جالب کی بیٹی کا دکھ: ایک رخ یہ بھی ہے

ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی ایک فرد کے دکھ کو بنیاد بنا کر وقتی جذباتی کتھارسس کرنے کی بجائے اس مسئلے کو اجتماعی تناظر میں دیکھا جائے۔

حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ جالب نےگذشتہ دنوں بتایا تھا کہ انہوں نے اپنی بہنوں اور بچوں کی کفالت کے لیے لاہور کی کریم بلاک مارکیٹ میں کھانے کا ڈھابہ قائم کیا، جسے انتظامیہ نے ایک روز بعد ہی ہٹوا دیا (ویڈیو گریب: طاہرہ جالب)

حبیب جالب کی بیٹی کی خبر پڑھی تو دل اداس ہو گیا کہ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں اور یہ تو ہمارے جالب صاحب کی بیٹی ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر جاری اس سوگوار مہم کا حصہ بننے کی بجائے چند اہم نکات پر غور کر لینا چاہیے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ ہم سرمایہ کار سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ اگر ہم نے اور ہمارے بچوں نے رزق کمانا ہے تو سرمایہ کار تو اس عمل کا ناگزیر حصہ ہے۔ سرمایہ کار ہو گا تو سرمایہ کاری ہو گی۔ سرمایہ کاری ہو گی تو معیشت کا پہیہ چلے گا۔ لیکن ہمارے ہاں جالب صاحب سے اب تک ایک عجب رجحان رہا ہے کہ سرمایہ کار کو تو ہم شیر کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ ہمارے بس میں ہو تو اسے کھا ہی جائیں۔

سرمایہ دار کا وجود ہمارے نزدیک ایک گالی ہے، ہم اس سے نفرت کرتے ہیں، جس کے پاس چار پیسے ہوں، اسے ہم بے ایمان تصور کرتے ہیں۔

حبیب جالب صاحب کی شاعری میں بھی یہ آزار نمایاں ہے۔ سالوں پہلے اپنے سرمایہ کاروں پر انہوں نے غیض و غضب کے عالم میں جو فرد جرم عائد کی تھی۔ ذرا پڑھ لیجیے:

گوہر، سہگل، آدم جی

بنے ہیں برلا اور ٹاٹا

افتاد طبع دیکھیے کہ ہائے ہائے، یہ ہمارے گوہر، سہگل اور آدم جی جیسے سرمایہ کار اب انڈیا کے برلا اور ٹاٹا بنے پھرتے ہیں یعنی یہ کتنا بڑا جرم تھا کہ پاکستان کا کوئی سرمایہ کار انڈیا کے ٹاٹا اور برلا جیسی بڑی صنعتی امپائر کھڑی کرنے کا سوچ ہی لے۔

دو چار سرمایہ کاروں کے پاس پیسے آئے تو شاعر عوام دہائی دینے لگے کہ ہائے ہائے ذرا ظلم تو دیکھو ہمارا صنعت کار ہو کر ترقی کے خواب دیکھتا ہے۔ برلا اور ٹاٹا بننا چاہتا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چنانچہ شاعر عوام نے دہائی دی:

کھیت وڈیروں سے لے لو

ملیں لٹیروں سے لے لو

رہے نہ کوئی عالی جاہ

بھٹو صاحب خود وڈیرے تھے، انہوں نے اپنا کھیت تو کسی کو نہیں دیا، لٹیروں سے ملیں لے لیں، ادارے نیشنلائز کر دیے اور پھر وہی سیاسی بھرتیوں کا ایسا آسیب اترا کہ یہ ادارے سفید ہاتھی بن گئے اور اب ان کی اونے پونے داموں نج کاری کر کے ان سے جان چھڑائی جا رہی ہے۔

 ایسا ستیا ناس ہوا کہ اب تک کمر سیدھی نہیں ہو رہی۔ گوہر سہگل اور آدم جی کا ایسا آملیٹ بنا کہ ملک میں کوئی بھی برلا یا ٹاٹا نہ بن سکا۔ معیشت کی چولیں یوں ہلیں کہ آج تک سنبھل نہیں پائیں۔

ہم آج تک سرمایہ دار کو قبول نہیں کر پائے۔ بیوروکریسی کی رکاوٹیں پہاڑ جیسی ہیں، معیشت دوست ماحول بن ہی نہ سکا۔ سرمایہ اور سرمایہ کار ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب سرمایہ دار سے نفرت کی جائے تو پھر معیشت اپنے قدموں پر کھڑی نہیں ہو سکتی اور جب معیشت قدموں پر کھڑی نہ ہو تو پھر روزگار کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسرا نکتہ سمجھنے کا یہ ہے کہ ہمیں اپنے نظریات اور سیاسی وابستگی کے تعاقب میں اتنا دور نہیں جانا چاہیے کہ گھر، خاندان اور معیشت نظر انداز ہو جائے۔ نرے نظریات سے گھر کا چولہا نہیں جلتا۔ ایک توازن ضرور قائم رہنا چاہیے۔

جالب صاحب کو برائے وزن بیت شاعرِ عوام ضرور کہا جاتا ہے لیکن وہ پیپلز پارٹی کے قریب تھے۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے پیپلز پارٹی حکومت پر تنقید بھی کی لیکن افتاد طبع کی میلان ادھر ہی تھا۔ پیپلز پارٹی والوں نے اپنی تو نسلیں سنوار لیں لیکن کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ جالب کے بیٹی کے لیے بھی کوئی مستقل معاشی بندوبست کر دے۔

کامریڈوں کا حال بھی یہی ہے۔ جالب کے نام پر عالی شان ہوٹلوں میں محفلیں سجائی جاتی ہیں۔ آسودہ حال شرکا وہاں تشریف لاتے ہیں۔ ان میں سے بعض وہ بھی ہوتے ہیں جو حقوق انسانی تخلص کرتے ہیں اور غریب پروری اوڑھ کر قیلولہ فرماتے ہیں لیکن ان میں سے کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ جالب کی بیٹی کی خیریت ہی پوچھ لے۔

یہ نکتہ یوں زیادہ مربوط اور مؤثر انداز میں آ سکتا ہے:

اسی طرح اس معاملے کو بھی سطحی انداز میں دیکھنے کی بجائے ذرا گہرائی میں جا کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ صرف یہ کہہ کر شور مچا دینا کافی نہیں کہ ایک بڑے شاعر کی بیٹی مالی مشکلات کا شکار ہے یا ان کا ڈھابہ اٹھا دیا گیا ہے۔

سامنے کی بات یہ ہے کہ اگر وہ ڈھابہ مروجہ قانون اور ضابطے کے خلاف قائم کیا گیا تھا تو اسے ہٹایا ہی جانا تھا۔ تجاوزات کے خلاف ایک مہم پہلے ہی جاری ہے، ایسے میں کسی ایک ڈھابے کو صرف اس بنیاد پر استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا کہ وہ حبیب جالب کی بیٹی کا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ایک بڑا سوال بھی ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور معاشی پریشانی صرف حبیب جالب کی بیٹی کا مسئلہ نہیں۔ یہ اس معاشرے کے بے شمار سفید پوش خاندانوں اور شرفا کے گھروں کا المیہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہر کسی کے پیچھے حبیب جالب کا نام نہیں ہوتا اور ہر کسی کے دکھ کو میڈیا کی اتنی توجہ نہیں ملتی۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی ایک فرد کے دکھ کو بنیاد بنا کر وقتی جذباتی کتھارسس کرنے کی بجائے اس مسئلے کو اجتماعی تناظر میں دیکھا جائے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے،ا نڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر