پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کو بتایا ہے کہ ترلائی مسجد میں ہونے والے بم حملے کے چار سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کی شام اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا گذشتہ رات تین بجے تک اس واقعے سے جڑے لوگ اور ماسٹر مائنڈ پکڑے جا چکے تھے۔
اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں جمعہ کو امام بارگاہ سے متصل مسجد قصر خدیجۃ الکبریٰ میں خود کش حملہ ہوا تھا جس میں حکام کے مطابق 31 افراد جان سے گئے جبکہ 170 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس واقعے کے بعد ہفتے کو مرنے والوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس واقعے کے بعد ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’دھماکے کے فوراً بعد پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے گئے جن میں چار سہولت کار پکڑے گئے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے خیبرپختونخوا کے انسداد دہشت گردی کے ادارے (سی ٹی ڈی) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’سی ٹی ڈی کے پی کے کی مدد سے اس واقعے سے جڑے تمام لوگوں اور ماسٹر مائنڈ کو رات 3 بجے تک پکڑے جا چکے تھے۔‘
محسن نقوی نے مزید کہا کہ ’سب سے اچھی بات یہ ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا داعش کا ماسٹر مائنڈ بھی پکڑا گیا ہے۔
’مرکزی ماسٹر مائنڈ جس کا تعلق داعش سے ہے وہ ہماری حراست میں ہے۔‘
وزیر داخلہ کے مطابق ’اس سارے واقعے کی منصوبہ بندی اور ٹریننگ داعش افغانستان نے کی ہے اور افغانستان کے اندر ہوئی ہے۔‘
اس سے قبل اسلام آباد پولیس نے ہفتے انڈپینڈنٹ اردو کو تصدیق کی تھی کہ ترلائی کے ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد میں ہونے والے دھماکے کے بعد مبینہ خودکش حملہ آور کے دو بھائیوں اور بہنوئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ ’حملہ آور کا نام یاسر ہے جو گذشتہ برس مئی میں افغانستان‘ گیا تھا۔