دنیا میں امن کے لیے چار اہم اقدام

خلیجی ممالک پر حملے بہت ہو چکے۔ انہیں ایک مضبوط اور متحد دیوار کی مانند کھڑا ہونا چاہیے تاکہ ہر حسد رکھنے والی اور توسیع پسند قوت کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ایک خاتون تین فروری، 2026 کو تہران میں ایک دیوار پر ہوئی پینٹنگ کے پاس سے گزر رہی ہیں جس میں بچوں کو مستقبل کے سائنس دان کے طور پر دکھایا گیا ہے (عطا کینارے / اے ایف پی)

ہم اپنے اردگرد اور پوری دنیا میں مکمل اور خالص امن چاہتے ہیں، لیکن ہم یہ کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟

پہلا: ایران کو چاہیے کہ وہ ’ولایت الفقیہ (اسلامی فقیہ کی ریاست)‘ کے ذریعے دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے اپنے عزائم ترک کرے۔

اسے سمجھنا ہوگا کہ اس کی جانب سے حزب اللہ، حوثیوں اور عراق سمیت دنیا بھر میں موجود اس کے دیگر مسلح گروہوں کی سرپرستی ہی خون ریزی کو جنم دیتی ہے اور ان ہی لوگوں کی جانیں لیتی ہے جنہیں وہ خود مظلوم کہتا ہے۔

اس کے برعکس ایران کو ترقی اور سماجی پیش رفت کے قافلے میں شامل ہو کر دنیا کی دیگر قوموں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

دوسرا: اسرائیل کو اپنے تلمودی عزائم (نظریاتی عزائم) ترک کرنے چاہییں اور فلسطین، شام اور لبنان کی عرب زمینوں پر قبضے اور اپنی خونریز جارحیت کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

یہ درندگی اسرائیل اور اس کے عوام کو دنیا میں تنہا کر چکی ہے، اس کے شہری دوسرے ممالک جانے سے خوف زدہ رہتے ہیں کہ کہیں انہیں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے الزامات میں گرفتار نہ کر لیا جائے۔

آج بھی دنیا کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں افراد، جو فلسطین پر اسرائیلی قبضے کی مذمت کرتے ہیں، اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہیں کہ عالمی برادری اسرائیل کے خونریز اقدامات کو مسترد کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تیسرا: مغرب کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کی پشت پناہی بند کرے، اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاسوں میں تنقید سے بچانا چھوڑ دے اور اسے مالی امداد، اسلحہ اور حتیٰ کہ رضاکار فراہم کرنا بھی بند کرے۔

یہی حمایت، تحفظ اور اسلحہ وہ عوامل ہیں جو اسرائیل کو انسانی اقدار اور خدائی قوانین کو نظرانداز کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

چوتھا: خلیجی تعاون کونسل کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر کسی بھی خلیجی ملک کے کسی بھی فرد — چاہے وہ عوامی شخصیت ہو یا ایک عام شہری — کی توہین یا تضحیک کو جرم قرار دیں۔

خلیجی ممالک کے شہریوں کو بھی ایک دوسرے کے خلاف حملوں اور توہین سے بالاتر ہونا ہو گا۔

مزید برآں، خلیجی ممالک کو کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ دفاعی نظام اپنانا چاہیے۔

خلیجی ممالک پر ہونے والے حملے اب بہت ہو چکے۔ انہیں ایک مضبوط اور متحد دیوار کی مانند کھڑا ہونا چاہیے تاکہ ہر حسد رکھنے والی اور توسیع پسند قوت کا مقابلہ کیا جا سکے۔

جیسا کہ مشہور کہاوت ہے ’تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔‘

پرنس ترکی الفیصل سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ، سابق سفیر، کنگ فیصل فاؤنڈیشن کے بانی و نگران اور کنگ فیصل سینٹر برائے تحقیق و اسلامی مطالعہ کے چیئرمین ہیں۔

الشرق الاوسط سے ترجمہ کیا گیا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ