اسلام آباد پولیس نے ہفتے کو بتایا ہے کہ ترلائی کے ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد میں ہونے والے دھماکے کے بعد مبینہ خودکش حملہ آور کے دو بھائیوں اور بہنوئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ ’حملہ آور کا نام یاسر ہے جو گذشتہ برس مئی میں افغانستان‘ گیا تھا۔
دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں جمعہ کو امام بارگاہ سے متصل مسجد قصر خدیجۃ الکبریٰ میں خود کش حملہ ہوا جس میں حکام کے مطابق 31 افراد جان سے گئے جبکہ 170 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس واقعے کے بعد ہفتے کو مرنے والوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ہفتے کو اسلام آباد میں علما کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی مسجد میں دھماکے کے سہولت کاروں کے حوالے سے کافی حد تک پیش رفت ہوئی ہے۔‘
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور بہت جلد عوام کو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ حملہ آور افغانستان گیا تھا اور وہاں ٹریننگ لی۔‘
اس حوالے سے اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی کہ مبینہ حملہ آور کے دو بھائی ناصر اور بلال جبکہ بہنوئی عثمان کو پشاور کے علاقے ترناب فارم سے گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ ’دہشت گرد یاسر مسلسل اپنے بہنوئی عثمان کے ساتھ رابطے میں تھا اور یہ کارروائی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ سہولت کاری کے منظم نیٹ ورک کا نتیجہ تھی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ ’خودکش حملہ آور گذشتہ برس مئی میں افغانستان گیا تھا اور اگلے ماہ جون میں واپس آیا، اس دوران اس نے جون میں باجوڑ میں نئی سم ایکٹیویٹ کی۔
’27 جون سے اکتوبر تک دہشت گرد یاسر باجوڑ میں مقیم رہا اور بعد ازاں وہ حکیم آباد، نوشہرہ منتقل ہو گیا۔‘
اسلام آباد پولیس اہلکار نے کہا کہ ترلائی حملے سے جڑے دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کے بارے میں معلومات بعد میں شیئر کی جائیں گی۔
’ان افراد کو راولپنڈی، کراچی، نوشہرہ اور پشاور سے گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم خودکش حملہ آور کی والدہ کی اسلام آباد سے گرفتاری کی خبر میں صداقت نہیں ہے۔‘
دوسری جانب نوشہرہ پولیس کے ترجمان تُرک علی شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ جمعے کی شب اسلام آباد حملے سے جڑے شدت پسندوں کے خلاف چھاپے کے دوران ایک پولیس اہلکار جان سے گیا جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔
تُرک علی شاہ نے بتایا کہ چھاپے کے دوران اے ایس آئی اعجاز خٹک جان سے گئے جبکہ اے ایس آئی امان شیر اور کانسٹیبل حضرت علی زخمی ہوئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ریاست پاکستان اور وزیراعظم کی طرف سے میں یقین دلاتے ہیں کہ مساجد اور امام بارگاہوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
’اصل مقصد ان دہشت گردوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے، فرقہ واریت اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘