امریکہ میں جعلی ڈاک لیبلز کا الزام، پاکستانی شہری کی گرفتاری پر ایک لاکھ ڈالر انعام

پنجاب کے ضلع خانیوال سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ فہیم اکرم پر پر گذشتہ ماہ فلوریڈا کی وفاقی گرینڈ جیوری نے فرد جرم عائد کی تھی۔ ان پر امریکی محکمہ ڈاک کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس کی جانب سے جعلی ڈاک لیبلز فروخت کرنے کے الزام میں ایک ڈومین ضبط کیے جانے سے متعلق قانونی نوٹس سمارٹ فون پر دکھائی دے رہا ہے، یہ تصویر 23 ستمبر 2026 کو جاری کی گئی (امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس/فیس بک پیج)

امریکی حکام ایک پاکستانی شخص کو تلاش کر رہے ہیں جس پر جعلی ڈاک ٹکٹوں اور ترسیلی لیبلز کا کاروبار چلانے کا الزام ہے، جس کے نتیجے میں امریکی محکمہ ڈاک کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔

حکام نے اس کی گرفتاری اور سزا دلوانے کا باعث بننے والی معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر تک انعام کی پیشکش کی ہے۔

پاکستانی صوبے پنجاب کے ضلع خانیوال سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ فہیم اکرم پر گذشتہ ماہ فلوریڈا کی وفاقی گرینڈ جیوری نے فرد جرم عائد کی تھی۔

امریکی استغاثہ کے مطابق وہ لیبلز بینک ڈاٹ کام (LabelsBank.com) نامی ویب سائٹ چلاتا تھا، جس کے ذریعے ہزاروں صارفین کو 51 لاکھ سے زیادہ جعلی ترسیلی لیبلز فروخت کیے گئے۔ حکام نے ویب سائٹ قبضے میں لے کر بند کر دی ہے۔

امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس، جو امریکی ڈاک کے نظام سے متعلق جرائم کی تحقیقات کرنے والا وفاقی قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے، نے اب فہیم اکرم کے لیے تلاش کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک لاکھ ڈالر انعام کی پیشکش کی ہے۔ ادارے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ خود اسے پکڑنے کی کوشش نہ کریں۔

امریکی اٹارنی جیسن ریڈنگ کوئینونز نے پیر کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا: ’ہم نے اس کی ویب سائٹ بند کر دی ہے۔ اب ہمیں اسے تلاش کرنے میں آپ کی مدد درکار ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اگر آپ جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہے تو پوسٹل انسپکٹرز کو اطلاع دیں۔‘

یہ تازہ اعلان گذشتہ ماہ جنوبی ضلع فلوریڈا کے امریکی اٹارنی کے دفتر کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق اس سکیم کے ذریعے صارفین امریکی محکمہ ڈاک کے ذریعے حقیقی لاگت کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر پیکجز بھیج سکتے تھے۔

محکمہ انصاف کی جانب سے حوالہ دیے گئے عدالتی ریکارڈ کے مطابق فہیم اکرم لیبلز بینک ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ چلاتا تھا، جہاں مبینہ طور پر جعلی امریکی ڈاک ایک مقررہ قیمت پر فروخت کی جاتی تھی۔

عام طور پر پیکج کے وزن، حجم یا منزل سے قطع نظر ہر لیبل کی قیمت دو ڈالر رکھی جاتی تھی۔ ویب سائٹ کو امریکی محکمہ ڈاک کی مصنوعات یا خدمات فروخت کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پوسٹل انسپکٹرز نے بتایا کہ پانچ ہزار سے زیادہ صارفین نے ویب سائٹ کے ذریعے 51 لاکھ سے زائد جعلی لیبل خریدے۔ یہ پیکجز انتہائی رعایتی نرخوں پر بھیجے جانے کے باعث اس کارروائی سے محکمہ ڈاک کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی آمدنی اور ترسیلی اخراجات کا نقصان ہونے کا الزام ہے۔

فہیم اکرم کو امریکہ کو دھوکہ دینے اور جعلی ڈاک ٹکٹ بنانے اور فروخت کرنے کی سازش کے ایک الزام، جعلی ڈاک کے لیبل بنانے اور فروخت کرنے کے پانچ الزامات اور الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے فراڈ کے چار الزامات کا سامنا ہے۔

محکمہ انصاف کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں سازش اور جعلی ڈاک سے متعلق الزامات پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے فراڈ کے ہر الزام پر 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

فرد جرم میں الزامات عائد کیے گئے ہیں اور جرم ثابت ہونے تک فہیم اکرم کو بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

اس معاملے کی تحقیقات پوسٹل انسپیکشن سروس کا میامی ڈویژن کر رہا ہے۔

امریکی حکام نے اپنے عوامی بیانات میں یہ نہیں بتایا کہ فہیم اکرم اس وقت کہاں موجود ہے جبکہ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس کے بارے میں معلومات رکھنے والے افراد پوسٹل انسپکٹرز سے رابطہ کریں اور تفتیش کاروں کو فراہم کی جانے والی معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ