کشمیر: نیشنل کانفرنس انتشار میں کیوں؟

روح اللہ کے لیے مستعفی ہونا آسان نہیں، کشمیر میں بیساکھیوں کے بغیر سیاست کرنا مشکل ہے۔ نیشنل کانفرنس سے مستعفی ہونے کی صورت میں نہ وہ کرناٹک کے تھلیپتی وجے بن سکتے ہیں اور نہ نیو یارک کے ممدانی۔

جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ 22 ستمبر 2024 کو سری نگر میں اسمبلی انتخابات سے قبل انتخابی مہم کی ایک ریلی کے دوران ڈل جھیل میں پارٹی کا پرچم تھامے کشتی پر سوار ہیں (توصیف مصطفیٰ / اے ایف پی)

انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں آج کل آپ جس سے بھی ملتے ہیں تو وہ 1984 کو یاد کرتا ہے، جب نیشنل کانفرنس کی حکومت کو گرا کر پارٹی کو دو حصوں میں نہ صرف تقسیم کر دیا گیا تھا بلکہ کانگریس کی حمایت سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بہنوئی غلام محمد شاہ کو گدی نشین بھی بنا دیا گیا تھا۔

ہر کسی نے ’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘ کا راگ الاپ کر کانگریس کی کارستانی سمجھ کر اسے نیشنل کانفرنس کے حصے بخرے کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

اب جب سے نیشنل کانفرنس کے باغی رہنما اور رکن پارلیمان آغا روح اللہ نے اپنی پارٹی کی پالیسیوں پر تنقید کا نشانہ باندھا ہے، جس کے باعث ان پر پارٹی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بڑھ رہا ہے، اس وقت سے حکمران جماعت کا ایک طبقہ ان کو غلام محمد شاہ سے تشبیہ دینے لگا ہے۔

آغا روح اللہ نے پہلے سری نگر کی پارلیمان کی نشست بھاری ووٹوں سے جیتی جبکہ نیشنل کانفرنس کے سرکردہ رہنما عمر عبداللہ نے شمالی کشمیر کی نشست ہاری تھی، پھر اسمبلی انتخابات میں آغا روح اللہ کو انتخابی مہم چلانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے عمر عبداللہ سمیت بیشتر پارٹی رہنماؤں کی انتخابی مہم چلائی اور عوام سے وعدہ کیا کہ وہ آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے ملک میں ایک منظم تحریک چلائیں گے۔  

نیشنل کانفرنس نے اپنے انتخابی منشور میں اندرونی خود مختاری بحال کرنے کا ایجنڈا سر فہرست رکھا تھا، لیکن حکومت کی تشکیل کے بعد عمر عبداللہ کی سرکار آرٹیکل 370 کا نام لینے سے کتراتی رہی جبکہ آغا روح اللہ اس کے بغیر بات ہی نہیں کرتے بلکہ پارلیمان کے اندر باہر جا کر اس کی بحالی کی وکالت کرتے رہے۔

اس کے پیش نظر نیشنل کانفرنس اور روح اللہ کے بیچ تلخی اتنی بڑھ گئی ہے کہ پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے روح اللہ سے مستعفی ہونے کا کہا ہے حالانکہ انہوں نے چند روز پہلے انہیں اپنا بیٹا بتایا تھا۔

نوجوانوں کا ایک طبقہ روح اللہ کی طرف داری کرتے ہوئے تقاضا کر رہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کو واضح کر دینا چاہیے کہ کیا وہ آرٹیکل 370 کی بحالی کی مہم چلانے کی سزا روح اللہ کو دے رہی ہے اور دوسرا طبقہ اسے سنہ 84 سے تعبیر کرتا ہے، جب کانگریس نے نیشنل کانفرنس اور شیخ خاندان میں اندرونی پھوٹ ڈالی تھی۔ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کانگریس کا وہ کردار آج بی جے پی انجام دے رہی ہے۔

زمینی سطح پر نیشنل کانفرنس سرکار کی کارکردگی منفی رہی ہے اور وہ ابھی تک عوام کو کوئی راحت نہیں پہنچا سکی۔ نیشنل کانفرنس کے سرکردہ کارکن کہتے ہیں کہ یونین ٹریٹری کے ہائبرڈ نظام میں روزمرہ کا کام مشکل بن گیا ہے کیونکہ کام چلاؤ کا پیچیدہ اور منقسم سسٹم ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر حائل ہے۔

بی جے پی اس کو نہیں مانتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک جانب روح اللہ کے حامی نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے مابین اندرونی تال میل بتاتے ہیں، دوسری جانب روح اللہ کے بارے میں چہ مہ گوئیاں جاری ہیں کہ وہ کسی کے اشارے پر باغی بن کر پارٹی کو توڑنے کے درپے ہیں۔

عوام کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی سرکار پانچ سال پہلے اندرونی خود مختاری ختم کرنے کے فیصلے کو جائز سمجھ کر ریاستی درجہ حاصل کرنے پر اکتفا کر رہی ہے۔ آغا روح اللہ اس پر بدظن ہیں اور اپنے طور پر اندرونی خود مختاری کی بحالی کی مہم کو تیز کرنے کی کوشش میں ہیں۔

بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ’روح اللہ کو صرف اپنا ووٹ نہیں ملا بلکہ نیشنل کانفرنس کے بینر تلے انہیں کامیابی ملی اور پارلیمان سے لے کر اسمبلی تک کا ووٹ اصل میں بی جے پی مخالف ووٹ تھا کیونکہ اس وقت ووٹروں کے پاس صرف ایک ہی چوائس تھی، بی جے پی کو ووٹ ڈالنا یا پھر اس پارٹی کو جو بی جے پی کی پالیسیوں کے سامنے سینہ سپر رہ سکتی ہے مگر یہ سب سراب ثابت ہوا۔ اب جو بھی انتخابی منشور کو عملی جامہ پہنانے کی بات کرتا ہے تو اسے باغی قرار دے کر پارٹی سے نکلنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔‘

گو کہ روح اللہ اور ان کی پارٹی کے بیچ تلخیاں شدید ہو گئی ہیں البتہ عوام میں اس بات کو لے کر سخت بے چینی ہے کہ ان کے ووٹ کی نہ پارٹی نے عزت کی اور نہ انہیں کوئی راحت ملی ہے۔ بقول ایک ووٹر جس نے 55 برس کی عمر میں پہلی بار ووٹ ڈالا تھا، ’شاید انتخابی بائیکاٹ کی سابقہ پالیسی ہی ٹھیک تھی جب ہم سرکار سے نہ کسی راحت کا مطالبہ کرتے تھے اور نہ اس سیاسی اکھاڑے کا حصہ بنتے تھے۔‘

روح اللہ کے لیے مستعفی ہونا آسان نہیں، جموں و کشمیر میں بیساکھیوں کے بغیر سیاست کرنا مشکل ہے اور روح اللہ کو یہ سمجھ ہو گی کہ نیشنل کانفرنس سے مستعفی ہونے کی صورت میں نہ وہ کرناٹک کے تھلیپتی وجے بن سکتے ہیں اور نہ نیو یارک کے ممدانی کیونکہ وہ کشمیر جیسی پراسرار دنیا میں نہیں رہتے ہیں۔

مصنفہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی سینیئر صحافی ہیں۔ یہ تحریر ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر