برطانوی دستاویزی فلم ساز اور ڈائریکٹر جیمی کرافورڈ کا کہنا ہے: ’اگر آپ ’اینا چیپمین‘ کا نام لیں یا کہیں کہ ’وہ سرخ بالوں والی روسی جاسوس والی کہانی‘ تو گذشتہ تقریباً 15 برس کے دوران ہر کسی نے کسی نہ کسی سنسنی سے بھرپور اخبارات میں اس کے بارے میں ضرور پڑھا ہوگا۔‘
’یہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران سامنے آنے والے ان دلچسپ واقعات میں سے ایک ہے جو کچھ عرصے کے لیے عوامی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔
اپنی ذات میں اس کی کہانی شاید دنیا کی تاریخ بدل دینے والی نہ ہو، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مشرق اور مغرب کے درمیان جاری وسیع تر کشمکش کی کہانی میں کیسے فٹ بیٹھتی ہے۔‘
کرافورڈ نئی دستاویزی فلم ’سپائی نیکسٹ ڈور: دی اینا چیپمین سٹوری‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ فلم ایک پرکشش روسی جاسوس اینا چیپمین کی حقیقی کہانی بیان کرتی ہے۔
کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب وہ بیس کی دہائی کی ابتدائی عمر میں برطانیہ میں رہتی تھیں اور پھر نیویارک منتقل ہوئیں، جہاں ایف بی آئی نے انہیں روسی خفیہ ایجنٹوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کے حصے کے طور پر نگرانی میں رکھا۔
کرافورڈ کہتے ہیں ’یہ کہانی کچھ الٹے انداز میں سامنے آتی ہے، کیونکہ 2010 میں روسی جاسوسوں کے خلاف ایف بی آئی کے ایک خفیہ آپریشن کے دوران گرفتاری کے بعد اینا اچانک مختصر عرصے کے لیے عالمی شہرت حاصل کر گئیں۔ پھر بہت جلد یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ جانے سے پہلے وہ برطانیہ میں بھی رہ چکی تھیں۔‘
کہانی کا آغاز برائٹن کے ایک ڈی جے مارکس ریڈ سے ہوتا ہے، جو افریقہ میں چھٹیوں کے دوران ایک نائٹ کلب میں ایک ’انتہائی پُرکشش‘ لڑکی سے ملا تھا۔
یہ لڑکی اینا چیپمین تھیں، جن کی عمر اس وقت 19 برس تھی۔ بعد ازاں وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں مارکس سے ملنے برطانیہ آئیں۔
ریڈ دستاویزی فلم میں کہتے ہیں: ’شروع ہی سے ان کے ساتھ ایک پراسرار سی کیفیت جڑی ہوئی تھی، جو مسلسل محسوس ہوتی رہی۔ مجھے صرف ایک بات واقعی حیران کن لگی جب انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کے جی بی میں تھے۔‘
چیپمین نے برطانیہ میں تقریباً ایک دہائی گزاری، اگرچہ اس موسم گرما کے بعد وہ جلد ہی مارکس ریڈ سے الگ ہوگئیں۔
اس کے بعد ان کی ملاقات برطانیہ کے ایک متمول اور معروف سکول سے تعلیم یافتہ نوجوان ایلکس چیپمین سے ہوئی اور دونوں نے شادی کرلی۔ تاہم چند سال بعد ان کی شادی ختم ہوگئی۔
کرافورڈ بتاتے ہیں ’اس کے بعد یہ نوجوان روسی خاتون، جو واضح طور پر انتہائی ذہین، خوش مزاج اور ملنسار تھی اور برطانوی معاشرے میں بھی خاصی کامیاب تھی، بہت جلد لندن میں روسی حکومت کے بااثر مخالفین کے ساتھ میل جول رکھنے لگی۔‘
’کسی مرحلے پر روسی خفیہ ادارے نے اسے بھرتی کرلیا اور وہ ان کے لیے کام کرنے لگی۔ بعد میں انہیں نیویارک منتقل کیا گیا، جہاں وہ ایف بی آئی کی نظر میں آگئی اور انجانے میں اس بڑے آپریشن کا حصہ بن گئی جو روسی جاسوسوں کی نگرانی کے لیے تقریباً دس برس سے جاری تھا۔‘
بظاہر نیویارک میں 20 سالہ چیپمین کی زندگی ایک آسودہ حال نوجوان خاتون جیسی تھی۔ وہ تقریباً ساڑھے چار ہزار ڈالر ماہانہ کرائے والے اپارٹمنٹ میں رہتی تھیں، دن کے وقت بِکرم یوگا کرتیں، خریداری کرتیں اور شام ہوتے ہی تیار ہوکر ہر رات وی آئی پی کلبوں کا رخ کرتیں۔
لیکن بِکرم یوگا اور ملاقاتوں کے درمیان وہ ماسکو میں موجود اپنے رابطہ کاروں کو معلومات بھی پہنچاتی تھیں۔ کبھی وہ لگژری سٹور ’ساکس سے کاسمیٹکس خریدتے ہوئے ایسا کرتیں تو کبھی سٹاربکس میں بیٹھ کر۔
کرافورڈ کہتے ہیں ’وہ بہت خوبصورت اور انتہائی نمایاں شخصیت کی مالک تھیں۔ لوگوں کے مطابق وہ خاصی شوخ اور دل لبھانے والی بھی تھیں۔ آن لائن ڈیٹنگ کے اس دور میں وہ مختلف لوگوں سے بہت جلد گھل مل جاتی تھیں۔
نیویارک میں جن ایف بی آئی اہلکاروں سے ہم نے بات کی انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بہت کم وقت میں متعدد بوائے فرینڈز اور رابطے بنا لیے تھے۔‘
’وہ کسی کی گرل فرینڈ ہوں یا نہ ہوں، لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا انہیں آتا تھا اور وہ خوش مزاج اور دلکش تھیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں نے ان خوبیوں کو اپنے فائدے کے لیے کیسے استعمال کیا ہو گا۔‘
تاہم کرافورڈ واضح کرتے ہیں کہ اینا چیپمین کو محض ایک ایسی سادہ لوح خوبصورت عورت سمجھنا درست نہیں جو اپنی کشش کو استعمال کرکے لوگوں کو پھانسنے کے لیے بھیجی گئی ہو۔
’میں ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ کوئی سادہ سی ’ہنی ٹریپ‘ جاسوس تھیں۔ وہ تو اس کے بالکل برعکس تھیں۔ میرے خیال میں وہ بہت ذہین، انتہائی مزاحیہ اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والی شخصیت تھیں۔ چاہے وہ کسی سے ڈیٹنگ کرتی ہوں یا نہ کرتی ہوں، میرا خیال ہے کہ وہ ویسے ہی ایسی شخصیت تھیں جن کے ساتھ وقت گزارنا لوگوں کو پسند آتا ہوگا۔‘
اینا چیپمین، جو اب دوبارہ روس میں مقیم ہیں، نے چینل 4 کی دستاویزی فلم کا حصہ بننے سے انکار کردیا، تاہم فلم کی تیاری کے دوران کرافورڈ نے ان سے فون پر بات کی۔
ان کے مطابق ’وہ خوش مزاج، دلچسپ اور واضح طور پر انتہائی ذہین تھیں۔‘
کرافورڈ نے مزید کہا کہ یہی کشش اینا چیپمین کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ اس کی مدد سے وہ بااثر لوگوں کے قریب پہنچتی، نئے روابط بناتی اور پھر یہ معلومات روسی خفیہ ادارے تک پہنچاتی تھیں۔
لیکن دلکش شخصیت جاسوسوں کی ایک روایتی خصوصیت ہونے کے باوجود اینا چیپمین ماضی کے جاسوسوں سے کافی مختلف تھیں۔
کرافورڈ وضاحت کرتے ہیں کہ ’جاسوسی کے طریقے وقت کے ساتھ بدل گئے ہیں۔‘
ان کے مطابق 1980 کی دہائی تک روسی جاسوسوں کو اپنے ملک میں برسوں تربیت دی جاتی تھی، پھر انہیں تیسرے ممالک میں بھیجا جاتا تھا جہاں وہ ایک فرضی شناخت اور ماضی تیار کرتے، اس کے بعد ہدف ملک میں داخل ہوتے۔
’ان کا مقصد کئی برس تک اس ملک میں گھس کر کام کرنا، ممکنہ طور پر پوری زندگی وہیں گزارنا اور پرانے طرز کی جاسوسی کے دور میں وقفے وقفے سے چھوٹی چھوٹی معلومات واپس بھیجنا ہوتا تھا۔‘
اس کے برعکس امکان ہے کہ اینا چیپمین کو برطانیہ میں قیام کے دوران ہی بھرتی کیا گیا، انہیں محدود تربیت دی گئی اور انہوں نے ہمیشہ اپنا اصل نام استعمال کیا۔
کرافورڈ کہتے ہیں ’وہ جاسوسوں کی ایک نئی نسل کا حصہ ہیں۔ وہ کسی اور شخص کا روپ دھارنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ اپنے ہی خاندانی نام اور اپنی ہی کہانی کے ساتھ کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ جب ہر شخص کا ایک ڈیجیٹل ماضی موجود ہو تو جعلی تاریخ بناینا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ آپ کے اپنے فیس بک فوٹوز، انسٹاگرام یا کسی اور پلیٹ فارم پر موجود ریکارڈ کو کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟‘
اینا چیپمین 2000 کی دہائی میں سرگرم جاسوس تھیں اور 2010 میں بیس کی دہائی کے آخری برسوں میں انہیں مزید نو روسی جاسوسوں کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا۔
کرافورڈ کہتے ہیں کہ وہ دور شاید ایک عبوری مرحلہ تھا، جبکہ آج ہم ’گیگ اکانومی‘ طرز کی جاسوسی کے دور میں داخل ہوچکے ہیں، جہاں لوگوں کو آن لائن بھرتی کیا جاتا ہے، انہیں خاصی رقم دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ جاکر کسی چیز کو آگ لگا دو یا کسی طرح کی افراتفری پیدا کرو۔
وہ اینا چیپمین کو ایک طرح کی انفلوئنسر قرار دیتے ہیں۔
’اگر ان کی کہانی آج سامنے آتی تو وہ بالکل یہی ہوتیں اور اگر انسٹاگرام اور ٹک ٹاک اس وقت موجود ہوتے تو وہ انہیں ضرور استعمال کرتیں۔‘
کرافورڈ کے مطابق آج روس کے جاسوس بھی اسی طرز کے ہیں، نوجوان جن کے ٹک ٹاک اکاؤنٹس اور انسٹاگرام پروفائلز ہیں اور جو کسی بھی دوسری چیز کے مقابلے میں سنیپ چیٹ زیادہ استعمال کرتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’جدید دور میں جاسوسی کے اس طریقہ کار کو دیکھنا اور یہ سمجھنا واقعی دلچسپ تھا کہ جاسوسی کا مقصد لازماً جوہری راز چراینا نہیں ہوتا، بلکہ زیادہ اہم چیز کسی معاشرے میں گھسنا اور اثر و رسوخ پیدا کرنا ہے۔‘
کرافورڈ نے اینا چیپمین کی کہانی کو اب پیش کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ یہ ہمارے دور کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
2000 کی دہائی کے آغاز میں برطانیہ اور امریکہ روس اور ولادی میر پوتن کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط بنانے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔
کرافورڈ کہتے ہیں ’ہمیں ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ روس، روس ہی ہے اور وہ بالکل مختلف سوچ کے تحت کام کرتا ہے، اور یہ کہ پوتن روس کو اس کے ماضی کی سامراجی حیثیت کی جانب واپس لے جانے پر تلے ہوئے ہیں۔‘
’ایک طرح سے آج ہم اس کہانی کے دوسرے سرے پر کھڑے ہیں، جہاں وہی کچھ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، چاہے اس میں کامیابی حاصل ہو رہی ہو یا نہیں۔‘
اینا چیپمین اس لحاظ سے خوش قسمت رہیں کہ امریکہ نے روس کے ساتھ جاسوسوں کے تبادلے پر اتفاق کیا۔ امریکہ نے روس کے پکڑے گئے 10 جاسوسوں کے بدلے چار ایسے روسیوں کو حاصل کیا جن پر امریکہ یا برطانیہ کے لیے کام کرنے یا ان کے مفادات کے لیے سرگرم ہونے کے الزامات تھے۔
ان چار افراد میں سرگئی سکریپل بھی شامل تھے، جو بعد میں اس وقت عالمی شہ سرخیوں کا حصہ بنے جب انہیں اور ان کی بیٹی یولیا کو برطانیہ کے شہر سالزبری میں اعصابی زہر نوویچوک سے زہر دینے کی کوشش کی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کرافورڈ کہتے ہیں: ’اس دور کی بڑی جغرافیائی سیاسی کہانی کے ساتھ جاسوسی کی اس زمینی سطح کی کہانی کو جوڑنا اور اپنے قدم پیچھے لے جاکر یہ سمجھنے کی کوشش کرنا بہت دلچسپ تھا کہ ہم آج جہاں کھڑے ہیں وہاں کیسے پہنچے۔‘
’یہ دیکھنا بھی بہت دلچسپ ہے کہ جاسوس اس پورے نظام کا حصہ کیسے بنتے ہیں، کیونکہ آپ بیرون ملک کسی شخص کو اس وقت تک قتل نہیں کرسکتے جب تک ان ممالک میں موجود جاسوسوں سے وہ معلومات واپس نہ آئیں جو آپ کو یہ بتائیں کہ وہ شخص کہاں رہتا ہے، اس کے معمولات کیا ہیں اور اس طرح کی دوسری تفصیلات کیا ہیں۔‘‘
چیپمین کے لیے جاسوس بننا بظاہر خاصا فائدہ مند ثابت ہوا۔
روس واپسی پر ان کا ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا اور وہ بہت جلد ایک سیلیبریٹی بن گئیں۔ وہ فیشن شوز میں نظر آئیں، ان کا اپنا ٹی وی پروگرام آیا اور مختلف رسائل کے فوٹو شوٹس کا حصہ بنیں۔
کرافورڈ کہتے ہیں ’انہوں نے اپنی زندگی میں بہت کامیابی حاصل کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب وہ خود کو ایک کاروباری شخصیت سمجھتی ہوں گی۔‘
کرافورڈ کو امید ہے کہ ان کی دستاویزی فلم ناظرین کو اینا چیپمین کی کہانی کی تفصیلات دوبارہ یاد دلانے کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے زمانے پر غور کرنے کا موقع بھی دے گی۔
وہ کہتے ہیں ’میرے خیال میں یہ اس بات کا ایک دلچسپ عکس ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران روس کے ساتھ ہمارے تعلقات کس طرح تبدیل ہوئے ہیں۔ ہم اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں اگلے چند برسوں میں حالات کس سمت جائیں گے، یہ دیکھنا اہم ہوگا۔‘
ان کے بقول ’میرے خیال میں اس کہانی کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران روس اور مغرب کے تعلقات کی ایک بہت بڑی تصویر کو سمجھنے کے لیے ایک چھوٹی سی کھڑکی فراہم کرتی ہے۔‘
’سپائی نیکسٹ ڈور: دی اینا چیپمین سٹوری‘ بدھ اور جمعرات کو رات 9 بجے چینل فور پر نشر کی جائے گی۔
© The Independent