سعودی عرب نے ہفتے کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی اہم آبی گزرگاہوں کی ناکہ بندی کی کوششیں عالمی توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بحری جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔
فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہاز رانی میں خلل ڈالا، جبکہ یمن میں اس کے حوثی اتحادیوں نے بعد ازاں آبنائے باب المندب میں بھی جہاز رانی کو متاثر کیا۔ دونوں آبی گزرگاہیں تیل اور گیس کی برآمدات کے لیے انتہائی اہم راستے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
فیصل بن فرحان نے کہا کہ عالمی برادری بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب تمام بین الاقوامی آبی گزرگاہوں، بالخصوص آبنائے ہرمز، آبنائے باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں بحری جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں 28 فروری سے پہلے کی صورت حال بحال کی جائے اور اس پر کسی قسم کی فیس یا ٹیکس عائد نہ کیا جائے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب کسی بھی فریق کی جانب سے ان اہم آبی راستوں کو دباؤ، دھمکی یا ریاستوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کو مسترد کرتا ہے اور یہ مؤقف بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے مطابقت رکھتا ہے۔‘
فیصل بن فرحان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی اس تجویز کو مسترد کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بدلے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی سمیت دیگر شرائط پیش رکھی گئی تھیں۔