تاریخ اور کہانیوں میں اکثر عورت کو مظلوم، بے بس یا پھر دوسری عورت کے خلاف سازشیں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، لیکن ہدایت کارہ زباد انور بلوچ نے اپنی نئی فیچر فلم ’ماہ پارہ‘ کے ذریعے اس پرانے تاثر کو زائل کرنے اور خواتین میں اتحاد اور سسٹر ہُڈ کے جذبے کو فروغ دینے کی ایک خوبصورت اور منفرد کوشش کی ہے۔
ہدایت کارہ زباد انور نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اپنی اس فلم، اس کے خیال اور اس کے پیغام کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی۔
فلم کو بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس سوال کے جواب میں زباد انور نے بتایا کہ جب انہوں نے پہلی بار اپنے والد کے ساتھ فلم ’مغل اعظم‘ دیکھی، تو اس کا ان کے ذہن پر بہت گہرا اثر ہوا۔
ان کے لیے یہ بات قبول کرنا مشکل تھا کہ ایک عورت کو صرف اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر دیوار میں چنوا دیا گیا یا کنویں میں پھینک دیا گیا۔ ہر دور میں یہی دکھایا گیا کہ محل میں خواتین نے ہی حسد کی بنیاد پر دوسری عورت کے خلاف سازشیں کیں اور اس کا وجود ختم کر دیا۔
زباد انور کا کہنا ہے کہ ’اگر انارکلی کا کردار آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے تو وہ صرف ایک المیہ اور دردناک کہانی کی وجہ سے ہے۔ میں اس سوچ کو بدلنا چاہتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ میں نے اس داستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی فلم کو ’انارکلی‘ کی کہانی سے متاثر ہو کر ضرور بنایا، مگر اس کا نام ماہ پارہ رکھا۔ ان کے نزدیک انارکلی تو ایک مخصوص اور تاریخی نام ہے لیکن ماہ پارہ کوئی بھی عام عورت ہو سکتی ہے۔ اس فلم کے ذریعے آج کے دور کی ہر عورت اس احساس کے ساتھ خود کو جوڑ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی فلم کا بنیادی فلسفہ صرف ایک بات پر مبنی ہے دوسری عورت کے دکھ کو سمجھنے والی عورت۔ اس فلم کو بنانے کی سب سے بڑی وجہ سسٹر ہُڈ یعنی خواتین کا باہمی اتحاد اور ہمدردی ہے۔
بقول ہدایت کارہ: ’فلم کی سب سے منفرد اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں کوئی ڈائیلاگ نہیں ہیں۔ اس پوری فلم کو شاعرانہ انداز میں ڈائریکٹ کیا گیا ہے۔ الفاظ کی جگہ اداکاروں کے چہرے کے تاثرات، ان کی آنکھوں کی زبان اور جسمانی اشارے ہی سب کچھ بیان کرتے ہیں۔ چاہے وہ غصہ ہو محبت ہو یا کوئی سازش ان تمام جذبات کو شاعرانہ اور تاثرات کے ذریعے پردے پر اتارا گیا ہے۔‘
فلم کی کاسٹ اور تیاری کے مراحل پر بات کرتے ہوئے زباد انور نے بتایا کہ ’سب سے بڑا چیلنج ان پانچ مرکزی اور مضبوط کرداروں کے لیے بہترین اداکاروں کا انتخاب تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’محدود بجٹ کے باوجود فلم میں ایک بہترین سٹار کاسٹ کو اکٹھا کیا گیا، جس میں مونا لیزا (جو ماہ پارہ کا کردار ادا کر رہی یں)، یوسف بشیر قریشی، نو شین شاہ، شہزاد شیخ اور جازب قمر شامل ہیں۔‘
بقول زباد: ’میں ان تمام منجھے ہوئے اداکاروں کی بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ پر اور اس موضوع پر بھروسہ کیا۔ تمام اداکاروں نے اس فلم کے لیے بھلائی کے جذبے کے تحت کام کیا اور کسی نے کوئی رقم نہیں لی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں اپنی اس کاوش کو مغل اعظم جیسی شاہکار فلم کے مقابل کھڑا کرنے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ وہ ایک عظیم مکتب فکر ہے اور میں محض ایک شاگرد ہوں۔ میں نے صرف اس سے ایک روشنی حاصل کی ہے تاکہ تاریخ کے ان بقیہ اوراق کو سامنے لا سکوں جنہیں ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ہم نے ہمیشہ مردوں کی جنگوں، فتح اور ان کی کہانیوں کو سنایا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان بہادر عورتوں کا ذکر کریں جنہوں نے بے پناہ مصائب کا سامنا کیا اور ہمیں آج اس مقام تک پہنچایا۔‘
زباد کے مطابق: ’ماہ پارہ انہی عورتوں کی قربانیوں، ان کی کارکردگی اور ان کے باہمی تعلق کو منظر عام پر لانے اور انہیں پذیرائی دینے کی شاعرانہ کوشش ہے۔‘