غذائی قلت کے شکار افغان بچوں کی مائیں انصاف کی متلاشی

گذشتہ ایک سال سے طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچوں میں غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گذشتہ ایک سال سے طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچوں میں غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے (فوٹو: ویڈیو سکرین گریب/ روئٹرز)

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اندرا گاندھی چلڈرن ہسپتال کے تمام 40 بستر اور وارڈز غذائی قلت کے شکار بچوں سے بھر چکے ہیں، جن کا علاج جاری ہے۔

بھارت کے تعاون سے 1969 میں جب اندرا گاندھی چلڈرن ہسپتال تعمیر ہوا تھا تو تب اس کی گنجائش 150 بستروں کی تھی، جو وقت کے ساتھ کم ہو کر 40 بستروں تک محدود ہو چکی ہے۔

گذشتہ ایک سال سے طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچوں میں غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2021 میں صرف کابل کے ہسپتالوں میں 18 ہزار بچے غذائی قلت کی وجہ سے زیر علاج تھے جبکہ مارچ 2022 میں ایسے بچوں کی تعداد 28 ہزار تک ریکارڈ کی گئی تھی۔

رپورٹ میں رواں سال افغانستان میں غذائی قلت سے پانچ سال سے کم عمر کے 11 لاکھ بچوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمد اشرف اندرا گاندھی چلڈرن ہسپتال میں بچوں کے معالج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں معاشی بدحالی اور غربت میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ غربت میں جتنا اضافہ ہو گا، غذائی قلت سے متاثرہ مریضوں میں بھی اضافہ ہو گا۔‘

انہوں نے کہا: ’میں بین الاقوامی برادری اور دیگر امدادی تنظیموں سے کہوں گا کہ غریب لوگوں کی مدد کریں۔ خاص کر ان کی جو بیماری سے متاثر ہیں۔‘

یونیسف کے نیوٹریشن پروگرام کی سربراہ میلانی گالوین کہتی ہیں کہ ’افغانستان میں خوراک کی کمی کی سب سے بڑی وجہ غربت میں اضافہ ہے اور اس کے بعد دوسری وجہ قحط ہے۔‘

خبر رساں روئٹرز نے ہسپتال میں زیر علاج بچوں کی ماؤں سے گفتگو کی ہے۔

ایسے ہی ایک بچے کی والدہ ادیبہ نے بتایا: ’ہم بہت غم زدہ ہیں۔ ہم اداس ہیں۔ میں، اس (بچے) کے والد، اس کی بہنیں سب غمگین ہیں۔‘

انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں کہا: ’میرے شوہر نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ ایران جانا چاہتے ہیں تاکہ کام تلاش کر سکیں کیوں کہ انہیں شرم آتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے ادویات اور دودھ بھی نہیں لے سکتے۔‘

ادیبہ نے کہا: ’وہ (میرے شوہر) کہتے تھے کہ میرا بیٹا میری آنکھوں کے سامنے مر رہا ہے لیکن میں کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے افغانستان تاحال بین الاقوامی مالی امداد کا منتظر ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری انسانی حقوق کو بنیاد بنا کر طالبان انتظامیہ کی امداد کرنے سے گریزاں ہے۔

اندرا گاندھی چلڈرن ہسپتال میں زیر علاج ایک اور بچی کی والدہ گُل بی بی نے کہا: ’ہمیں دنیا سے انصاف چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہم پر توجہ دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری معیشت بہتر ہو۔ ہمیں کب تک دکھ جھیلنا ہوگا؟ ہم پریشان ہیں۔‘

افغانستان میں بچوں میں غذائی قلت ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہی ہے، لیکن یونیسف کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد صورت حال مزید خراب ہوئی ہے۔

طالبان نے گذشتہ سال اگست میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی افواج کے انخلا کے دوران افغانستان کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔

انخلا کے بعد اور امریکہ سمیت دیگر امداد دینے والے عناصر کے ہاتھ کھینچنے کی وجہ سے افغانستان میں مالی بحران اور انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ یہاں خوراک کی قلت ہے جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

طالبان انتظامیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے منجمد اثاثے ان کے حوالے کیے جائیں، تاہم اس پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت