آل راؤنڈر معاذ صداقت کی کارکردگی نے پاکستان کو شاندار واپسی میں مدد دی اور ٹیم نے جمعے کو تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوسرے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں 128 رنز کی بڑی فتح کے ساتھ بنگلہ دیش کے ساتھ سیریز برابر کر دی۔
میرپور کے شیرِ بنگلا نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں بنگلہ دیش کے کپتان مہدی حسن مرزا نے ٹاس جیت کر پاکستان کے خلاف پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔
پاکستان نے اپنی اننگز میں 47.3 اوورز میں 274 رنز بنائے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی بلے باز معاذ صداقت نے سب سے زیادہ رنز بنائے۔ کھیل پر ان کا اثر پاکستان کی اننگز کے آغاز ہی سے نظر آیا جب انہوں نے 46 گیندوں پر 75 رنز بنا کر ٹیم کو جارحانہ آغاز فراہم کیا اور پاکستان کا مجموعہ 274 رنز تک پہنچا دیا۔
اسی طرح سلمان علی آغا اور محمد رضوان نے بالترتیب 64 اور 44 رنز بنائے۔
بنگلہ دیش کے رشاد حسین نے 56 رنز دے کر 3 پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ مہدی حسن میراز نے 2 اور مستفیض الرحمٰن نے ایک وکٹ لی۔
بنگلہ دیش نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو پاکستانی فاسٹ بولرز نے میزبان ٹیم کی ابتدائی بیٹنگ لائن کو دباؤ میں لے لیا اور بارش کے باعث طویل وقفے سے پہلے ہی تین وکٹیں حاصل کر لیں۔ بعد ازاں ڈی ایل ایس میتھڈ کے تحت میچ کو کم کر کے 32 اوورز کر دیا گیا اور ہدف 242 رنز مقرر ہوا، جو حقیقت میں کبھی قابلِ حصول نظر نہیں آیا۔
پاکستان کے 275 رنز کے ہدف کے تعاقب میں لٹن ڈاس 44، توحید ہریدو 28 اور عفیف حسین 14 رنز بناکر سرفہرست رہے۔
معاذ صداقت نے تین وکٹیں حاصل کر کے اپنا حصہ ڈالا جبکہ حارث رؤف نے آخری بلے بازوں کو آؤٹ کرتے ہوئے بنگلہ دیش کو 114 رنز پر ڈھیر کر دیا۔ یہ بالکل وہی سکور تھا، جس پر بدھ کو پاکستان آؤٹ ہوا تھا۔
شاہین آفریدی نے 22 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے قبل بدھ کو کھیلے گئے پہلے میچ میں فاسٹ بولر ناہید رانا نے 24 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کرتے ہوئے پاکستان کو صرف 114 رنز پر ڈھیر کر دیا تھا، جس کے بعد بنگلہ دیش نے آٹھ وکٹوں کی شاندار فتح کے ساتھ تین میچوں کی سیریز میں برتری حاصل کر لی تھی۔
آج کے میچ میں بنگلہ دیش نے اپنی وہی پلیئنگ الیون برقرار رکھی، جبکہ پاکستان نے ایک تبدیلی کی۔
پاکستان نے اپنے ناتجربہ کار بلے بازوں کو ایک اور موقع دیا، حالانکہ پہلے میچ میں ون ڈے ڈیبیو کرنے والے صاحبزادہ فرحان، شمیل حسین، معاذ صداقت اور عبدالصمد فاسٹ بولر ناہید رانا کی رفتار اور مہدی حسن کی آف سپن کے سامنے مشکلات کا شکار رہے تھے۔
پاکستان نے لیگ سپنر ابرار احمد کی جگہ فاسٹ بولر حارث رؤف کو ٹیم میں شامل کیا، اس امید کے ساتھ کہ وکٹ تیز گیند بازوں کے لیے زیادہ سازگار ثابت ہوگی۔