ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ثالثوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر نئی توجہ مرکوز کر دی ہے اور تہران نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے شرائط کی ایک فہرست تیار کرے گا جبکہ قطر کے ایک ایلچی نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ وہ جہاز رانی کی آزادی کا احترام کریں۔
امریکہ نے مذاکرات سے خود کو الگ کرتے ہوئے معاشی دباؤ کی مہم کو ترجیح دی ہے، جس کے بعد قطر کے وزیر اعظم نے جمعرات کو تہران میں ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی اور اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں جنگ سے پہلے والی کھلی بحری آمدورفت کی حالت بحال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
قطر، جو امریکہ کا اتحادی اور ایران کا خلیجی ہمسایہ ملک ہے، اور پاکستان نے جون میں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی ثالثی میں مدد دی تھی جس کے نتیجے میں امریکہ سے جنگ بندی ہوئی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے شرائط طے کی گئیں۔
ایران اور عمان کے درمیان واقع یہ تنگ آبی راستہ جنگ سے پہلے دنیا کی 20 فیصد تیل سپلائی کی گزرگاہ تھا۔
چھ ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد ایران نے دھمکی دی تھی کہ اس کی اجازت کے بغیر آبنائے سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا، جس کے نتیجے میں بحری آمدورفت کم ہو گئی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، یوں ایران کو مذاکرات میں ایک اہم برتری حاصل ہوئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جمعرات کو تہران کے دورے کے دوران قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ایرانی اعلیٰ حکام کے سامنے ’بین الاقوامی قانون کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے احترام کی اہمیت‘ اجاگر کی۔
بعد ازاں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ ثالثوں کی جانب سے شرائط واضح طور پر پیش کرنے کی درخواست کے بعد ایران آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط کی ایک فہرست تیار کر رہا ہے۔
المَنار ٹی وی کو مترجم کے ذریعے دیے گئے ایک انٹرویو میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران اور عمان آبنائے میں ایک بحری راہداری پر متفق ہو گئے ہیں، جس کا کچھ حصہ عمانی پانیوں اور کچھ ایرانی پانیوں میں ہو گا۔ ان کے مطابق اگر امریکہ ایران کی شرائط مان لیتا ہے تو جہاز ایک مخصوص مرکزی راستے سے گزریں گے۔
ماضی میں ایران کی شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، ہرجانہ اور پابندیوں کا خاتمہ شامل رہا ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا تہران ان مطالبات میں ایسی تبدیلی کرے گا جو امریکہ کے لیے قابلِ قبول ہو۔
حالیہ ہفتوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان صرف سخت بیانات کا تبادلہ ہوا ہے، جس کے باعث سفارت کاری کا عمل تیسرے فریقوں کے سپرد ہو گیا ہے۔
اب تک ایران جون کی اس مفاہمتی یادداشت پر واپس جانے پر اصرار کرتا رہا ہے، جس کے تحت جنگ بندی کے بعد 60 روز کے اندر مذاکرات ہونا تھے۔
تاہم جہاز رانی کے انتظامات پر ایران کے اختیارات کی مختلف تشریحات کے باعث یہ معاہدہ جلد ہی ناکام ہو گیا اور دستخط کے صرف تین ہفتے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یہ مفاہمتی یادداشت ’ختم ہو چکی ہے۔‘
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو کہا تھا کہ ایران اور عمان اصولی طور پر آبنائے میں آمدورفت کے انتظام اور آمدنی کی تقسیم پر متفق ہو گئے ہیں، لیکن ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے بعد میں کہا کہ دونوں ممالک اب بھی کسی معاہدے کی تفصیلات پر کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے آبنائے سے وہ بحری بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں، جو چند ماہ قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے بچھائی تھیں۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا: ’خلاصہ یہ ہے کہ آج بین الاقوامی بحری گذرگاہیں کھلی ہیں اور مثبت پیش رفت کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔‘
کوپر کے مطابق حالیہ مہینوں میں امریکی افواج نے تقریباً 75 کروڑ بیرل خام تیل لے جانے والے 1,500 تجارتی جہازوں کو آبنائے سے گزرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ آبنائے کھلی ہوئی ہے، لیکن ایرانی دھمکیوں کے باعث بہت سے جہاز اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ جہازوں کی نگرانی کرنے والی سروسز نے اندازہ لگایا ہے کہ سرگرمی معمول کے حجم کے صرف 5 سے 15 فیصد تک محدود رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز میں 70 واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں 19 ملاحوں کی اموات ہوئی ہیں۔