مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کون ہیں؟

پانچ اکتوبر کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کی بطور سیکریٹری جنرل تین سالہ مدت کے لیے تقرری کی گئی۔

پانچ اکتوبر 2026 کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کی تین سالہ مدت کے لیے تقرری کی گئی (ویڈیو سکرین گریب/ پاکستانی دفتر خارجہ ایکس اکاؤنٹ)

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان قائم ہونے والا مکہ دفاعی اتحاد اب اپنے ابتدائی ادارہ جاتی مرحلے سے نکل کر عملی دفاعی تعاون کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ہیں۔

پانچ اکتوبر کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کی تین سالہ مدت کے لیے تقرری کی گئی۔ اجلاس میں تینوں ممالک نے ان کی تقرری کا خیرمقدم کیا اور اتحاد کے مقاصد آگے بڑھانے میں ان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے رواں برس اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے الگ دوطرفہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد سامنے آیا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کا کردار کیا ہوگا؟

مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ریاض میں قائم ہونے والے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے۔ پاکستان کو ابتدائی تین سال کے لیے سیکریٹری جنرل نامزد کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

ان کی بنیادی ذمہ داری اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو فعال بنانا، تینوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری کو منظم کرنا اور معاہدے کے تحت طے شدہ دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے میں مدد فراہم کرنا ہوگی۔

دوسرے لفظوں میں، نعمان محمود کا کردار صرف انتظامی سربراہ کا نہیں ہوگا بلکہ وہ اتحاد کے ابتدائی ڈھانچے اور طریقۂ کار کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ہیں کون؟

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود نے ستمبر 1987 میں بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ، مصر کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلیم حاصل کی جبکہ وار سٹڈیز میں ماسٹرز بھی کیا۔

ان کے کیریئر کا ایک اہم حصہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے مختلف تدریسی ذمہ داریاں ادا کیں اور بعد میں چیف انسٹرکٹر بھی رہے۔

میجر جنرل کے عہدے پر نعمان محمود نے شمالی وزیرستان میں انفنٹری ڈویژن کی کمان کی، جہاں پاکستانی فوج دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھی۔

بعد ازاں وہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اینالیسس ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے۔ اس عہدے پر ان کی ذمہ داریوں میں عالمی اور علاقائی پیش رفت کا قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے تجزیہ شامل تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ تجربہ ان کے موجودہ کردار کے حوالے سے اس لیے بھی اہم سمجھا جا سکتا ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد میں مختلف ممالک کے درمیان سکیورٹی رابطہ کاری اور علاقائی صورت حال کا تجزیہ اہم ہوگا۔

اپریل 2019 میں انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ اسی سال دسمبر میں انہوں نے پشاور میں الیون کور کی کمان سنبھالی۔

ان کی بطور کور کمانڈر تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی جب افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی تیاری جاری تھی، پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا عمل آگے بڑھا رہا تھا اور مغربی سرحد کی سکیورٹی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی۔

نومبر 2021 میں الیون کور کی کمان چھوڑنے کے بعد نعمان محمود کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا صدر مقرر کیا گیا۔ وہ اس ادارے کے 35ویں سربراہ تھے اور اپریل 2023 میں فوج سے ریٹائرمنٹ تک اس عہدے پر فائز رہے۔

یوں ان کے فوجی کیریئر میں فیلڈ کمانڈ کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس، سٹریٹجک تجزیے اور قومی سلامتی کی تعلیم کا تجربہ بھی شامل رہا۔

لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کی تین سالہ مدت کے نئی ذمہ داری میں ان کا بنیادی چیلنج ایک ایسے اتحاد کا ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا جو سیاسی فیصلوں کو عملی دفاعی تعاون میں تبدیل کر سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان