا کہ ’برطانیہ جنگ اور ظلم و ستم سے فرار ہونے والے لوگوں کو ہمیشہ پناہ فراہم کرے گا، لیکن ہمارے ویزا سسٹم کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ میں ان شہریوں کے ویزے سے انکار کرنے کا بے مثال فیصلہ لے رہی ہوں، جو ہماری سخاوت کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہوم آفس نے کہا کہ 2021 اور 2025 کے درمیان افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے طلبہ کی پناہ کی درخواستوں کی تعداد میں 470 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

تارکین وطن برطانوی سیاست میں ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے جب کہ سخت دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے نے اپنے مائیگریشن مخالف موقف کے ساتھ رائے عامہ کے جائزوں میں اضافہ کیا ہے۔

یکے بعد دیگرے حکومتوں نے فرانس سے سمندر عبور کرنے والی چھوٹی کشتیوں کو روکنے کے لیے جدوجہد کی ہے، جو بڑی تعداد میں غیر دستاویزی تارکین وطن کو لاتی ہیں، لیکن حکام کو دوسرے راستوں سے داخل ہونے والے پناہ کے متلاشیوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے بھی دباؤ کا سامنا ہے۔

ہوم آفس نے کہا کہ حکومت نے ’2025 کے دوران طلبہ کی پناہ کی درخواستوں میں 20 فیصد کمی کی ہے، مزید کارروائی کی ضرورت ہے کیونکہ سٹڈی ویزے پر آنے والے اب بھی سسٹم میں تمام درخواستوں کا 13 فیصد ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا