امریکہ 20 جولائی 1969 کو چاند پر گیا تھا اور پاکستان وہ ملک ہے جس نے چاند پر قدم رکھنے میں اس کی مدد کی۔ یہ سب کیسے ہوا؟
یہ تمام کہانی ملک کے معروف خلائی سائنس دان طارق مصطفیٰ نے سرکاری ویب سائٹ پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کو انٹرویو میں بتائی ہے۔
امریکہ کے 250 یوم آزادی کے موقعے پر دیے گئے انٹرویو میں طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعد ابھرتے ہوئے سوویت یونین اور جنگ جیتنے والے اتحادی ممالک کے درمیان بڑا مقابلہ تھا۔
سوویت یونین نے چار اکتوبر 1957 کو پہلا مصنوعی سیارہ سپتنک ون خلا میں بھیجا۔ اس کے بعد 12 اپریل 1961 کو سوویت خلا باز یوری گاگرین خلا کا سفر کرنے والے دنیا کے پہلے انسان بنے۔
طارق مصطفیٰ کے مطابق سوویت یونین نے خلائی سپتنک اور یوری گاگرین کو خلا میں بھیج کر مغربی ملکوں کو حیران کر دیا۔ اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے سائنس دانوں کو چیلنج کیا کہ وہ اٹھیں اور کہیں کہ ٹھیک ہے کہ سوویت یونین مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو دیکھتے ہیں کہ چاند پر پہلے کون جاتا ہے؟
طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ اس طرح امریکی اپالو پروگرام شروع ہوا جس کا مقصد انسان کو چاند پر اتارنا اور اسے بحفاظت چاند سے زمین پر واپس لانا تھا۔
ان کے بقول: ’اس مقصد کے لیے امریکہ نے خلائی تحقیق کا ادارہ ناسا قائم کیا۔ امریکہ سائنس دانوں معلوم ہوا کہ پہلے اپالو راکٹ کو زمین کے مدار میں داخل ہو کر رفتار حاصل کرنے کے بعد چاند کی طرف روانہ ہونا تھا۔ اپالو براہ راست چاند پر نہیں جا سکتا تھا۔‘
’اس مقصد کے لیے دنیا بھر کے موسمی حالات اور خاص طور پر بالائی سطح کی فضا کو جاننے کی ضرورت تھی اور یہ کہ راکٹوں کو کس قسم کی ہوا اور کس قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا؟‘
طارق مصطفیٰ کہتے ہیں کہ امریکی سائنس دانوں کو تحقیق سے پتہ چلا کہ بحر ہند کا علاقہ ڈیٹا کا بلیک ہول ہے اور بالائی فضا کے بارے میں بہت کم تفصیلات دستیاب تھیں۔
بحر ہند کے علاقے کی بالائی فضا کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے امریکہ نے پاکستان، انڈیا، کینیا اور جنوبی افریقہ سمیت بحر ہند کے تمام ممالک کو دعوت دی کہ جو بھی ملک راکٹ رینج قائم کرنا چاہتا ہے تو امریکہ اس کے لوگوں کو تربیت میں مدد دے گا لیکن شرط یہ ہو گی کہ ڈیٹا شیئر کیا جائے۔
طارق مصطفیٰ کے مطابق پاکستان نے ناسا کے اپالو چاند مشن میں تعاون کی اپیل کا سب سے پہلے جواب دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 1961 میں صدر ایوب خان امریکہ کے دورے پر گئے۔ ڈاکٹر عبدالسلام مشیر سائنس کی حیثیت سے ان کے ساتھ تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ (طارق مصطفیٰ) پاکستان کے ایٹمی توانائی کمیش کی طرف سے امریکہ کی اوک ریج نیشنل لیبارٹریز میں تھے اور ڈاکٹر عبدالسلام انہیں جانتے تھے۔
طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے انہیں ٹیلی فون کر کے اگلی صبح ناسا میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے کہا۔
’ہم لوگ ڈائریکٹر آفس میں پہنچے۔ 10 بجے اجلاس تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو پنجابی میں بات کرنے کا شوق تھا۔ انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا کہ ’طارق تیرا کی خیال اے؟‘ میری عمر بمشکل 27 سال تھی۔ میرا جواب تھا کہ یہ خواب پورا ہو گا۔‘
طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ پاکستان کراچی سے راکٹ فائر کر کے اس کے ذریعے بحر ہند کی بالائی فضا کے بارے میں معلومات حاصل کر کے ناسا ساتھ شیئر کیں جس سے اسے اپالو مشن کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔
طارق مصطفٰی کے مطابق: ’پاکستان کی طرف داغے گئے راکٹ سے سوڈیم کا اخراج ہونا تھا۔ اس طرح مختلف مقامات پر سوڈیم کے اخراج سے حاصل ہونے والا ڈیٹا امریکہ کے اپالو پروگرام کے لیے استعمال ہوتا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ راکٹ داغنے سے پہلے اگر مون سون بادل کراچی میں آ جاتے تو ایک سال ضائع ہو جاتا جیسا کہ انڈیا کے ساتھ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دن رات کام کیا۔ سات جون، 1962 کی ڈیڈ لائن کو پورا کرنا تھا کیوں کہ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی تھی کہ کراچی میں مون سون کے بادل آسمان پر موجود ہوں گے۔ اس طرح پہلا تجربہ ناکام ہو جانا تھا۔ تجربے کے لیے غروب آفتاب کے وقت آسمان صاف ہونا چاہیے تھا۔ پاکستان کا یہ تجربہ کامیاب رہا۔‘
انہوں نے کہا کہ 60 کی دہائی کے آخر تک امریکہ کا اپالو پروگرام پختہ ہو چکا تھا۔ امریکہ کو صرف ایک راکٹ کے ضیاع برداشت کرنا پڑا اور مشن میں ایک تجربہ ناکام رہا لیکن باقی تمام تجربات کامیاب رہے۔ پہلی بار کوئی انسان چاند پر پہنچا تھا اور یہ انسانیت کی بڑی کامیابی تھی۔
طارق مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ اس موقعے پر امریکیوں نے کھل کر کہا کہ پاکستان جس رفتار سے کام کر رہا ہے وہ حیران رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کبھی یہ توقع نہیں کی تھی کہ ایک ترقی پذیر ملک اس طرح کے معاملے کو سنبھال سکتا ہے۔