سید عبدالجبار: ایک گھنا سایہ دار درخت

ان کے لیے ریڈیو کی طاقت صرف آواز، مائیکروفون اور نشریات میں نہیں تھی بلکہ اس صلاحیت میں تھی کہ ایک اچھی آواز، معیاری مکالمہ، بامقصد ڈراما یا دل نشیں پروگرام دور بیٹھے سامع کے دل تک پہنچے۔

سید عبدالجبار مرحوم کی ایک یادگار تصویر (مسعود جبار)

کچھ سائے زندگی بھر ساتھ رہتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت ان کی موجودگی میں شاید پوری طرح محسوس نہیں ہوتی، لیکن جب وہ آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں تو زندگی کے بہت سے معنی بدل جاتے ہیں۔ باپ بھی ایسا ہی ایک رشتہ ہے۔

باپ گھر کا اعتماد، تحفظ، دعا، رہنمائی اور خاموش طاقت ہوتا ہے اس کی موجودگی میں زندگی کی دھوپ اتنی سخت محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ کوئی ہے جو مشکل وقت میں راستہ نکالے گا، کوئی ہے جو ہماری فکر کرتا ہے۔

میرے والد سید عبدالجبار مرحوم میرے لیے صرف والد نہیں تھے وہ ایک سایہ دار درخت تھے۔ ان کی شخصیت کی وسعت صرف گھر اور خاندان تک محدود نہیں تھی بلکہ دوستوں، ساتھیوں، اہلِ ادب، اہلِ فن اور ریڈیو سے وابستہ افراد تک پھیلی ہوئی تھی۔

دنیا انہیں ایک قابل پروڈیوسر، تجربہ کار براڈکاسٹر اور ریڈیو کے شعبے سے وابستہ ایک باصلاحیت شخصیت کے طور پر جانتی تھی، لیکن میرے لیے وہ ان سب حوالوں سے کہیں زیادہ  بڑھ کر تھے۔

میں نے انہیں سب سے پہلے ایک ذمہ دار باپ کے روپ میں دیکھا۔ ان کے نزدیک محنت عزت تھی، حلال رزق زندگی کی بنیاد تھا اور کردار انسان کی سب سے بڑی پہچان، وہ بڑے فلسفیانہ جملے یا طویل نصیحتیں نہیں کرتے تھے، مگر ان کی سادہ اور بامعنی باتوں میں زندگی کے بڑے اصول چھپے ہوتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ انسان اپنے الفاظ اور اپنے کام سے پہچانا جاتا ہے۔

 

وقت انسان کا سب سے بڑا استاد ہے وقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ جن باتوں کو کبھی سختی سمجھا تھا، ان کے پیچھے محبت، فکر اور تحفظ کا جذبہ پوشیدہ تھا۔ باپ اولاد کے لیے ہمیشہ آسان راستہ نہیں چنتا وہ اسے مضبوط راستہ اختیار کرنا سکھاتا ہے۔ وہ مشکلات کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا، لیکن اولاد کو مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل ضرور بناتا ہے۔

ریڈیو پشاور سے تخلیقی وابستگی

میرے والد سید عبدالجبار مرحوم ریڈیو پاکستان کے پروگرام شعبے سے وابستہ تھے۔ ریڈیو پشاور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اہم اور روشن باب تھا۔ انہوں نے ریڈیو کو صرف روزگار یا ملازمت کی جگہ نہیں سمجھا بلکہ اسے عوام سے رابطے، فن و ادب کی ترویج، ثقافتی شناخت کے اظہار اور تخلیقی خدمت کا ذریعہ سمجھا۔

ان کے لیے ریڈیو کی طاقت صرف آواز، مائیکروفون اور نشریات میں نہیں تھی بلکہ اس صلاحیت میں تھی کہ ایک اچھی آواز، معیاری مکالمہ، بامقصد ڈراما یا دل نشیں پروگرام دور بیٹھے سامع کے دل تک پہنچے۔ انہوں نے یادگار اور تاریخی ڈراموں کی پروڈکشن میں شان دار اور منفرد مقام حاصل ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے پروڈیوس کردہ پروگراموں نے ریڈیو پشاور کی شناخت کو مضبوط کیا۔ ’جشنِ بہاراں‘ جیسے پروگراموں کے ذریعے ملک بھر کے فن کاروں اور سامعین کے درمیان ایک خوب صورت رابطہ قائم ہوا ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں فن، ادب، موسیقی، ثقافت اور عوامی دلچسپی کے عناصر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔

طنز و مزاح بھی ان کے تخلیقی ذوق کا ایک نمایاں پہلو تھا جمعراتی کے عنوان سے طنز و مزاح کے پروگرام اور اس میں شامل کرداروں کی تشکیل سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ جانتے تھے کہ معاشرتی مسائل کو صرف سنجیدہ لہجے میں نہیں، مسکراہٹ اور فکری انداز کے ساتھ بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔

میرا پی ٹی وی میں انجینئر کی حیثیت سے وابستگی اور نشریاتی دنیا سے میرا تعلق محض پیشہ نہیں بلکہ میرے والد کی تربیت اور ان کے اثرات کا تسلسل بھی ہے۔ ان کی تربیت نے مجھے یہ سمجھایا کہ نشریاتی ادارے میں ہر فرد کی ذمہ داری اہم ہوتی ہے۔ مائیکروفون کے پیچھے بولنے والا فن کار ہو، پروگرام تیار کرنے والا پروڈیوسر ہو، خبر مرتب کرنے والا شخص ہو یا تکنیکی شعبے سے وابستہ انجینئر ہر فرد کی محنت مل کر ایک معیاری نشریات کو ممکن بناتی ہے۔

میں نے اپنے والد سے سیکھا کہ کام کو صرف ڈیوٹی سمجھ کر انجام نہیں دینا چاہیے بلکہ اسے امانت سمجھنا چاہیے۔ وقت کی پابندی، ذمہ داری کا احساس، اپنے شعبے میں مہارت، ساتھیوں کا احترام اور ادارے کی ساکھ کو مقدم رکھنا یہ سب وہ اصول ہیں جو میں نے ان کی زندگی سے سیکھے۔ ان کا ایک اہم سبق یہ بھی تھا کہ تکنیکی مہارت یا پیشہ ورانہ قابلیت تب ہی مکمل ہوتی ہے جب اس کے ساتھ اخلاق، تحمل اور انسان دوستی بھی شامل ہو۔ کسی ادارے میں صرف اچھا کام کرنا کافی نہیں، اچھا انسان بن کر کام کرنا بھی ضروری ہے۔

نقشِ قدم

میری چھوٹی بہن سیدہ عفت جبار نے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ کامیابی صرف مواقع ملنے سے نہیں آتی بلکہ مسلسل محنت، علم سے وابستگی، ذمہ داری کے احساس اور اپنے مقصد کے ساتھ سچی وفاداری سے حاصل ہوتی ہے۔ سیدہ عفت جبار نے ریڈیو پاکستان پشاور کی 90 سالہ تاریخ کی پہلی خاتون کنٹرولر اور سٹیشن ڈائریکٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

میرے والد کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور خاندانی فرائض میں ایک خوب صورت توازن قائم رکھا ادارے میں وہ ایک ذمہ دار، باوقار اور قابل پروفیشنل تھے، مگر گھر آتے ہی عہدہ پیچھے رہ جاتا تھا اور رشتہ سامنے آ جاتا تھا۔

بڑی میراث

میں سمجھتا ہوں کہ میرے والد کی سب سے بڑی دولت ان کا کردار تھا۔ انہوں نے شاید ہمارے لیے محلات یا خزانے نہیں چھوڑے، لیکن وہ اقدار ضرور چھوڑ گئے جو ہر مادی دولت سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔

میرے والد کے مزاج میں ادب، فن اور ثقافت کے لیے گہری دل چسپی موجود تھی اہلِ ادب، شعرا، فن کاروں اور تخلیقی شخصیات کے ساتھ ان کے روابط ان کے وسیع مطالعے، نفیس ذوق اور ثقافتی شعور کی گواہی دیتے تھے۔

فیض احمد فیض ،احمد فراز، خاطر غزنوی، فارغ بخاری، رضا ہمدانی، محسن احسان اور طہٰ خان جیسے ادبی و فنی حلقوں سے ان کی وابستگی اس عہد کی ادبی اور ثقافتی فضا سے ان کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن ان تمام حوالوں سے بڑھ کر ان کی شخصیت کا سب سے خوب صورت وصف یہ تھا کہ وہ لوگوں کو عزت دیتے تھے۔

والد کی جدائی کے بعد انسان کو بہت سی ایسی چیزوں کا احساس ہوتا ہے جو ان کی زندگی میں کبھی پوری طرح محسوس نہیں ہوئیں۔ گھر وہی ہوتا ہے، کمرے وہی ہوتے ہیں، راستے وہی ہوتے ہیں، شہر وہی رہتا ہے، مگر ایک آواز کہیں کھو سی جاتی ہے اور بعض آوازیں ایسی ہوتی ہیں جن کے خاموش ہو جانے سے پورا گھر بدل جاتا ہے باپ کے جانے سے صرف ایک شخص کم نہیں ہوتا، گویا ایک پورا عہد خاموش ہو جاتا ہے۔

میرے والد سید عبدالجبار دنیا سے رخصت ہو ئے کئی برس گزر گئے، مگر میرے لیے وہ کبھی رخصت نہیں ہوئے وہ میری یادوں میں ہیں، میرے دل میں ہیں، میری سوچ میں ہیں اور میری زندگی کے ان فیصلوں میں ہیں جہاں آج بھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ قریب بیٹھے خاموشی سے کہہ رہے ہیں: ’بیٹا، انسان وہی ہے جو اپنے کردار سے پہچانا جائے۔‘

مصنف پی ٹی وی پشاور میں انجینئر ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی گھر