ایک نائٹ کلب واقعے کے بعد انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین سٹوکس کی قیادت خطرے میں پڑ گئی ہے۔
انگلینڈ کے سابق کپتان ڈیوڈ گوور نے منگل کو کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ بین سٹوکس کی ٹیسٹ کپتانی شاید اب ’ماضی کا حصہ‘ بن جائے کیونکہ وہ ایک نائٹ کلب میں رگبی کھلاڑی کے ساتھ پیش آنے والے جھگڑے میں ملوث پائے گئے۔
سٹوکس اور بولر گس ایٹکنسن پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کی جانب سے لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں فتح کے بعد پیر کی صبح ٹیم کرفیو کی خلاف ورزی پر تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دونوں کھلاڑی ایک ایسے واقعے میں بھی شامل ہوئے جو بعد میں ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگیا، جس میں ایک رگبی کھلاڑی بھی شامل تھا۔
اس واقعے میں انگلینڈ ٹیم کے ساتھ موجود ایک سکیورٹی گارڈ کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
یہ انگلینڈ ٹیم کے لیے ایک اور تنازع ہے، خاص طور پر اس آسٹریلیا کے دورے کے بعد جہاں ایک چار سے ایشز سیریز ہارنے کے دوران انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں میں شراب نوشی کے بڑھتے رجحان پر سوالات اٹھے تھے۔
— England's Barmy Army (@TheBarmyArmy) June 8, 2026
The ECB is currently investigating a breach of team protocols following the conclusion of the first Men’s Test against New Zealand.
Ben Stokes and Gus Atkinson were present at a nightclub in the early hours of Monday morning when an incident took place.… pic.twitter.com/weXOD3WThq
اگلے ہفتے اوول میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے سکواڈ کے اعلان میں تاخیر ہو چکی ہے اور اب یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ آیا سٹوکس کپتانی جاری رکھ سکیں گے یا نہیں۔
گوور نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا: ’وہ شدید خطرے میں ہیں۔ کپتان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ درست مثال قائم کرے، اگر آپ قیادت کر رہے ہیں تو آپ کو صحیح رویہ دکھانا ہوگا۔‘
گوور نے مزید کہا: ’انہیں اس مسئلے کو حل کرنا ہوگا۔ اگر آپ نے کرفیو ماننے پر اتفاق کیا ہے تو اس کی پابندی کرنا ہوگی۔‘
انہوں نے کہا: ’میں بین کا بہت احترام کرتا ہوں اور گذشتہ تین سالوں میں بطور کپتان ان کی کارکردگی بھی قابل تعریف رہی ہے لیکن اب
شاید اب مجھے ماضی کا صیغہ استعمال کرنا پڑے۔ مجھے نہیں معلوم وہ اس وقت کیا سوچ رہے ہیں، لیکن وہ یقیناً اس صورت حال پر شرمندہ ہوں گے۔‘
ان کے بقول: ’یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔ آپ نے خود کو ایک خراب صورت حال میں ڈال دیا اور خود کو خطرے میں بھی ڈالا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
35 سالہ سٹوکس نے گذشتہ سال انجری سے واپسی کے دوران شراب چھوڑنے کا ذکر کیا تھا، لیکن لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف 115 رنز سے جیت کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ ’میں تب تک حقیقی طور پر خوش نہیں ہوں گا جب تک لڑکوں کے ساتھ ایک بیئر شیئر نہ کرلوں۔‘
اگر سٹوکس سے کپتانی واپس لے لی جاتی ہے تو نائب کپتان ہیری بروک، جو پہلے ہی وائٹ بال ٹیم کے کپتان ہیں، اوول ٹیسٹ میں قیادت کر سکتے ہیں۔
یہ بروک کے لیے ایک حیران کن موڑ ہوگا کیونکہ وہ خود بھی ایک بار نائٹ کلب میں دیر رات شراب نوشی اور جھگڑے کے باعث جرمانہ اور تنبیہ کا سامنا کر چکے ہیں۔
اسی واقعے کے بعد انگلینڈ ٹیم نے کھلاڑیوں اور سٹاف کے لیے آدھی رات کا کرفیو نافذ کیا تھا۔
یاد رہے کہ 2017 میں بھی سٹوکس برسٹل کے ایک نائٹ کلب کے باہر ایک واقعے میں ملوث ہوئے تھے، جس پر ان پر جھگڑے کا مقدمہ درج ہوا تھا۔
بعد ازاں وہ 2017/18 کی ایشز سیریز سے باہر ہو گئے تھے، تاہم اگست 2018 میں برسٹل کراؤن کورٹ نے انہیں بے گناہ قرار دے دیا تھا۔