سال 2026 کا نصف عرصہ بالی وڈ کے لیے مجموعی طور پر مایوس کن ثابت ہوا۔ صرف چند فلمیں ہی واضح کامیابی حاصل کرسکیں جبکہ کئی بڑے بجٹ، سٹار کاسٹ اور سیکوئل فلمیں توقعات پر پوری نہ اتر سکیں۔ بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ بالی وڈ اب فلم بینوں کو سینیما تک لانے میں مشکلات کا شکار ہے۔
مجموعی طور پر پہلے چھ ماہ یہ ہی ظاہر کرتے ہیں کہ بالی وڈ اب بھی کامیابی کا مستقل فارمولا تلاش کر رہا ہے۔ اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ صرف چار سے پانچ بڑی کامیاب فلمیں ہیں اور ناکام فلموں کی ایک لمبی قطار ہے۔ اس عرصے کے دوران لگ بھگ 25 سے زیادہ فلمیں باکس آفس پر بری طرح ناکام رہیں۔
یہ کارکردگی ہے ایک ایسی فلم نگری کی جہاں ایک زمانے میں ہر دوسری سے تیسری فلم 100 کروڑ روپے تک کا کاروبار ہنستے کھیلتے کر لیتی تھی۔ جب فلم بین ’فرسٹ ڈے، فرسٹ شو‘ کے لیے بے تاب رہتے تھے۔ سینیما گھروں میں عوام کا رش ہوتا ہے، ہاؤس فل کے بورڈز فلم بینوں کے منہ چڑا رہے ہوتے پھر فلموں کے ٹکٹ بلیک میں فروخت ہوتے لیکن اب منظر بدلنے لگا۔
اب فلموں کی کمائی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ فلم بینوں سینیما گھروں سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور اب وہی فلمیں کامیابی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں جن کی تشہیر میں رقم پانی کی طرح بہائی جائے یا پھر سوشل میڈیا کا بھرپور سہارہ لیا جائے۔
کم تناسب
کامیاب فلموں میں دھرویندر ریوینج، بارڈر 2، ویلکم ٹو دی جنگل اور بھوت بنگلہ شمار ہو رہی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان فلموں نے اپنی مضبوط فرنچائز، عوامی مقبولیت اور غیر معمولی تشہیری مہم کی باعث فلم بینوں کو سینیما لانے پر مجبور کیا۔
بڑی سٹار کاسٹ کی تخلیق ’دھرویندر ریوینج‘ رواں سال کی اب تک کی سب سے بڑی بالی وڈ فلم بن چکی ہے۔ فلم پنڈتوں کا کہنا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک یہ فلم سب سے زیادہ کمائی کرنے والی تخلیق بن جائے گی۔یہ فلم انڈیا سمیت دنیا بھر میں کم و بیش ساڑھے 18 ارب بھارتی روپے کا کاروبار کرچکی ہے۔
لمبی فہرست
اس سال ’گنی ویڈز سنی 2‘ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جسے بعد میں او ٹی ٹی پر ریلیز کیا گیا۔ سنجے دت کی ’آخری سوال‘ تو ایک ہفتے بھی سینیما میں نہ ٹک سکی اور فلم ساز کے لیے کئی ادھورے سوال چھوڑ گئی۔
عامر خان کے بیٹے جنید خان کی فلم ’ایک دن‘ کو کمائی کے اعتبار سے اچھے دن دیکھنا نصیب نہ ہوئے۔ ان کے علاوہ ہدایت کار انوراگ کشپ کی بوبی دیول اور سانیہ ملہوترہ کی سٹار کاسٹ والی فلم ’باندر‘ کو ابتدا میں اچھی پذیرائی ملی لیکن پھر مناسب سکرینیں نہ ملنے کی وجہ سے یہ تخلیق پٹ گئی۔
ٹی وی میزبانی میں سپر ہٹ سمجھے جانے ولے کپل شرما کی ’دادی کی شادی‘ کا بھی برا ہی انجام ہوا۔ سنجے لیلا بھانسلی کی پروڈکشن کے تحت بننے والی فلم ’دو دیوانے شہر میں‘ کو دیکھنے فلم دیوانے سینیماؤں میں نہ آئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
متنازعہ اداکارہ کنگنا رناوٹ کی فلم ’بھارت بھاگے ودھاتا‘ کی انہوں نے غیر معمولی تشہیر کی کیونکہ اس کے ذریعے ان کی فلموں میں واپسی ہو رہی تھی لیکن فلم کو کامیابی نہ مل سکی۔ اندازہ لگائیں کہ تاپسی پنوں تک کی فلم ’آسی‘ بھی کامیابی کی آس پوری نہ ہونے پر سینیما گھروں سے اتار لی گئی۔
اس سال کی بدترین دیگر ناکام فلموں میں اکیس، او رومیو اور ‘تو یا میں‘ بھی شامل ہیں۔ یہ وہ تخلیقات تھیں جن کے بارے میں دعوے کیے جا رہے تھے کہ یہ باکس آفس پر تہلکہ مچا دیں گی لیکن اس کے برعکس ہی ہوا۔ اسی تناظر میں انہیں رواں سال کی نمایاں ڈیزاسٹر تخلیقات قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ان میں سے بعض فلموں کے بجٹ نسبتاً کم تھے اسی لیے انہیں او ٹی ٹی، سیٹلائٹ ٹی وی اور میوزک رائٹس سے کچھ نہ کچھ سرمایہ واپس مل سکتا ہے۔
اوسط درجے کا کاروبار کرنے والی فلمیں
بات کی جائے اوسط درجے کی کمائی کرنے والی فلموں کی تو شاہد کپور اور کریتی سینن کی ’کاک ٹیل 2‘ نے اب تک 90 کروڑ بھارتی روپے حاصل کیے۔ اسی طرح ہدایت کار امیتاز علی کی ’میں واپس آؤں گا‘ نے لگ بھگ 59 کروڑ روپے کا کاروبار کر لیا ہے۔ آشیمان کھرانہ، وامقہ گبی کی ہلکی پھلکی مزاحیہ فلم ’پتی پتنی اور وہ دو‘ نے 48 کروڑ روپے کی کمائی کی۔ اسی طرح رانی مکرجی کی فلم ’مردانی‘ نے 53 کروڑ روپے کا کاروبار کیا۔ ورن دھوان، مرنال ٹھاکر اور پوجا ہیج کی کامیڈی فلم ’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘ تقریباً 49 کروڑ روپے کا کاروبار کرسکی ہے۔
اگر بالی وڈ کی کامیاب ترین فلموں کا جائزہ لیں تو ان میں آپ کو ایکشن ملے گا، کامیڈی کا تڑکہ نظر آئے گا وہیں اداکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی۔ دھرویندر 2 کو ہی لے لیں جس میں رنویر سنگھ، ارجن رام پال، سنجے دت، آر مدھوان اور راکیش بیدی جیسے بڑے اداکار شامل رہے۔ بارڈر 2 کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے جس میں سنی دیول ، ورن دھوان، دلجیت دوسانجھ، سونم باجوہ سمیت کئی نامی گرامی اداکار نظر آئے، یہی فارمولا۔ ’ویلکم ٹو دی جنگل‘ میں بھی دہرایا گیا جس میں چن چن کر بالی وڈ کے ہر اداکار کو شامل کیا گیا۔ یہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ فلم ساز اور ہدایت کاروں نے ہر اداکار کی مقبولیت اور شہرت کو ’کیش‘ کرانے کے لیے انہیں اپنی فلم کا حصہ بنایا تاکہ ناکامی کے بھنور سے بچا جائے۔
انتہائی کم تعداد میں فلموں کی کامیابی، بالی وڈ کے لیے مسلسل خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ ویب سیریز اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی بڑھتی تعداد بھی اب کے سروں پر آن کھڑی ہوئی ہے۔ فلم بین اب گھر بیٹھے کم قیمت میں بہترین معیار کی تخلیقات دیکھ رہے ہیں۔ اب وہ صرف ان ہی فلموں کے لیے سینیما جانے کو ترجیح دیتے ہیں جو واقعی غیر معمولی ہوں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فلم ساز اور ہدایت کار کہانیوں میں جدت سے دور رہیں گے اور تخلیقی سوچ کو نئے زاویے سے نہیں آزمائیں گے تو مستقبل میں فلموں کی کامیابی کا یہ تناسب اور سکڑ جائے گا۔ اب یہ بالی وڈ کو سوچنا ہے کہ کامیاب فلموں کی تعداد کو بڑھانا ہے یا بتدریج اسی طرح کم سے کم کرنا ہے۔