چاند پر ایئرپورٹ اور خلائی ٹریفک کنٹرول کے لیے قواعد تجویز

چاند کے لیے پروازیں پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتی ہیں کیونکہ خلا نوردوں، خلائی جہازوں، سامان اور دیگر ٹریفک کی آمد سے اس کے اطراف کا علاقہ بھر جائے گا۔

اگلی دو دہائیوں کے دوران چاند کی سطح خلائی مسافروں کے لیے ایک مصروف مرکز بن سکتی ہے (ناسا)

ماہرین نے چاند پر ایک ہوائی اڈے کے لیے قواعد وضع کیے ہیں۔

اگلی دو دہائیوں کے دوران چاند کی سطح خلائی مسافروں کے لیے ایک مصروف مرکز بن سکتی ہے۔

ناسا اور دیگر خلائی ادارے جلد ہی وہاں مستقل رہائش گاہیں قائم کرنے کی امید رکھتے ہیں، جنہیں چاند کو بہتر طور پر سمجھنے کے ساتھ ساتھ مزید گہری خلائی مہمات کے راستے میں ایک پڑاؤ کے طور پر بھی استعمال کیا جائے گا۔

لیکن یہ پروازیں بالآخر پیچیدہ صورتحال پیدا کر سکتی ہیں کیونکہ خلا نوردوں، خلائی جہازوں، سامان اور دیگر ٹریفک کی آمد سے چاند کے اطراف کا علاقہ بھر جائے گا۔

مثال کے طور پر ناسا کا منصوبہ ہے کہ وہ ایک ’گیٹ وے‘ تعمیر کرے جو باقاعدہ ٹیک آف اور لینڈنگ کی سہولت فراہم کرنے والا چاند کے مدار میں پہلا خلائی اڈہ ہو گا۔

کسی نہ کسی طرح خلائی اداروں کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ چاند کے گرد بھی اپنی نوعیت کا خلائی ٹریفک کنٹرول موجود ہو تاکہ خلائی جہاز چاند پر پہنچتے اور وہاں سے روانہ ہوتے وقت محفوظ رہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں

اب سائنس دانوں نے ریاضی کے اصولوں پر مبنی متعدد نئے قواعد تجویز کیے ہیں تاکہ زمین، چاند اور خلا کے دیگر حصوں کے درمیان سفر کو محفوظ بنایا جا سکے۔

نئی تحقیق میں ایک فلائٹ مینوئل اور مدار کے حوالے سے ’سڑک کے قواعد‘ تجویز کیے گئے ہیں تاکہ متعدد خلائی جہاز چاند کے گرد موجود علاقے میں ایک دوسرے کے ساتھ محفوظ انداز میں سفر کر سکیں۔

یہ قواعد ناسا کے جانسن سپیس سینٹر کے ماہرین اور ٹیکساس اے اینڈ ایم اور پرڈیو یونیورسٹیوں کے محققین نے مل کر مرتب کیے ہیں۔

ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے کالج آف انجینیئرنگ میں خلائی انجینیئرنگ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تحقیق کی مصنفہ ڈیان ڈیوس نے کہا ’چاند کی مستقبل کی تلاش کا انحصار جتنا راکٹ سائنس پر ہے، اتنا ہی ٹریفک مینیجمنٹ پر بھی ہے۔‘

محققین کے مطابق اس نظام کے لیے ایک ’آسمانی شاہراہ‘ استعمال کی جائے گی جو کششِ ثقل کے اصول پر کام کرے گی۔

ناسا کے گیٹ وے اور وہاں جانے والے خلائی جہاز Near Rectilinear Halo Orbit (NRHO) میں سفر کریں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق ’گیٹ وے کا این آر ایچ او چاند کے گرد ایک تقریباً مستحکم اور انتہائی طویل مدار ہے، جو زمین کے ساتھ مواصلات کے لیے مسلسل براہِ راست رابطہ فراہم کرتا ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے بہت کم ایندھن درکار ہوتا ہے۔‘

مسئلہ یہ ہے کہ انڈے کی شکل کے اس مدار پر زمین اور چاند کی باہمی کشش ثقل اثرانداز ہوتی ہے جبکہ یہ مدار اتنا وسیع اور غیر معمولی ہے کہ خلائی جہاز چاند کے قطبِ شمالی سے تقریباً 1,000 میل دور یا چاند کے قطبِ جنوبی سے تقریباً 40,000 میل دور خلا میں جا سکتے ہیں۔

ایک خلائی سٹیشن کبھی کبھار تھرسٹرز چلا کر اپنے مدار کو برقرار رکھ سکتا ہے لیکن متعدد خلائی جہازوں کی موجودگی صورتحال کو زیادہ پیچیدہ بنا دے گی، خصوصاً ایسے خلائی جہاز بھی ہوں گے جن میں خلا نورد موجود نہیں ہوں گے۔

ایسے میں یہ یقینی بنانا زیادہ مشکل ہوگا کہ تمام خلائی جہاز ایک دوسرے کے راستے سے محفوظ فاصلے پر رہیں۔

اس مقصد کے لیے خلائی جہازوں کو بھی کچھ دیر کے لیے ’لوئٹر‘ کرنا پڑے گا، بالکل اسی طرح جیسے طیارے بعض اوقات ایئرپورٹ کے قریب چکر لگاتے ہیں یا گیٹ پر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔

تاہم خلائی جہازوں کو اپنی باری کے انتظار میں کئی ہفتوں تک رکنا پڑ سکتا ہے اور وہ ایسے ماحول میں یہ کام کر رہے ہوں گے جہاں ہر چیز مسلسل حرکت میں ہے اور خطرات بھی کہیں زیادہ ہیں۔

ڈاکٹر ڈیوس نے کہا ’ہر خلائی جہاز مسلسل حرکت میں رہتا ہے۔ یہ ایک ایسا ’گولڈی لاکس زون‘ ہے جہاں ’پارک کیے گئے‘ خلائی جہازوں کو ایک دوسرے سے اتنا دور رکھنا ضروری ہے کہ وہ محفوظ رہیں، لیکن منزل کے اتنا قریب بھی ہوں کہ وسائل مؤثر انداز میں استعمال کیے جا سکیں۔‘

اس مسئلے کے حل کے لیے محققین نے کمپیوٹر سیمولیشنز کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ لینڈنگ کے انتظار کے دوران خلائی جہازوں کے درمیان مناسب فاصلہ کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے نیویگیشن میں ممکنہ غلطیوں اور تھرسٹرز سے متعلق مسائل کو بھی مدنظر رکھا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ معمولی اضافی مشقوں اور مداری تبدیلیوں کے ذریعے خلائی جہازوں کو ان کی مقررہ پوزیشنوں کے قریب رکھا جا سکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں خلائی جہازوں کی نقل و حرکت زیادہ قابل پیش گوئی ہو جائے گی اور انہیں مربوط کرنے اور محفوظ رکھنے میں بھی آسانی ہوگی۔

یہ تحقیق ’Cislunar Traffic Management: Orbit Maintenance and Loitering in the Gateway NRHO‘ کے عنوان سے ایک آئندہ شائع ہونے والے مقالے میں پیش کی گئی ہے، جو سائنسی جریدے Acta Astronautica میں شائع ہوگا۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی