'ایسے ہی کام جاری رکھیں': پوتن کی روسی جاسوس ایجنسی کو شاباش

صدر ولادی میر پوتن کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس کی ایس وی آر فارن انٹیلی جنس ایجنسی پر امریکی حکومت کے کئی محکموں کو ہیک کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

صدر  ولادی میر  پوتن کا کہنا تھا کہ کاؤنٹر انٹیلی جنس ایجنسیز کے کام میں جدت لانا بہت اہم ہے (تصویر: روئٹرز)

روسی صدر ولادی میر پوتن نے بیرون ملک کام کرنے والی روس کی جاسوسی ایجنسی کو ملکی حفاظت کے لیے بہت اہم قرار دیتے ہوئے اس کی خدمات کو سراہا ہے۔

روس کی ایس وی آر فارن انٹیلی جنس ایجنسی کے سو سال پورے ہونے پر منقعد کی جانے والی تقریب میں پوتن کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ اور دوسرے سکیورٹی سروس کے ادارے روس کی 'خود مختاری، جمہوریت اور آزادانہ ترقی' کے اہم ضامن ہیں۔

صدر پوتن کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی خفیہ ایجنسی پر امریکی حکومت کے کئی محکموں کو ہیک کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کچھ بین الااقوامی سائبر ریسرچرز کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے ہونے والی ہیکنگ کی کارروائی، جس میں امریکی حکومت کے کئی محکموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، کے پیچھے روس کی ایجنسی ایس وی آر کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

جمعے کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ اس حملے کا ذمہ روس ہے جبکہ روسی محکمہ دفاع کریملن کی جانب سے مغرب کے خلاف ہونے والے سائبر حملوں میں روس کے ملوث ہونے کی تردید کی گئی ہے۔

تقریب سے خطاب میں پوتن کا کہنا تھا کہ کاؤنٹر انٹیلی جنس ایجنسیز کے کام میں جدت لانا بہت اہم ہے۔ اس دن کو سکیورٹی سروس ورکرز کے دن کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابقہ کے جی بے ایجنٹ پوتن کا کہنا تھا: 'میں جانتا ہوں کہ میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں، میں مکمل کیے گئے پیشہ ورانہ آپریشنز کو بہت مشکل مانتے ہوئے ان کی قدر کرتا ہوں۔ ہمیں انفارمیشن سکیورٹی پر بہت توجہ دینی ہوگی تاکہ انتہا پسندی اور بدعنوانی کے خلاف لڑا جا سکے۔'

انہوں نے ایجنسی کو ملکی سرحدوں کے قریب جاری تنازعات سے لاحق خطرات پر خصوصی توجہ دینے کا بھی کہا۔

صدر پوتن کا مزید کہنا تھا کہ 'میں فارن انٹیلی جنس سروس سے امید کرتا ہوں کہ وہ بین الااقوامی تناظر میں لچک کے ساتھ رد عمل دینے، روس کو لاحق ممکنہ خطرات کو ختم کرنے اور تجزیاتی مواد کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا